Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

ملک میں کورونا کی دوسری لہر سے ریاستی حکومتیں پریشان’حالات ٹھیک نہیں

ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں کورونا انفیکشن کے معاملے لگاتار بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ سے ان ریاستوں میں کئی طرح کی پابندیاں دوبارہ عائد کی جا رہی ہیں۔ گجرات، مدھیہ پردیش، ہریانہ اور مہاراشٹر جیسی ریاستوں میں مشکل حالات کے پیش نظر کچھ احتیاطی اقدام کیے گئے ہیں تاکہ کورونا پر قابو پایا جا سکے۔ آئیے جانتے ہیں ان ریاستوں کے کن شہروں میں پابندیاں لگائی گئی ہیں اور کیا قدم اٹھائے گئے ہیں۔

احمد آباد میں لگایا گیا 57 گھنٹے کا کرفیو:گجرات حکومت نے احمد آباد میں دیوالی کے دوران اور اس کے بعد کورونا کے بڑھتے کیسز کو دیکھ کر رات کا کرفیو لگانے کا تو اعلان کیا ہی ہے، ساتھ ہی احمد آباد شہر میں جمعہ (20 نومبر) کی شب 9 بجے سے پیر (23 نومبر) کی صبح 6 بجے تک، یعنی 57 گھنٹے کا کرفیو نافذ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ حالانکہ گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے ریاست میں لاک ڈاؤن لگائے جانے سے متعلق کسی بھی امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ فی الحال اس سلسلے میں غور نہیں کیا جا رہا ہے۔

مدھیہ پردیش کے پانچ اضلاع میں رات کا کرفیو:

مدھیہ پردیش میں بھی کورونا انفیکشن کے معاملے بڑھ رہے ہیں۔ خصوصی طور پر ریاست کے پانچ اضلاع میں کورونا کیسز زیادہ تیزی کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں جس کے پیش نظر ریاستی حکومت نے رات کا کرفیو لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پانچ اضلاع ہیں بھوپال، اندور، ودیشا، رتلام اور گوالیر جہاں ہفتہ کی شب 10 بجے سے صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔ کرفیو کے دوران رات کے وقت مال ڈھلائی والی گاڑیوں کی آمد و رفت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ساتھ ہی صنعتی یونٹس میں کام کرنے والے ملازمین بلاروک ٹوک آمد و رفت کر سکیں گے۔ ریاستی حکومت نے فی الحال اسکول و کالجوں کو بند رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ صرف نویں سے بارہویں تک کے طلبا رہنمائی کے لیے اسکول جا سکیں گے۔

ہریانہ میں اسکول بند کرنے کا فیصلہ:حکومت ہریانہ نے ریاست میں کورونا کی دوسری لہر کو دیکھتے ہوئے اسکولوں کو ایک بار پھر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ مہینے ہی اسکولوں کو کھولنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، لیکن تازہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ احتیاطی قدم اٹھایا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اپنے نئے اعلان میں کہا ہے کہ 30 نومبر تک سبھی اسکول بند رہیں گے۔ محکمہ تعلیم نے اس ضمن میں ہدایات جاری کر دی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ہریانہ کے اسکولوں میں طلبا کا کورونا ٹیسٹ کرایا گیا تھا اور 300 سے زائد طلبا انفیکشن کے شکار پائے گئے تھے۔ نویں سے بارہویں تک کے طلبا کے لیے 2 نومبر سے اسکولوں کو دوبارہ کھولا گیا تھا۔

ممبئی میں بھی اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ:مہاراشٹر میں کورونا کے معاملے میں پہلے کے مقابلے کچھ کم ضرور سامنے آ رہے ہیں، لیکن اب بھی اس پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ خصوصی طور پر راجدھانی ممبئی کے حالات فکر انگیز ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ممبئی میں اسکولوں کو 31 دسمبر تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بی ایم سی نے احکام بھی جاری کر دیئے ہیں۔

راجستھان میں دفعہ 144:راجستھان حکومت نے صوبے کے سبھی ضلع مجسٹریٹس کو 21 نومبر سے دفعہ 144 نافذ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ محکمہ داخلہ کے گروپ-9 نے سبھی ضلع مجسٹریٹس سے کہا ہے کہ کورونا کے بڑھتے معاملے کو دیکھتے ہوئے احتیاطی اقدام کیے جائیں۔ راجستھان میں سردیاں بڑھنے کے ساتھ ہی نومبر مہینے کے دوسرے ہفتہ میں کورونا انفیکشن کے کیسز بڑھنے شروع ہو گئے ہیں۔ ریاست میں پہلی بار 19 نومبر کو ایک ہی دن میں ڈھائی ہزار سے زیادہ کورونا پازیٹو کیس سامنے آئے۔ اس کے ساتھ ہی 15 اضلاع میں کورونا سے 15 لوگوں کی موت ہوئی۔ اسی درمیان ریاستی حکومت نے کورونا انفیکشن سے نمٹنے کے لیے سختی کا مظاہرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔