!-- Auto Size ads-1 -->

اقلیتی فرقہ کا الزام،مسلمانوں نے حکمت عملی اختیارکرنے کا فیصلہ لیا،امن و ا مان میں اہم رول رہا
ممبئی،9،مئی (یواین آئی)عروس البلاد ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں پولیس پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ مساجد پر لاؤڈاسپیکر کے استعمال کے سلسلے میں اُس نے زیادہ سرگرمی دکھائی ہے اور اس طرح وہ ایم این ایس کی خاموش مددگاربن چکی ہے،کیونکہ فی الحال سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق فجر کی نماز کو لاؤڈاسپیکر پر نہیں دینے کا فیصلہ لیا گیا ہے،مگر پولیس نے مساجد کے اسپیکر کی آواز کم۔کرانے کے ساتھ ساتھ مساجد کو نوٹس بھی جاری کردیے ہی۔ اور ممبئی کی دومساجد کے ٹرسٹیوں اور ائمہ اور مؤذن کے خلاف معاملات بھی درج کئے ہیں۔ ممبئی میں مساجد کے ذمہ داروں نے اذان کی آواز کی جانچ کے لیے صوتی آلہ خریدلیے ہیں۔جامع مسجد کے خطیب و مفتی محمد اشفاق قاضی کا کہنا ہے کہ نماز کے لیے اذان دینے سے قبل لاؤڈ اسپیکرز سے منسلک میٹر کا جائزہ لیاجاتا ہے اور مختلف مساجد میں اس کا جائزہلیا جاتا ہے۔

عین رمضان المبارک کے دوران ایم این ایس صدر راج ٹھاکرے نے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے مساجد کے لاؤڈاسپیکر ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الٹی میٹم دیاتھاکہ 3مئی کے بعد لاؤڈاسپیکر ہٹادیئے جائیں ورنہ ایم این ایس کے ورکرز ہر ایک مسجد کے سامنے اذان کے وقت پر ہنومان چالیسہ پڑھیں گے ،جس کی وجہ سے کشیدگی اور اقلیتی فرقے میں ناراضگی پھیل گئی تھی،لیکن حکومت نے ان کے خلاف سخت رویہ اختیارکیا تو انہوں عید کے پیش نظر تاریخ میں۔ توسیع کردی۔ادھوٹھاکرے حکومت نے محکمہ پولیس کو سخت ہدایات جاری کیں ،ایم این۔ایس کے سینکڑوں ورکرز کو حراست میں لینے کے ساتھ ساتھ متعدد لیڈروں اور ورکرز کو تڑی پار کیا گیااوردفعہ 149 کے نوٹس بھی دیئے گئے ہیں۔

ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی پولیس نے ایسا رویہ اپنایا ہے،جیسا وہ مضافاتی علاقوں میں اپنائے ہوئے ہیں۔ممبئی میں مسلمانوں نے جس سوجھ بوجھ اورسمجھدار ی کا ثبوت دیا ہے ،بلکہ حکمت عملی اختیار کی ہے،اس کا اعتراف اعلیٰ پولیس افسران نے بھی کیا ہے،اس حکمت عملی نے ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر بھر میں امن وامان کو برقرار رکھا ہے۔ایک طبقہ اسے ڈروخوف بھی قراردےرہا ہے کہ اگر مسلمان ذراسااحتجاج کرتے اور ہنومان چالیسہ کے ذریعہ اشتعال انگیزی کرنے والوں کے مقابل کھڑے رہتے تو انہی۔ پولیس اور انتظامیہ کے غضب کا شکار ہونا پڑسکتا تھا۔پولیس نے کئی مقامات پر مسجد کے اندر ہورہی نماز کے دوران لاؤڈاسپیکر کی آواز کم کرائی ہے۔یہ واقعہ حاجی اسماعیل حاجی الاناسینی ٹوریم میں بھی پیش آیا جب فجر میں آواز کم کرنے کے سپاہی مسجد کے احاطہ میں۔ آگئے۔مسلمانوں کی تشویش حق بجانب ہے،اس لیے شہر بھر میں مقامی طورپر ہی لاؤڈاسپیکر پر فیصلہ لے لیا،اس موقع پر کسی بھی سیاسی،سماجی اور مذہبی رہنماؤں کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔ لیڈرشپ کا فقدان نظر آیا۔

ذرائع کے مطابق ایک اہم ترین میٹنگ میں ایک سابق ریاستی وزیر نے طلب کی اور شہر کے اردوصحافت سے وابستہ صحافیوں نے شرکت کی ، آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔اس طرح کئی دردمند لیڈروں نے شہر اور مضافات میں میٹنگ طلب کی اورلاوڈاسپیکر کے استعمال پر ہدایات جاری کی گئی ہیںاور خصوصی طورپر فجر کے وقت احتیاط برتنے کے لیے کہا گیا ہے۔مذکوعہ۔میٹنگ کئی اہم۔مسائل۔پر غور کیا گیااور جلدہی جلد اہم شخصیات کو طلب کرنے اور سوشل۔میڈیا،ٹی وی نیوز چینل اور دیگر میڈیا کی اشتعال انگیزی پر نظر رکھنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر کے مختلف اضلاع اور شہروں میں سائبرسیل اور ٹی وی نیوز چینل کا جائزہ لینے کے لیے ٹیمیں تشکیل کی جائیں۔میٹنگ میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ ‘ہماری اذان کی آواز کتنی ہونی چاہیے یہ ایک سیاسی مسئلہ بن گیا ہے، لیکن یہ معاملہ فرقہ وارانہ رخ اختیارنہ کر جائے۔اس جانب توجہ دیناہواگا،اس کے ساتھ اپنے غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ قومی ہم آہنگی بھائی چارہ۔برقرارچاہیے۔ممبئی سمیت ریاست کی 900 سے زیادہ مساجد نے راج ٹھاکرے کی شکایات کے بعد اذان کی آواز کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔