محمد ریاض احمد

آج کل ہندوستان میں تباہی و بربادی کا بلڈوزر چکر لگا رہا ہے۔ جہاں تک بلڈوزر کے استعمال کا سوال ہے، فرقہ پرست تنظیموں اور جماعتوں نے اسے بھی مسلمانوں کے خلاف ایک ہتھیار بنالیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بلڈوزر صرف اور صرف مسلمانوں کے خلاف اور وہ بھی حکومت کی سرپرستی یا اس کے اشاروں پر چلایا جا رہا ہے۔ جس طرح فرقہ پرستی اور خاص طور پر مسلمانوں کے قتل عام سے متعلق ’’گجرات ماڈل‘‘ ہندوستان کی تاریخ کا ایک بدترین حصہ بن گیا، اسی طرح ’’بلڈوزر‘‘ دراصل نہتے مسلمانوں کو دبانے، اُن کی آوازوں کو کچلنے اور ان کے حقوق کو پامال کرنے کیلئے اختیار کردہ ’’اسرائیلی ماڈل‘‘ ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں فی الوقت دو ماڈلس ایک ’’اسرائیلی ماڈل‘‘ اور دوسرا ’’گجرات ماڈل‘‘ پر عمل کیا جارہا ہے اور اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی بھی نہیں ہے کہ جان بوجھ کر مسلمانوں کو جانی و مالی نقصان پہنچایا جارہا ہے اور اس معاملے میں انتہائی شرمناک بات ہمارے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی ہے۔ اس ضمن میں عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا نے بہت خوب کہا ہے ’’اس ملک میں وزیر داخلہ امیت شاہ دنگے و فسادات برپا کروا رہے ہیں۔ ایسے میں مسلمانوں کے مکانات و دکانات پر بلڈوزر چلانے کی بجائے امیت شاہ کے مکان اور بی جے پی کے ہیڈکوارٹرس پر بلڈوزر چلائے جانے چاہئے۔ عآپ کے رکن پارلیمنٹ کا یہ بھی کہنا تھا: ’’ملک بھر میں دنگے بی جے پی کروا رہی ہے، غنڈہ گردی بی جے پی کروارہی ہے، دہشت بی جے پی پھیلا رہی ہے اور اب وہ بلڈوزر کی بات کررہے ہیں‘‘۔

اُن کے خیال میں اگر ملک میں فسادات روکنا ہو تو سب سے پہلے بی جے پی کے ہیڈکوارٹرس پر بلڈوزرس چلائے جانے چاہئے۔ حالیہ عرصہ کے دوران دہلی میں جو کچھ بھی دنگے فساد، خون خرابہ ہوا، اس کیلئے بی جے پی ہی ذمہ دار ہے۔ ایک مرحلے پر انہوں نے حقیقت پسندانہ انکشاف کیا کہ وزیر داخلہ خود یہ دنگے کروارہے ہیں، اگر دنگوں کا سلسلہ روکنا ہو تو پھر وزیر داخلہ کے مکان پر بلڈوزر چلاتے ہوئے اسے زمین دوز کردینا چاہئے۔ یہ صرف عام آدمی پارٹی قائدین کے مطالبات نہیں ہیں بلکہ آج ہندوستانیوں کی اکثریت کا خیال بھی یہی ہے، کیونکہ اب ہندوستانی شہری اچھی طرح جان چکے ہیں کہ نریندر مودی کی زیرقیادت مرکزی حکومت یا پھر بی جے پی زیراقتدار ریاستی حکومتوں کے پاس کوئی ترقیاتی ایجنڈہ نہیں ہے۔ وہ ملک کے سلگتے مسائل پر توجہ دینے کی بجائے اُن مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے ہندو۔ مسلم کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ کبھی فسادات کے بہانے مسلمانوں کے مکانات کی قرقی عمل میں لائی جارہی ہے تو کبھی CAA کے خلاف جمہوری انداز میں احتجاج کرنے والوں کے حوصلے پست کرنے ، انہیں ڈرانے دھمکانے اور دہشت زدہ کرنے، ایسے بڑے بڑے پوسٹرس چوراہوں پر لگائے جارہے ہیں، جن پر مظاہرین کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔ اسی طرح اپنے جمہوری و دستوری حقوق کیلئے احتجاج کرنے والوں پر جرمانے عائد کرکے ان کے حوصلے کمزور کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق کی تائید میں ہمیشہ آگے رہنے والے ہندوستان نے جب سے (1992ء میں کانگریس کا جسم اور آر ایس ایس کی روح رکھنے والے پی وی نرسمہا راؤ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کئے تھے) اسرائیل سے قربت اختیار کی تب سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت پیدا ہوئی اور سرزمین ہند پر بھی اسی انداز کی کارروائیاں کی جانے لگیں جس طرح ظالمانہ ، جابرانہ اور غیرانسانی کارروائیاں کرۂ ارض کی ناجائز مملکت ’’اسرائیل‘‘ فلسطینیوں کے نہتے افراد کے خلاف کرتا ہے۔ مظلوم فلسطینی انتہائی عصری آلات و ہتھیاروں سے لیس ظالم صیہونیوں کا پتھروں اور غلیل سے مقابلہ کرتے ہیں :
کافرہے تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسہ
مومن اگر ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

کے مصداق بے سروسامانی کے باوجود معصوم فلسطینی بچے اور نوجوان جب پتھر اُٹھاتے ہیں تو ظالم اسرائیلی سپاہیوں پر ایک عجیب خوف طاری ہوجاتا ہے۔ بہرحال ہمارے ملک بالخصوص اترپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان اور دہلی میں پیش آئے تازہ ترین واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف اسرائیلی پالیسی اپنائی جارہی ہے۔ ساری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح مدھیہ پردیش کے کھرگون علاقہ اور دہلی کے جہانگیر پوری میں رام نومی اور ہنومان جینتی کے دوران نکالی گئی ریالیوں میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کی گئی، انہیں گالیاں دی گئیں ، یہاں تک کہ مساجد کے قریب جاکر نہ صرف DJ بجایا گیا بلکہ اشتعال انگیز نعروں کے ذریعہ مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ جہاں بھی رام نومی اور ہنومان جینتی کی ریالی نکالی گئی، ان میں ایک بات مشترک تھی ، وہ یہ کہ مظاہرین کے ہاتھوں میں ننگی تلواریں، ترشول، لاٹھیاں یہاں تک کہ پستولس بھی موجود تھے۔

لیکن حکومت اور پولیس کی جانبداری اور تعصب کا یہ حال ہے کہ ریالیوں میں ہتھیاروں سے لیس غنڈوں کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کی بجائے ان مسلمانوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے جو فساد کو رفع دفع کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اشرار مساجد کے باہر شرپسندی کرتے ہیں اور مسلمانوں کو اس بات کا بھی حق نہیں کہ وہ اپنی عبادت گاہوں، اپنی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے حرکت میں آئیں؟ اب کیا سنگھ کے غنڈے اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کریں گے؟ انہیں گالیاں دیں گے؟ اُن پر حملے کریں گے اور ہمیں بڑی خاموش کے ساتھ ان کے ہر ظلم کو سہنا ہوگا؟ حالانکہ یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ظالم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا بھی اس کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔ یہ بات بھی سب پر عیاں ہے کہ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم کے باوجود مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ حقوق انسانی کے جہدکار ان کی مجرمانہ خاموشی کا مطلب یہ بھی نکال رہے ہیں کہ مودی اور امیت شاہ یہی چاہتے ہیں کہ فرقہ پرست درندے مسلمانوں کا گھیرا تنگ کریں۔ اگر حقیقت میں مودی، امیت شاہ اور ان کی قبیل کے دیگر عناصر یہی چاہتے ہیں تو انہیں وہ مناظر کبھی نہیں بھولنا چاہئے جو ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے دوران اکثر دیکھے جاتے تھے مثلاً درختوں پر مسلم مجاہدین آزادی کی پھلوں کی طرح لٹکتی نعشیں، انگریزوں کو ہندوستان میں اگر کسی سے زیادہ خوف تھا، تو وہ مسلمان ہی تھے۔ انہیں اندازہ تھا کہ مسلمانوں کا جذبہ جہاد ، جذبہ شہادت ان کیلئے ایک زبردست خطرہ ہے کیونکہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتے بلکہ موت کا تعاقب کرتے ہیں۔ نتیجہ میں زندگی اسے تھام لیتی ہے۔ مسلمان تو اپنے رب سے اپنی زندگی کا سودا کیا ہوتا ہے۔

بہرحال ہم بات کررہے تھے وزیراعظم نریندر مودی کی مجرمانہ خاموشی، پولیس کے تعصب و جانبداری کی، اس بارے میں آپ کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ 2014ء میں مودی کی زیرقیادت بی جے پی اقتدار میں آنے کے ساتھ ہی مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کے خلاف نفرت انگیز مہم شروع کی گئی، بطور خاص مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ گاؤکشی، لو جہاد، لینڈ جہاد، اقتصادی جہاد، نوکری جہاد، حجاب، حلال غذاؤں کے نام پر یا بہانے مسلمانوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کرنے کی مہم شروع کی گئی جس کے نتیجہ میں بے شمار مسلمانوں نے ہجومی تشدد کا نشانہ بن کر جام شہادت نوش کیا۔ حال ہی میں ایک خودساختہ سنت بجرنگی داس منی نے برسر عام مسلمانوں کو دھمکی دی کہ وہ مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر ان کی خواتین کو اغوا کرکے بھرے بازار میں ان کی عصمت ریزی کرے گا۔ غرض ہندوتوا کی تنظیمیں جن کا آر ایس ایس سے الحاق ہے، مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ دھرم سنسد کے نام پر مسلمانوں کے قتل عام پر زور دیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود مودی اپنا منہ کھولتے نہیں۔ کچھ بولتے نہیں، پولیس بھی کارروائی کرنے سے ڈرتی گھبراتی ہے بلکہ کھلے عام تعصب برتتی ہے۔ شرم کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کئی حکومتوں بالخصوص امریکہ نے ہندوستان کے حالات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ عالمی سطح پر ہندوستان میں اقلیتوں پر مظالم کے معاملے میں ’’تھو تھو‘‘ ہورہی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی صرف ’’بھائیو بہنو‘‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ انہیں کھرگون اور دہلی کی جہانگیر پوری میں مسلمانوں کے خلاف بلدیہ اور پولیس کی یکطرفہ کارروائی دکھائی نہیں دیتی یا جان بوجھ کر وہ دیکھنا نہیں چاہتے۔

پولیس اور انتظامیہ کا تعصب کس قدر تمام حدود پھلانگ چکا ہے۔ وہ سب پر عیاں ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ ان ہی مسلمانوں کو گرفتار کرتی ہے، ان کے گھروں کو مسمار کرتی ہے، ان پر بھاری جرمانے عائد کرتی ہے، ان پر ناقابل بیان ظلم و جبر کے پہاڑ توڑتی ہے جو فرقہ پرستوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ بعض فسادات میں مسلمانوں کو مارا بھی جاتا ہے۔ ان کی املاک لوٹی بھی جاتی ہے اور بڑی بے شرمی سے ان کو ہی گرفتار کرکے جھوٹے مقدمات میں ماخوذ کیا جاتا ہے۔ افسوس تو ان Presstitutes پر ہوتا ہے جو اپنے ٹی وی چیانلوں کے اسٹوڈیوز میں بیٹھی ؍ بیٹھے نفرت کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ اشتعال انگیزی کیلئے فرقہ پرستوں کتوں کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔ بہرحال بی جے پی حکومت میں بلڈوزر مسلمانوں کے مکانات و دکانات پر نہیں بلکہ دستور ،قانون کی حکمرانی ہندوستان کی عظمت اس کی گنگا جمنی تہذیب اس کی عظیم روایتوں پر یہ بلڈورز چلاتے جارہے ہیں۔ کاش کہ یہ بلڈوزر فرقہ پرستی، بیروزگاری ، آسمان کو چھوتی قیمتوں، تعصب و جانبداری ، بے شرفی و بے حیائی پر چلائے جاتے ہیں۔