ملک میں کل سے ’ڈیجیٹل روپی‘ کی شروعات، آئیے جانتے ہیں اس کے فائدے اور نقصانات

1,542

ممبئی:ہندوستان میں کل یعنی یکم دسمبر سے ڈیجیٹل کرنسی (ڈیجیٹل روپی) کی شروعات ہو جائے گی۔ یکم نومبر کو آر بی آئی نے ہول سیل ٹرانزیکشن کے لیے ڈیجیٹل روپیہ لانچ کیا تھا، اور اب سنٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی ریٹیل استعمال کے لیے لانچ کرے گا۔

ایسے میں لوگوں میں اس بات کو لے کر تجسس دیکھنے کو مل رہا ہے کہ آخر یہ ڈیجیٹل روپیہ کیا ہے، اور اس کا استعمال کس طرح کیا جائے گا؟ سبھی اس کے فائدے اور نقصانات کے بارے میں جاننے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔ آئیے یہاں جانتے ہیں ان سبھی سوالات کے جواب۔

ڈیجیٹل روپیہ کیا ہے، یہ کیسا ہوگا؟
ڈیجیٹل روپیہ ایک ڈیجیٹل ٹوکن کی طرح کام کرے گا۔ مطلب یہ ہے کہ ڈیجیٹل روپیہ آر بی آئی کی طرف سے جاری کیے جانے والے کرنسی نوٹ کی ڈیجیٹل شکل ہے۔ اس کا استعمال کرنسی کی طرح ہی لین دین میں کیا جائے گا۔ آر بی آئی کے مطابق ای-روپی کا ڈسٹریبیوشن بینکوں کے ذریعہ ہوگا۔

آر بی آئی کے مطابق ڈیجیٹل روپیہ ایک پیمنٹ کا ذریعہ ہے، جو سبھی شہری، بزنس، حکومت اور دیگر لوگوں کے لیے ایک لیگل ٹنڈر ہوگا۔ اس کی قدر سیف اسٹور والے لیگل ٹنڈر نوٹ یعنی موجودہ کرنسی کے برار ہی ہوگی۔