روش کمار
نیویارک ٹائمس نے ہندوستان میں کوویڈ۔19 کے بارے میں ایک جائزہ لیا یا اسٹڈی کا اہتمام کیا جس میں کہا گیا کہ جاریہ سال جنوری تک ہندوستان میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 42 لاکھ سے زائد ہوسکتی ہے۔ اس جائزہ میں کورونا کی دوسری لہر کا شمار نہیں کیا گیا۔ جب راہول گاندھی نے اس خبر کو ٹوئٹر پر لنک کیا تب مرکزی وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن کو بہت برا لگا اور پھر انہوں نے لکھا کہ نعشوں پر سیاست کانگریس کا انداز ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ گِدھ درختوں سے غائب ہورہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب توانائی زمین پر چلنے پھرنے والے گِدھوں میں جذب ہوگئی ہے۔ راہول گاندھی نے نئی دہلی سے زیادہ نیویارک ٹائمس پر اعتماد کیا ہے۔ نعشوں پر سیاست کیجئے۔ زمین پر پھرنے والے گِدھوں سے سیکھیئے۔ جہاں تک ہرش وردھن نے گِدھوں کے بارے میں اظہار خیال کیا جو معلومات فراہم کی ہیں وہ غیر درست ہیں۔

وہ نہیں جانتے کہ ان کی حکومت نے گِدھوں کے تحفظ کیلئے پانچ سالہ منصوبہ بنایا اور یہ پروگرام سال 2006 سے چل رہا ہے۔ وزیر صحت نے گِدھوں کے تئیں نفرت کا جو اظہار کیا ہے وہ قابل افسوس ہے۔ آسمانوں میں پرواز کرتے گِدھ ڈاکٹر ہرش وردھن کی رائے نہیں جانتے۔ اسی طرح ڈاکٹر ہرش وردھن یہ نہیں جانتے کہ ان کی حکومت کے وزیر ماحولیات نے گِدھوں کو بچانے اور ان کی تعداد بڑھانے کیلئے ایک پنج سالہ منصوبہ تیار کیا ہے اور یہ منصوبہ 16 نومبر 2020 کو جاری کیا گیا۔ اس سلسلہ میں پرکاش جاوڈیکر نے متعدد ٹوئیٹ بھی کئے، اگر پتہ چلتا تو ڈاکٹر ہرش وردھن گِدھوں سے متعلق اس قسم کے تبصرے نہیں کرتے اور راہول گاندھی کے ٹوئیٹ پر تنقید کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

ایکشن پلان رپورٹ میں مرکزی مملکتی وزیر ماحولیات بابل سپریو لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں گِدھوں کی سماجی و تہذیبی اہمیت کو مختصراً الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ وہ (گِدھ ) مردہ جانوروں کا گوشت کھاکر ماحول کو پاک و صاف رکھنے کا کام کرتے ہیں۔اس لئے کوویڈ۔19 کی دوسری لہر میں ٹیکوں اور اموات کی تعداد کے بارے میں مختلف بیانات کے ذریعہ کوئی جھوٹ کو صاف کرنے کا کام کرتا ہے تو پھر وہ گِدھ ہی ہے اور گِدھ ہی ہندوستان کی تہذیب کو بچاتا ہے۔ کوئی بھی شخص جو حکومت کے جھوٹے دعو¶ں کو چیلنج کرتا ہے وہ فخریہ طور پر کہہ سکتا ہے کہ گِدھ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا تحفظ کرتے ہیں۔ حکومت نے گِدھوں کے تحفظ کیلئے جو لائحہ عمل طئے کیا ہے یا منصوبہ بنایا ہے اس کے مطابق ملک کی پانچ ریاستوں میں گِدھوں کی افزائش کیلئے مراکز تعمیر کئے جائیں گے۔

کچھ دن قبل ڈاکٹر ہرش وردھن نے رام دیو کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے سائنٹفک شعور کے بارے میں احساس پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے گِدھوں کے تئیں جو رویہ اپنایا ہے وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انھیں بھی خود کی سوچ کو سائنٹفک سوچ میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اُمید ہے کہ وہ برا نہیں مانیں گے اور گِدھوں کے بارے میں کچھ پڑھنا شروع کردیں گے کیونکہ کچھ پڑھنے سے ہی کسی کے بارے میں حقیقی معلومات حاصل ہوں گی۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو انہیں یہ احساس ضرور ہوجائے گا کہ گِدھوں کے تعلق سے انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ غلط ہے۔ بہر حال پلیٹ کے ساتھ کھیلنا ایک سائنٹفک امتزاج نہیں بلکہ ایک سائنٹفک امتزاج کو پنکچر کرنا ہے۔ یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ شروع ہوا ہے۔ کیرالہ بھی ایک ایسی ریاست ہے جہاں کے اخبارات کی جانب سے مرنے والوں کے بارے میں تفصیلات شائع کرنے کی روایت رہی ہے اور اس کیلئے کسی سے کوئی رقم نہیں لی جاتی۔ اس کے برعکس انتقال کی خبروں کی اشاعت کیلئے ہندی اور انگریزی اخبارات پیسے وصول کرتے ہیں اور خاص طور پر ہندی علاقوں کے اخبارات انتقال کی خبر بھی شائع کرنے کیلئے پیسے حاصل کرتے ہیں۔ ملیالم اخبارات پرنٹ اور آن لائن ایڈیشن برسوں سے انتقال کی خبریں مفت شائع کررہے ہیں۔ اخبارات کے ہر ڈسٹرکٹ ایڈیشن میں مرنے والوں کے بارے میں خبروں کا ایک خصوصی صفحہ ہوتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں صرف اور صرف حکومت کی خراب منصوبہ بندی کے نتیجہ میں عوام کورونا سے متاثر ہوکر اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے۔ حکومت نے ہمیشہ دروغ گوئی سے کام لیکر اموات کی تعداد پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جس کی کئی مثالیں عوام کے سامنے ہیں۔ واضح رہے کہ انڈین اکسپریس میں چن مے تمھبے کا ایک مضمون شائع ہوا جس میں انہوں نے لکھا کہ آج بھی اس بات پر ریسرچ کی جارہی ہے کہ 1918 میں آئے اسپانش فلو کے دوران ہندوستان میں کتنی اموات واقع ہوئی تھیں۔ ہاں اس وقت کے سنیٹری کمشنر نارمن وائٹر نے غیر معمولی دیانتداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی رپورٹ میں تحریر کیا تھا کہ 6 ملین لوگوں کی موت ہوئی ہوگی اور مرنے والوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہوگی۔

1921 میں جب لوگوں میں شعور بیدار کیا گیا ، سروے کرنے والوں نے دیکھا کہ گا¶ں کے گا¶ں خالی ہوچکے تھے تب اندازہ لگایا گیا کہ کم از کم ایک کروڑ لوگوں کی موت ہوئی ہے 6 ملین لوگوں کی نہیں۔ چن مے تھمبے نے اپنی تحقیق کے دوران یہ پایا کہ برصغیر ہند میں اسپانش فلو کے باعث 20 ملین لوگوں کی موت ہوئی، اموات کی یہ تعداد سرکاری اعداد و شمار سے تین گنا زیادہ تھی۔ اس طرح 6 فیصد آبادی کا خاتمہ ہوگیا تھا۔