ممبئی فسادات:سپریم کورٹ کی مہاراشٹر حکومت کو پھٹکار

263

ممبئی ،5/نومبر (ایجنسیز)تقریباً تیس سال قبل اتر پردیش کے شہر اجودھیا میں 6دسمبر 1992 کو تاریخی بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑے گروہ وارانہ فسادات کے دوران گمشدہ متاثرین کی تلاش کا مہاراشٹر حکومت جوسپریم کورٹ نے حکم دیا ہے اور کہاکہ ان کی تلاش کیساتھ ہی معاوضہ بھی دینے کا انتظام کیا جائے۔ممبئی کے 93_1992کے فسادات کے تشدد اور سری کرشنا کمیشن کی کارروائی کو جور کرنے والے اور جسٹس بی این سری کرشنا کمیشن کی رپورٹ کاترجمہ کرنے والے صحافی جاویدجمال الدین نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو گزشتہ تین دہائی کے دوران لیا گیا ایک اور اہم ترین فیصلہ قرار دیاہے۔

انہوں نے کہاکہ عدالت نے پایاہے کہ ریاست جسٹس بی این سری کرشنا کےکمیشن کی رپورٹ کی سفارشات کے مطابق کارروائی کرنے میں مختلف محاذوں پر ناکام رہی ہے لیکن کہا کہ اتنے سالوں کے بعد مداخلت کرنا ممکن نہیں ہے اور اس نے اپنے فیصلوں کو معاوضے کے پہلو تک محدود رکھا۔ مزید یہ کہا گیا ہے کہ ریاست 22 جنوری 1999 سے لاپتہ ہونے والے افراد کے قانونی ورثا کو 2 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے گی، جس میں 22 جنوری 1999 سے 9 فیصد سالانہ کے حساب سے سود ہوگا۔ کیونکہ 1999 میں ان افراد کی گمشدگی سوات کا عرصہ گزر چکا تھا۔جبکہ ریکارڈز یہ معلوم کرنے کے لیے کہ آیا تمام اہل افراد کو معاوضہ ادا کیا گیا تھا۔ کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ 1992-93 کے فسادات کے متاثرین کے مختلف زمروں کے پہلے حکومتی قرارداد کے مطابق معاوضہ ادا کیا جائے۔

جیسا کہ اوپر، اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے پہلے حکومتی قرارداد کے مطابق متاثرین کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ معاوضے اور سود کی ادائیگی کی پوری مشق ریاستی حکومت آج سے نو ماہ کے اندر مکمل کر لے گی۔واضح رہے گزشتہ روز سپریم کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو حکم دیاکہ کہ وہ بابری مسجد انہدام کے بعددسمبر1992 اور جنوری 1993 میں ہوئے دوسرے دور میں ممبئی میں خونریزفسادات ہوئے تھے اور بڑی تعداد میں متاثرین کو معاوضہ نہیں ملا اور گم شدہ افراد کو بھی نظر انداز کردیا گیا تھا۔اب عدالت عالیہ نے مہاراشٹر حکومت کوتمام متاثرین کا سراغ لگائے، تاکہ انہیں معاوضہ دیا جاسکے۔ ممبئی فسادات کے تمام متاثرین کا سراغ لگائے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ دیا جا سکے۔ سپریم کورٹ نے فسادات میں ملوث ملزمان کو انصاف کے لئے متعلقہ مقدمات کو متحرک کرنے کی بھی ہدایت کی۔

جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس ابھے ایس اوکا اور جسٹس وکرم ناتھ کی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ فسادات سے متاثرہ لوگوں کو ریاستی حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کرنے کا حق ہے، کیونکہ متاثرین کے مصائب کی بنیادی وجہ امن وامان برقرار رکھنے میں حکومتی مشینری کی ناکامی تھی۔ عدالت عظمیٰ کی تین رکنی بنچ نے 2001 میں ایک وکیل شکیل احمد کی جانب سے دائر کی گئی رٹ پٹیشن پر اپنا فیصلہ سنایاہے، درخواست میں ممبئی فسادات کی تحقیقات کے لیے مہاراشٹر حکومت کی طرف سے قائم کی گئی جسٹس سری کرشنا کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کی مانگ کی گئی تھی ۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا، "ممبئی میں دسمبر 1992 اور جنوری 1993 میں ہونے والے تشدد نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کے باوقار اور بامقصد زندگی گزارنے کے حق کو بری طرح متاثر کیا ۔ اس فسادات میں 900 افراد ہلاک اور 2000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔” ان لوگوں کے مکانات، کاروباری مقامات اور جائیدادیں تباہ کر دی گئیں۔