آکسیجن سلینڈرس ممبئی میٹروپولٹین علاقے میں کئی مساجد کی جانب سے فراہم کئے جارہے ہیں جو شہر ممبرا‘میرا روڈ‘کلیان اور بھینونڈی پر مشتمل ہے۔

ممبئی۔ اسپتال پر پڑنے والے بوجھ میں کچھ کمی لانے اور خود پر دباؤ بڑھانے کے لئے ممبئی کی کئی مساجد آگے آتے ہوئے کویڈ19کے مریضوں کو مفت آکسیجن کی سربراہی کررہے ہیں۔مذکورہ سربراہی ایک کٹ کے ساتھ کی جارہی ہے جو کویڈکے آکسیجن کی کمی سے پریشان حال مریضوں کے لئے گھروں میں لگایاجارہا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا میں شائع خبر کے بموجب آکسیجن سلینڈرس ممبئی میٹروپولٹین علاقے میں کئی مساجد کی جانب سے فراہم کئے جارہے ہیں جو شہر ممبرا‘میرا روڈ‘کلیان اور بھینونڈی پر مشتمل ہے۔

مذکورہ اقدام ریڈ کریسنٹ سوسائٹی آف انڈیا نامی این جی او کی جانب سے اٹھایاگیاہے۔چیرمن ریڈ کریسنٹ سوسائٹی آف انڈیا کے بیان کا ٹی او ائی نے حوالہ دے کر لکھا ہے کہ”جب سے کویڈ19کے تمام مریضوں کو اسپتالوں میں بیڈس نہیں مل رہے ہیں اور کئی لوگوں کاعلاج گھر پر کیاجارہا ہے‘ ہم نے سونچا کہ جنھیں ضرورت ہے ان کو ہم آکسیجن کی فراہمی کریں گے۔

مذہب‘ ذات پات رنگ ونسل سے بالاتر ہوکر مفت میں یہ سربراہی کی جارہی ہے۔ وباء کے خلاف یہ ہماری متحدہ جدوجہد ہے اور ہمیں سمجھتے ہیں کہ ہماری سونچ ضرورت مندوں کے کام ائے گی“۔

صدیقی نے کہاکہ مانگ میں اضافہ ہورہا ہے او ران کی این جی او اس کو پورا کرنے سے قاصر ہے۔ جب ان سے پوچھاگیاتو کیوں انہوں نے مساجد کو اس کام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیاتو انہوں نے کہاکہ ان کا کام صرف دن میں پانچ وقت نماز کے لئے استعمال نہیں ہے۔ جہدکار ڈاکٹر عظیم الدین جو گھر وں پر علاج کئے جانے والے مریضوں کے لئے آکسیجن کے انتظامات کی نگرانی کررہے ہیں نے کہاکہ اب تک 1,000آکسیجن تقسیم کئے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ”کئی لوگ آکسیجن وقت پر نہیں ملنے کی وجہہ سے فوت ہورہے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے آکسیجن کی قلت کی وجہہ سے مختلف اسپتالوں سے لوگوں کو واپس بھیجا جارہا ہے۔ اگر آکسیجن کی موثر سربراہی عمل میں لائی جاتی ہے تو کئی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں“۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں وباء کے پیش نظر مدد کی پیشکش کے مساجد آگئے ہیں۔

وڈوڈرا کی مساجد کو 50بیڈ کے سنٹر میں تبدیل کردیاگیاہے۔ عرفان شیخ ٹرسٹی جہانگیر پور مسجد کے بموجب ماہ رمضان کے دوران یہ ہوا ہے‘جس کو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی کے مہینے کے طور پر یا د کیاجاتا ہے۔

شیخ نے اے این ائی کو بتایاکہ”پچھلے کچھ دنوں سے کرونا وائرس کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے‘ جس کی وجہہ سے بیڈس او رآکسیجن کی قلت پیش آرہی ہے۔

اس قلت کی وجہہ سے ہم نے فیصلہ کیاہے کہ اس کو 50بیڈس پر مشتمل کویڈ19سنٹر میں منتقل کیاجائے“۔ کویڈ معاملات میں اضافہ کے پیش نظر اسپتالوں کے باہر طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں۔

ڈاکٹرس اور عملہ کویڈ19مریضوں کے علاج کے لئے پریشان ہیں اور مریضوں کی بڑی تعداد میں آمد کی وجہہ سے اسپتال بھرے ہوئے ہیں‘ اور اسپتال انتظامیہ ان مطالبات کی یکسوئی میں پوری طرح ناکام دیکھائی دے رہا ہے۔

پچھلے 24گھنٹوں میں ہندوستان میں کویڈ19کے 2,59,170نئے معاملات اور1761اموات درج کئے گئے ہیں۔ وزرات صحت نے منگل کے رویہ جانکاری دی ہے۔ ملک میں کرونا وائرس کی وجہہ سے متاثر ہونے والوں کی جملہ تعداد1,53,21,089تک پہنچ گئی ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں