یومیہ متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھے گی ۔ پنجاب میں وائرس کا تیز رفتار پھیلاو ہوگا : سائنسدان

نئی دہلی ۔ سائنسدانوں نے پیش قیاسی کی ہے کہ ملک میں کورونا وباء کی دوسری لہر سارے ملک میں وسط اپریل تک عروج پر پہونچ جائے گی جس کے بعد مئی کے اختتام تک کورونا انفیکشن کی شرح میں نمایاں کمی بھی ہونے لگے گی ۔ کورونا وباء کی پہلی لہر کے دوران ریاضی کا طریقہ کار ’’ سترا ‘‘ اختیار کیا گیا تھا جس میں پیش قیاسی کی گئی تھی کہ اگسٹ میں انفیکشن کی شرح بڑھنے لگے گی اور ستمبر تک عروج پر پہونچنے کے بعد فبروری میں کمی آئے گی ۔ سائسندانوں نے اسی ماڈل کو اختیار کرتے ہوئے جاریہ لہر کے تعلق سے پیش قیاسی کی ہے اور کہا کہ وسط اپریل تک یومیہ متاثرین کی شرح میں اضافہ ہوتا جائیگا ۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گدشتہ کئی دن سے دیکھا جا رہا ہے کہ اپریل 15 سے 20 کے دوران کورونا متاثرین کی شرح عروج پر پہونچ جائے گی ۔ یہ تیزی سے بڑھے گی تاہم اتنی ہی تیزی سے کم بھی ہوجائے گی ۔ مئی کے اختتام تک متاثرین کی شرح میں کمی آتی جائے گی ۔ ان سائنسدانوں میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی ( آئی آئی ٹی ) کانپور کے منندر اگروال بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ کیسیس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس لئے یہ قیاس لگانا مشکل ہوگا کہ یومیہ متاثرین کی تعداد کتنی زیادہ ہوجائے گی ۔ فی الحال یومیہ متاثرین کی تعداد ایک لاکھ تک پہونچ رہی ہے اور یہ تعداد زیادہ بھی ہوسکتی ہے اور کم بھی ۔ تاہم عروج پر پہونچنے کا دورانیہ 15 سے 20 اپریل کے درمیان ہی کا رہے گا ۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس لہر میں پہلی ریاست میں جہاں کورونا کو عروج ہوسکتا ہے وہ پنجاب ہوگا ۔ پھر مہاراشٹرا کا نمبر آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اندازے یومیہ متاثرین کی تعداد کی بنیاد پر لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی قیاس ہے کہ یومیہ متاثدرین کی تعداد ہزاروں کے ساتھ بدل سکتی ہے ۔ اشوکا یونیورسٹی ہریانہ کے سائنسدان گوتم مینن نے بھی کہا ہے کہ جاریہ کورونا لہر کا عروج وسط اپریل سے وسط مئی تک ہوسکتا ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ شدت صرف مختصر مدتی ہوگی ۔ پروفیسر اگروال نے واضح کیا کہ سائنسدانوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا وہ پہلے بھی درست ثابت ہوا تھا ۔ تاہم صرف پانچ دن کے عروج کے ایام پر اختلاف ہوسکتا ہے ۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ دوسری لہر کے دوران ایک متاثرہ شخص سے زیادہ افراد متاثر نہیں ہوپائیں گے کیونکہ اب کسی بھی متاثرہ شخص کو فوری قرنطینہ کیا جا رہا ہے ۔ وائرس کے پھیلاو کا اثر زیادہ ہونے سے زیادہ لوگ متاثر ہونگے لیکن ایک دوسرے سے زیادہ افراد تک یہ وائرس نہیں پہونچ پائے گا ۔ علاوہ ازیں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ علامات سے عاری افراد پر بھی نظر رکھنی ہوگی ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں