سری نگر،25 اپریل (یو این آئی) پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ ملک میں مسلم اقلیتی فرقے کے گھروں اور روزگار کو برباد کیا جا رہا ہے جبکہ ہمارے وزیر اعظم کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کے کروڑوں مسلمان سہمے ہوئے ہیں اور جموں وکشمیر کے نوجوانوں کے مستقبل کا بھی بھیڑا غرق کر دیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کی بجلی سے ملک بھر کے کارخانے اور گھر چلتے ہیں لیکن خود ہم ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں بھی اندھیرے میں ہیں۔موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا: ’ہمارا ملک سب سے بڑا سیکولر ملک ہے لیکن اس میں مسلم اقلیتی فرقے کے لوگوں کے گھروں اور روز گار کو برباد کیا جا رہا ہے جبکہ ہمارے وزیر اعظم کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا: ’کروڑوں مسلمان سہمے ہوئے ہیں اور وزیر اعظم کے گھر کے باہر جہانگیر پوری میں تنازعہ چل رہا ہے اور عدالت عظمیٰ کے حکمنامے کی بھی تعمیل نہیں کی جا رہی ہے‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر کے نوجوانوں کے مستقل کا بھیڑا غرق کر دیا گیا اور ان پر اب پی ایس اے کے بجائے یو اے پی اے لگا دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے روزگار اور کاروبار باہر کے لوگوں کو دیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر کی بجلی سے پورے ملک کے کارخانے اور گھر چلتے ہیں لیکن ہم خود ماہ رمضان کے مقدس مہینے میں بھی اندھیرے میں ہیں۔

موصوف سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کا روزگار باہر کے لوگوں کو دیا جا رہا ہے اور یہاں بے روزگاری کا گراف بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کو روزگار دینے کے بجائے روزگار سے محروم کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا: ’جموں وکشمیر پس رہا ہے اور واجپائی جی کا بات چیت کا طریقہ کار کہیں نظر نہیں آرہا ہے‘۔موصوفہ نے کہا کہ جموں میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے پروجیکٹس کا افتتاح کیا جا رہا ہے۔جموں و کشمیر میں نئی سیاسی جماعتوں کے معرض ووجود میں آنے کے بارے میں پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا: ’یہ اچھا ہے کہ نئی پارٹیاں بن جاتی ہیں لیکن مین اسٹریم سیاسی جماعتوں کو بلڈوز کیا جا رہا ہے اور یہاں سیاسی عمل مفلوج ہو کر رہ گیا ہے‘۔انہوں نے کہا: ’مجھے سیکورٹی کے نام پر کہیں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے‘۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں وزیر اعظم کے اس دورے سے کوئی امید وابستہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی کو پچاس فیصد کم کر دیا گیا ہے تاکہ یہاں کے نوجوانوں کو تل دھرنے کے لئے بھی زمین نہ مل سکے۔ان کا کہنا تھا کہ جموں کا نوجوان روزگار کے لئے سڑکوں پر آتا ہے لیکن کشمیر کا نوجوان باہر نہیں نکل سکتا ہے کہ کہیں یو اے پی اے نہ لگ جائے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر نے ایک مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے باوجود اس لئے ہندوستان کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا کیونکہ یہاں تمام مذہبوں کے لوگ مل جل کر رہتے تھے لیکن آج یہاں ایسا نہیں ہے۔