زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کرنے والی کسان تنظیموں نے پیر کو حکومت سے مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے کرنے کا مطالبہ کیا۔کسانوں کولفظی

یقین دہانی پربھروسہ نہیں ہے۔کیوں کہ ’اب نہ گی مہنگائی کی مار‘،’اب نہ ہوگاناری پروار‘،’جی ایس ٹی کے فوائد‘،’دوکروڑروزگار‘اور’نوٹ بندی کے

فوائد‘کاحال ملک دیکھ چکاہے۔دوسری طرف کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ وزیر اعظم نے آج کہا ہے کہ ایم ایس پی ہے ، اور رہے گی لیکن انہوں نے یہ نہیں کہاہے کہ کم سے کم سپورٹ قیمت پر کوئی قانون بنایا جائے گا، ملک بھروسے پرنہیں چلتاہے۔ملک آئین اور قانون سے چلتاہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں