ممبئی فسادات کے تیس سال ! شکیل رشید ( ایڈیٹر، ممبئی اردو نیوز )

455

بابری مسجد ۶، دسمبر ۱۹۹۲ء کو شہید کی گئی تھی ۔ ممبئی میں اسی دن کشیدگی پھیل گئی تھی ، تشدد کے اِکّا دکّا معمولی واقعات بھی ہوئے تھے لیکن ’ مسلم کش فسادات ‘ کی حقیقی معنوں میں شروعات ۷، دسمبر ۱۹۹۲ ء کے روز ہوئی تھی ، اور ممبئی شہر جل اٹھا تھا ۔ آج ۷، دسمبر ہے ، آج ممبئی کے فسادات کو پورے ۳۰ ؍برس بیت چکے ہیں ۔

یہ گذرے ہوئے ۳۰ سال ناانصافی ، سرکاری بے حسی اور سیاسی لاچاری کے سال ہیں ۔ فسادات کے متاثرین کو آج تک انصاف نہیں مل سکاہے ۔ جن کے اعزاء و رشتے دار اور احباب و اہل خانہ مارے اور زخمی کیے گیے تھے ، اورجولوٹے کاٹے اورتباہ وبرباد کیے گیے تھے ، آج بھی انصاف کے لیے دردر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ۔ ۵ ، دسمبر کے اخباروں میں فاروق ماپکر کا ایک بیان شائع ہوا ہے جو فسادات کے ایک مظلوم ہیں ، انہیں سیوڑی کی ہری مسجد میں پولیس کی گولی لگی تھی ، پولیس نے مسجد میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی تھی ، جس میں کئی لوگ شہید اور بہت سے زخمی ہوئے تھے ۔ فاروق ماپکر عرصہ سے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن ۳۰ سال گذرنے کے بعد بھی انہیں انصاف نہیں مل سکا ہے ۔

شاہنواز کی عمر ۱۶ سال تھی جب اسے پولیس کی گولی لگی تھی اور وہ شہید ہوگیا تھا ، اس کے بوڑھے والدین اسے آج تک نہیں بھول سکے ہیں ۔ ایسے ہی سیکڑوں مظلومین ہیں جو انصاف سے آج تک محروم ہیں ۔ ریاستی حکومت روزِاوّل ہی کی طرح بے حس ہے ۔ رہے سیاست داں اورسیاسی پارٹیاں تو وہ ’ سیاسی مفادات ‘ کی بناء پر اس قدر مجبور اور لاچارہیں کہ ’ خاطیو ں ‘ اور ’ مجرموں ‘ کی طرف انگلیاں اٹھانے کی ان میں ہمت نہیں ہے بلکہ اب اتنے برس بیت جانے کے بعدتو یوں لگتا ہے کہ ان کے ذہنوں سے یہ ’ حقیقت ‘ محو ہو چکی ہے کہ ۱۹۹۲- ۱۹۹۳ء میں شہرممبئی شدید فرقہ وارانہ فسادات سے جل اٹھاتھا ۔ اب ان کی زبانوں سے بھی کبھی ممبئی کے دومرحلوں کے مسلم کش فسادات کا ذکر نہیں نکلتا ! آج بھی ریٹائرڈجسٹس بی این شری کرشنا کی ….. جن کی سربراہی میں ممبئی کے فسادات کی جانچ کے لیے کمیشن بناتھا ، اور جن کی رپورٹ نے ، جسے ’ شری کرشناکمیشن رپورٹ ‘ کے نام سے جاناجاتا ہے ، فسادات میں سیاست دانوں اورپولس والوں کے رول کو نہ صرف واضح کیاتھا بلکہ انہیں ’ خاطیوں ‘ اور ’ قصورواروں ‘ کی فہرست میں شامل بھی کیاتھا ….. بات ، جو انہوں نے انگریزی کی جرنلسٹ مینامینن کی ممبئی فسادات پر انگریزی کتاب کی رونمائی کے موقع پر کہی تھی ، بہت سے لوگوں کو یاد ہوگی کہ ’ وہ یہ چاہتے تھے کہ ان کی رپورٹ پر عملدرآمد ہو تاکہ متاثرین کو انصاف فراہم ہو سکے ۔‘ یعقوب میمن کی پھانسی کے ایک دن بعد انہوں نے یہ سوال اٹھایاتھا کہ ’’ یعقوب میمن کو تو اُس کے جرم کی سزا مل گئی ممبئی کے فسادیوں کو کب سزا ملے گی ؟‘‘

یہ سوال آج تک جواب طلب ہے ۔ وہ جنہوں نے مسلمانوں کی جان اور مال کا نقصان کیا تھا آزاد ہیں ، وہ پولس والے جو فسادیوں کے ساتھی تھے آج تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے اورسیاسی پارٹیوں ، فرقہ پرست تنظیموں اورپولس کے فرقہ پرستانہ چہرے کوجس سری کرشنا کمیشن رپورٹ نے اُجاگرکیا تھا وہ ٹھنڈے بستے میں ڈال دی گئی ہے ۔ کانگریس کا کرداراس معاملے میں انتہائی گھناؤنا رہا ہے ، بجائے اس کے کہ یہ ’سری کرشنا کمیشن رپورٹ ‘ پرعمل کرتی اس کی تقریباًتین سرکاروں نے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھـ ’ مسلمان کانگریسیوں ‘ کی مدد سے ایسا چکر چلایا کہ کمیشن کی رپورٹ پرعمل درآمد کا سوال عدالت کے گلیاروں میں آج تک گردش کررہا ہے اور نہ جانے کب تک گردش کرے گا ! رہے وہ افراد جوعدالتوں میں انصاف کی جنگ لڑرہے تھے یا تواب نہیں رہے یا مزید قانونی لڑائی لڑنے کا حوصلہ ہار بیٹھے ہیں ۔ دومرحلوں میں ہونے والے فسادات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ۹ سو افرادہلاک ہوئے تھے جِن میں مسلمانوں کی تعداد ۵۷۵ اورہندوؤں کی تعداد ۲۷۵ تھی ۔ پولس کی گولی باری سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ۳۵۶ تھی ۔ ایک جانب پولس ، فسادی اورشیوسینک تھے ۔

ان کے ساتھ بی جے پی کے لیڈر اور کارکنان بھی تھے ۔ کئی جگہ آر پی آئی اور کانگریسی لیڈروں نے بھی فسادیوں کا ساتھ دیا ۔ شیوسینا اور شیوسینا کے پرمکھ بال ٹھاکرے کا نام ’ شری کرشنا کمیشن رپورٹ ‘ میں لکھا ہوا ہے ۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سارے سنگھ پریوار کو کٹ گھڑے میں کھڑا کر دیا ہے ۔ ظاہرہے کہ یہ رپورٹ نہ اس وقت شیوسینا اور بی جے پی کوبھائی تھی اورنہ آج فرقہ پرست سیاست دانوں کو بھا رہی ہے ۔ رپورٹ میں شیوسینا اوربی جے پی کو فسادات کا قصوروار قرار دیاگیا تھا اور بال ٹھاکرے سمیت کئی شیوسینکوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا ۔ ’ سری کرشنا کمیشن رپورٹ ‘ رد کر دی گئی تھی ۔ دوبارہ اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کے کہنے پر کمیشن کی رپورٹ پھر سے ’زندہ ‘ کی گئی ۔ اب تک صرف تین شیوسینیکوں کے خلاف معمولی کارروائی ہوئی ہے ۔ یہ معاملہ بھی اب ختم ہو چکاہے ۔

سوال یہ پے کہ کیا اس ملک کی عدالتوں ۔ عدالتِ عظمیٰ اور حکمرانوں سے ممبئی فسادات کے متاثرین یہ امید رکھیں کہ انہیں دیرسویر انصاف ملے گا ؟ حکومت اور عدالتیں اگر کسی کو سزا نہیں دے سکتیں ، ویسے بھی اب اکثر ملزم اس دنیا میں نہیں ہیں ، تب بھی مظلومین کے زخموں پر مرہم تو رکھ ہی سکتی ہیں ، انہیں معاوضہ تو دیا ہی جا سکتا ہے ، اور ان پولیس افسران کے ، جو آج بھی برسرِ کار ہیں ، لیکن شری کرشنا کمیشن رپورٹ میں جن کے نام ہیں ، کان تو کھینچ ہی سکتی ہیں ۔ یہ کام کرنے میں حکومت اور عدالتیں کیوں ہچکچا رہی ہیں ؟