اس تاریخ کو بینکنگ اور اے ٹی ایم خدمات متاثر ہوسکتی ہیں !

895

نئی دہلی :8۔نومبر(ایجنسیز)رواں ماہ کا آئندہ عشرہ بینکنگ نظام کے لیے کچھ مشکل بھرا ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 19 نومبر کو پورے ملک کے بینک ملازمین ہڑتال پر رہیں گے۔ اس کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے، حالانکہ بینکنگ نظام متاثر نہ ہو، اس کے لیے اعلیٰ سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ آل انڈیا بینک ایمپلائی ایسو سی ایشن نے اپنے کچھ اہم مطالبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس یک روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بینک آف بڑودہ نے اسٹاک ایکسچینج کے پاس ریگولیٹری فائرلنگ میں کہا ہے کہ آل انڈیا بینک ایمپلائی ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری نے ہڑتال پر جانے کے لیے انڈین بینک ایسو سی ایشن کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اس نوٹس میں یونین نے اپنے مطالبات کو لے کر 19 نومبر کو ہڑتال پر جانے کی بات کہی ہے۔ اس سلسلے میں بینک نے کہا ہے کہ ہڑتال والے دن بینک برانچ اور دفاتر میں آپریشن جاری رکھنے کے لیے سبھی ضروری اقدام کیے جا رہے ہیں۔

بینک کا کہنا ہے کہ 19 نومبر کو بینک ملازمین کی ہڑتال کی صورت میں بینک برانچ اور دفاتر کے کام پر اثر پڑ سکتا ہے۔ 19 نومبر ہفتہ کا دن ہے اور وہ بھی نومبر ماہ کا تیسرا ہفتہ ہے۔ ہر ماہ کے دوسرے اور چوتھے ہفتہ پر بینک میں ویسے ہی چھٹی رہتی ہے۔ 19 نومبر کو ہڑتال ہونے پر، یعنی تیسرے ہفتہ کو بھی بینک کا کام نہیں ہونے سے عام لوگوں کی پریشانیاں بڑھ سکتی ہیں۔

علاوہ ازیں ہڑتال کے اگلے دن اتوار کی بھی چھٹی ہے۔ ایسے میں بینک اے ٹی ایم پر دو دنوں تک نقدی کی کمی کا سامنا عام لوگوں کو کرنا پڑ سکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ بینک ملازمین اپنے جن مطالبات کو لے کر ملک گیر ہڑتال پر جا رہے ہیں، ان میں سے ایک اہم مطالبہ ہے بینک یونین میں سرگرم بینکروں کے خلاف کی جا رہی کارروائی پر روک۔ بینک یونین کا کہنا ہے کہ بینکروں کو قصداً ہدف بنایا جا رہا ہے۔ بینک یونین سے جڑے بینکروں کی چھنٹنی کی جا رہی ہے یا پھر انھیں برخاست کیا جا رہا ہے۔