Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

ممبئی: میچ کے دوران بھی ’سی اے اے‘ مخالف احتجاج، مظاہرین نے ’ٹی شرٹ‘ پر لکھا پیغام

IMG_20190630_195052.JPG

ملک بھر میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف چل رہے احتجاج کا اثر منگل کے روز ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں ہندوستان اور آسٹریلیا کے مابین کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی نظر آیا۔ ناظرین کی گیلری میں موجود کچھ نوجوانوں نے میچ کے دوران شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) اور نیشنل آبادی رجسٹر (این پی آر) کے خلاف احتجاج درج کرایا۔

دراصل میچ کے دوران ، اسٹینڈ میں بیٹھے کچھ نوجوانوں کو ‘No CAA، No NRC اور No NPR’ لکھا ہوا tshirts پہنے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس دوران ان تماشائیوں نے بھی کھڑے ہوکر نعرے بازی کی۔ تاہم ، اس دوران ان نوجوانوں نے ہندستان کے نعرے لگائے۔ اس واقعے کے فورا بعد ہی وہاں موجود سکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور انہیں دور کرنے کی کوشش کی۔ تاہم ، بعد میں سیکیورٹی اہلکار وہاں سے چلے گئے ، انہوں نے طلبہ کو امن قائم رکھنے کی ہدایت کی۔

میچ کے دوران جن نوجوانوں نے ’نو این آر سی ، نو این پی آر‘ لکھی ہوئی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھیں انہوں نے شہریت قانون کے خلاف نعرے بازی بھی کی، حالانکہ اس دوران وہ صرف ’انڈیا انڈیا‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس واقعہ کے فوراً بعد سکیورٹی اہلکار وہاں پہنچ گئے اور نوجوانوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور انہیں وہاں سے ہٹانے لگے۔ بعد میں تمام نوجوانوں کو امن بنائے رکھنے کی تبیہ دے کر چھوڑ دیا گیا۔

میچ کے دوران سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلباء اور طالبات تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام مظاہرین آئی آئی ٹی بامبے میں زیر تعلیم ہیں۔ یہ تمام طلباء شرٹ کے نیچے ٹی شرٹ پہن کر آئے تھے اور ان پر انگریزی ایک ایک حروف چھپے تھے، بعد میں ان سبھی نے اپنی شرٹ اتار دی اور قطار میں کھڑے ہو گئے۔ ایک ساتھ کھڑے ہونے پر ان کے حروف کو ملا کر ’نو سی اے اے، نو این آر سی، نو این پی آر‘ کے نعرے کے صاف پڑھا جا سکتا تھا۔

واضح رہے کہ ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ایک روزہ میچوں کی بین الاقوامی سیریز کا پہلا میچ منگل کے روز ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ باقی کے دو میچ راجکوٹ اور بنگلورو میں کھیلے جائیں گے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو