جئے پور : راجستھان کی ایک عدالت نے ممنوعہ تنظیم سیمی (اسٹوڈنٹ اسلامک موؤمنٹ آف انڈیا) سے وابستہ 12 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ سال 2014 ء میں دہشت گردی کے اِس کیس میں ایک ملزم کو ثبوتوں کی عدم موجودگی کی بناء رہا کردیا گیا۔ اے ٹی ایس اور ایس او جی نے سال 2014 ء میں انجینئرنگ کے 13 طلبہ کے خلاف غیرقانونی سرگرمیاں قانون اور دھماکہ خیز مادہ سے متعلق قانون کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات کے حوالہ سے سیمی پر امتناع عائد کردیا گیا ہے۔سیمی کے کارکنوں کے خلاف گزشتہ 7 سال سے ضلع کی عدلت میں مقدمہ چل رہا تھا ۔ عدالت نے جس نوجوان کو رہا کیا وہ مشرف اقبال کے فرزند چھوٹو خان ہیں۔ وہ جودھپور کے رہنے والے ہیں۔ 13 مشتبہ افراد کو راجستھان کے مختلف علاقوں میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ ان پر الزام ہے کہ وہ راجستھان میں دہشت گرد کارروائیاں انجام دینے کیلئے بم سازی جیسی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں