ممبئی: کورونا وائرس کے بحرانی دور میں جہاں ہر قسم کے شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوئے ہیں، وہیں تعلیمی شعبوں کو بھی نقصان جھیلنا پڑا ہے۔ تاہم، کورونا ایسے دور میں بھی ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے دیگر تعلیمی و لسانی شعبوں کے مقابلے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنے وجود کا احساس دلایا ہے بلکہ ممبئی یونیورسٹی کے لینگویج ڈپارٹمنٹ میں سب سے زیادہ داخلے والا شعبہ ہونے کا بھی شرف حاصل کیا ہے۔ خیال رہے کہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی صورتِ حال کے درمیان ممبئی یونیورسٹی کے لسان و ادب کے کئی شعبوں میں پوسٹ گریجویشن کے داخلوں میں بڑے پیمانے پر گراوٹ درج کی گئی ہے۔ نیز مختلف لسانیاتی شعبوں کو ضم کرنے کے متعلق بحث کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ اس درمیان ممبئی یونیورسٹی کے شعبہء اردو نے وباء کے مشکل ایام کے باوجود سب زیادہ داخلوں کے اندراج کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں تعلیمی سال برائے 2020-21 کے لئے ایم اے کورس میں 159 ایڈمیشن ہوئے ہیں۔ جوکہ تمام لینگویج ڈپارٹمنٹ کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ اردو کا موازنہ انگریزی، مراٹھی اور ہندی زبان شعبوں سے کیا جائے تو شعبہ اردو میں پی جی کورس میں انگریزی اور مراٹھی کے مقابلے تین گنا زیادہ ایڈمیشن ہوئے ہیں، جبکہ اس سال شعبہ ہندی میں پارٹ اول اور دوم کو ملاکر 93 ایڈمیشن کا اندراج عمل میں آیا ہے۔ ہندی کے ایڈمشن اردو سے 65 کم ہیں۔ ممبئی یونیورسٹی کے لینگویج ڈپارٹمنٹ میں داخلوں کی یہ معلومات انٹرنل رپورٹ کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔ ممبئی یونیورسٹی کے شعبہ مراٹھی سے وابستہ پروفیسر وندنا مہاجن کا کہنا ہے کہ شعبہ مراٹھی کے پوسٹ گریجویٹ داخلوں میں کمی کی اصل وجوہات کو جاننے کے لئے اسکولی سطح پر مراٹھی زبان کا حال جاننا ضروری ہے۔ ممبئی اور مضافات میں انگریزی اسکولوں کا چلن عام ہوتا جا رہاہے۔ دوسری وجہ مراٹھی زبان و ادب میں پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کرنے والے فاصلاتی تعلیم کے ذریعے بھی ایم اے کو ترجیح دے رہے ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں