ملک شام، فلسطین کے معصوم بچے آج اوپر سے دیکھ رہے ہیں.

محمود نواز

اج ٹیلی وژن، واٹس ایپ ،فیس بک اود دیگر سوشل میڈیا کے ذریعے ہر فرد ایک دوسرے کو کرونا وائرس سے بچنے کے لئے *گھر پر پڑے رہنے کی ہدایت، نصیحت اور گزارش کر رہا تھا کیونکہ اس وبائی بیماری سے موت بھی ہو سکتی ہےہر کوئی زبردستی گھروں میں بیٹھ گیا ہے.. اور اس کی آنکھوں میں موت کا خوف..

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

یہ سب دیکھ کے شامی بچے نے فلسطینی بچے سے کہا..

یار ہم تو گھر میں ہی تھے پھر بھی ہمیں موت آگئی..

اور ہماری فکر بھی کوئی نہیں کرتا تھا کہ ہم. معصوموں کا کیا قصور جب کہ ایسی وبائی آفت بھی نہ تھی..
اس پر فلسطینی بچے نے مسکرا کر کہا ” جب شاید ہماری فکر کرتے آج یہ فکر انھیں لاحق نہ ہوتی،،”
تب انھیں ہمارے لاک ڈاون کا خیال تک. نہ آیا..
میرا چھوٹا بھائی باہر کھیل رہا تھا زندہ نہ لوٹا اسے دیکھنے ہم. سب باہر آے اور ایک بمب ہم پر گر پڑا….
اور ہم یہاں.. یہ کہتے ہوے وہ خاموش ہوگیا..
اس خاموشی کو توڑتے ہوے شامی بچے نے کہا کیا بمباری کرنے والے انسان کے بچے نہیں ہوتے..
فلسطینی بچے نے جواب دیا ہوتے ہیں وہ دیکھو زمین پر انکو بچانے کے لئے ہی تو کہہ رہا ہے

اسٹے ایٹ ہوم..Stay at home

دونوں کے چہرے پر ایک پرسکون مسکراہٹ آئی..

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me