• 425
    Shares

ممبئی،11اکتوبر(یواین آئی)ممبئی سمیت مہاراشٹر میں چند مقامات پر معمولی تشدد اور سنگباری کے واقعات کے ساتھ ہی لکھیم پورکھیری میں تشدد میں کسانوں کی ہلاکت کے خلاف حکمراں مہاوکاس اگھاڑی اور دیگر پارٹیوں اور تنظیموں کا بند مکمل طور پر کامیاب رہاہے۔شہر اور ریاست کے مختلف شہروں میں مسلم اکثریتی علاقے بھی بند رہے ہیں ۔شیوسینا،کانگریس اور این سی پی کے ورکروں نے جگہ جگہ موٹر گاڑیوں کو روکنے کی کوشش کی ۔

مہاراشٹرمیں براقتدار مہاوکاس اگھاڑی میں شامل شیوسینا،شیوسینا،این سی پی ،سی پی آئی،سی پی ایم ،ٹریڈیونین اور متعدد کسان اور طلباء گروپ شامل ہوئے ہیں۔اپوزیشن بی جے پی نے اپنے حلقوں میں دکانیں کھلوانے کی کوشش کی۔

ممبئی میں کارپوریشن کے تحت بیسٹ کی بسیں بند رہیں اور ایس ٹی کی خدمات پر بھی اثر پڑا ہے البتہ لوکل ٹرین سرویس حسب معمول ہے۔لیکن مسافر نہ کے برابر ہیں۔لازمی سروس کو بند سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔پولیس کی بھاری جمعیت کو تعینات کیا گیا ہے،وزیر داخلہ دلیپ ولسے پاٹل نے وارننگ دی ہے کہ کسی بھی طرح کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جا ہے گا۔ممبئی میں کئی مقامات پر بسوں پر پتھراؤ کیا گیااور درجن بھر بسیں متاثر ہوئی ہیں۔مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران سنجے راوت،کشورتیواری،جینت پاٹل،نواب ملک ،ناناپٹولے، بالاصاحب تھوراٹ،بھائی جگتاپ اور ریاستی سطح کے لیڈران نے احتجاجی دھرنا دیا اور مرکز اور یوپی حکومتوں کے خلاف نعرے لگائے۔

ممبئی میں مسلم اکثریتی علاقے بھنڈی بازار،نل بازار،کرافورڈ مارکیٹ،محمدعلی روڈ، ناگپاڑہ، جوگیشوری،ماہم ،کرلااور دورافتادہ ممبرا،میرا روڈ اور دیگر علاقے مکمل طور پر بند رہے۔یہاں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

گزشتہ ہفتے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کی صدارت میں کابینہ نے لکھیم پورکھیری میں لالہ اجل بننے والے کسانوں کے لیے دومنٹ خاموش رہ کر انہیں خراج پیش کیا۔اور برسر اقتدار محاذ نے بند بھی اعلان کیا تھا۔
یواین آئی/اے اے اے

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔