ممبرا میں گستاخ رسول ملعونہ نو پور شرما کے خلاف علمائے اہلسنت کی میٹنگ ملعونہ کو فوراً گرفتار کرکے سزا دی جائے ورنہ علماء روڈ پ ر اترکر احتجاج کریں گے اور جیل بھرو اندولن کریں گے

ممبرا میں گستاخ رسول ملعونہ نو پور شرما کے خلاف علمائے اہلسنت کی میٹنگ
ملعونہ کو فوراً گرفتار کرکے سزا دی جائے ورنہ علماء روڈ پر اترکر احتجاج کریں گے اور جیل بھرو اندولن کریں گے
تھانے (آفتاب شیخ)
ممبرا شیل پھاٹا پر واقع دارالعلوم مخدوم سمنانی میں علمائے اہلسنت ودانشوران کی گستاخ رسول ملعونہ نوپور شرما کے خلاف ایک میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں موجود سبھی علمائے کرام نے اپنے دین جزبات کا اظہار کیا اور مولانا جمال احمد صدیقی اشرفی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ نوپورشرما جیسے لوگ وطن عزیز میں محسن انسانیت حضور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں کھلے عام گستاخی کرکے ہمارے ایمان کو ٹارچر کررہی ہے لیکن عدلیہ اور موجودہ حکومت کی طرف سے کوئی رد عمل نہیں ہورہا ہے حکومت وقت کو فوراً ایسے ناپاک لوگوں کو گرفتار کرکے جیل کی سلاخوں میں ڈالنا چاہئے اور اس پر این اے سے لگانا چاہئے ۔ مولانا برکت الله فیضی نے کہا کہ نوپور شرما نے ہمارے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی اور اس موقع پر ملک کی عدلیہ اور موجودہ حکومت کی خاموشی پر مجھے افسوس ہے اگر اسے فی الفور گرفتار نہیں کیا گیا تو اس جیسے ناجانے کتنے گستاخ اس ملک میں پیدا ہونگے جس کی وجہ سے ہمارے ملک کے حالات بد سے بدتر ہوتے جائیں گے ۔
مولانا قاری نجم الدین نے کہا کہ آج وطن عزیز بھارت میں نہ مسلمان محفوظ ہیں اور ناہی مسلمانوں کی عبادت گاہیں محفوظ ہیں اور حیرت ہے کہ ہمارے نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جو کسی ایک قوم یا ایک مذہب کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے رحمت بن کر آئے ہیں جنھوں نے انسانوں کو جینے کا ڈھنگ سکھایا زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا لوگوں کی پریشانیوں کے حل کے لئے جگہ جگہ عدالتیں قائم کر کے لوگوں کی خبر گیری کے طریقے بتائے جو ہمارے لئے جان ایمان ہیں ان پر کیچڑ اچھال کر ان کی شان اقدس میں گستاخیاں کی جارہی ہیں جو ناقابل برداشت ہے ۔
ہم حکومت وقت سے اور ملک کی عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے شخص کو فوراً گرفتار کیا جائے اور اس دیش دروہی کا مقدمہ چلایا جائے ۔
ورنہ مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن رسول رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی بالکل برداشت نہیں کرے گا ۔
مولانا محمد شوکت علی نے کہا کہ شان رسالت مآب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں گستاخی ہورہی ہے اس موقع پر ہمارے پیران طریقت کی خاموشی باعث حیرت ہے خانقاہی حضرات خاموش رہ کر قوم کو کیا میسجز دینا چاہتے ہیں آخر میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا حضور نبی رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے سے ان کے ایمان کو ٹھیس نہیں پہنچ رہا ہے ۔ اور اگر یقیناً خانقاہی حضرات کے ایمان وعقیدے کو ٹھیس پہنچ رہا ہے تو خاموشی کیوں ھے ۔ نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری ۔ کیونکہ ۔ محمد ہیں متاعِ عالم ایجاد سے پیارا ۔ پدر مادر ۔ برادر. جان ومال ایمان سے پیارا ۔
علمائے کرام نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ لیا اور کہا کہ ہم موجودہ حکومت اور عدالت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ناہنجار دریدہ دہن نوپور شرما کو فوراً گرفتار کرکے سزا دی جائے ورنہ ہم پورے بھارت کے علماء روڈ پر اترکر جگہ جگہ احتجاج کریں گے اور جیل بھرو اندولن کریں گے ۔ اور ہمارے اس طرح کرنے سے اگر حالات بگڑے تو اس کی ذمہ داری موجودہ حکومت کی ہوگی ۔
افسوس ہے کہ آج کئی دنوں کا عرصہ گزر گیا ہے مگر حکومت نے نہ تو اس ملعونہ کو گرفتار کیا اور نہ اس چینل پر پابندی لگائی ھے اگر اس طرح کے لوگوں کو کھلی چھوٹ دے کر حکومت ملک کے مسلمانوں کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے ۔ کیا بتانا چاہتی ہے ۔
حکومت وقت جان لے کہ ہم مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ محمد کی محبت دین حق کی شرطِ اول ھے ۔
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نامکمل ہے ۔
جو جان مانگو تو جان دے دیں جو مال مانگو تو مال دے دیں ۔
مگر یہ ہم سے کبھی نہ ہوگا کہ نبی کا جاہ وجلال دے دیں

جبکہ اس میٹنگ میں مولانا جمال احمد صدیقی اشرفی ۔ مولانا برکت الله فیضی ۔ مولانا نسیم رضی فیضی ۔ مولانا شوکت علی ۔ قاری نجم الدین ۔ قاری مجیب الله نظامی ۔ مولانا نورانی رضا ۔ حافظ فیروز علیمی ۔ مولانا بلال احمد اشرفی ۔ حافظ ابرار ودیگر علاقائی علماء وآئمہ حضرات کے علاوہ محمد رضوان شیخ ۔ کمال احمد ۔ زھد شاہ وغیرہ نے شرکت کی۔