Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

ملکی و شرعی قوانین کی روشنی میں خواتین کے احتجاج کی اجازت و ضرورت

از خادمئہ اسلام بنت مفتی عبد المالک مصباحی، جمشید پور جھارکھنڈ، انڈیا
ہے نعرہ یہ جس کا کہ بیٹی بچائیں         وہی آج سڑکوں پے ہیں ہم کو لائیں
     جان سے زیادہ پیار کرنے والے لوگ اپنے سونے کی چڑیا کہے جانے والے ملک کو جلتا ہوا دیکھ کر اپنے جیتے جی وطن کی جمہوریت کا جنازہ نکالتا کبھی گوارا نہیں کر سکتے!! وہ چمن جس کی کوکھ میں بغیر کسی بھید بھاؤ کے ہر مذہب و ملت کے لوگ باطمبان و سکون سکونت پذیر تھے آج اسی دھرتی کو ذات پات کے فرق سے بانٹا جا رہا، ایسے حالات میں ایک باغیرت و حمیت ہندی مرد ہو خواہ عورت چاہے جس مذہب کا ہو چین و سکون سے بیٹھا نہیں ہے بلکہ میدان میں نکل کر حکومت کو للکارتے ہوئے یہی کہہ رہا ہے….
 جہاں بھر میں کرتے ہیں ہم فخر جس پر   وہی  بھائی  چارہ  مٹایا  نہ    جائے
     اور سڑکوں پر اتر کر سوئی ہوئی حکومت کو للکاریں بھی کیوں نہ کہ ہمارے پیارے ملک، اور قابلِ صد تسلیم سمبھیدان کے دیے ہوئے شہری حقائق کے دفعہ 14 میں کہا گیا ہے کہ…. ”قانون کی نظر میں ہر شہری برابر سمجھا جائے گا، اگر کسی کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہو تو ہندوستان میں عدلیہ کو شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ سونپا گیا ہے -“ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شہری کے بنیادی حقوق مجروح ہوتے ہیں تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا کر اپنے حقوق کو بحال کرنے کی مانگ کر سکتا ہے پھر عدلیہ اسے ان حقوق کو بحال کرنے کا حکم دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ عدلیہ کو شہری حقوق کا محافظ کہا جاتا ہے – (سوشل سائنس،  کلاس9)
     چناں چہ یہ ثابت ہو گیا کہ سمبھیدان بدلنے والی حکومت، ہندوستانی کے حقوق کو مجروح کرنے والے کالے قانون کی تردید کرنا اور اس کے خلاف آواز اٹھانا، مظاہرے کرنا، احتجاجی ریلیاں نکالنا ہر ہندی شہری کا حق اور وقت کی ضرورت ہے – اب وہ مظلوم مرد ہوں یا عورت کسی کو بھی سڑکوں پر اتر کر حکومت کو للکارنے سے کوئی روک نہیں سکتا، اسی لیے عورتوں کا ریلیاں نکالنا آئینی و ملکی رو سے بالکل جائز و درست ہے بلکہ عورتوں کی آوازِ احتجاج کو ہمارے ملکی آئین نے زیادہ اہمیت دی ہے اور ان نازک مہیلاؤں کی جلد سنوائی کرنے کا حکم دیا ہے یہاں تک کہ 1976ء کے ترمیم آئین ہند کے مطابق کچھ ملکی فرائض بھی شامل گئے جن میں سے فریضہ نمبر 5 میں یہ ہے کہا گیا ہے کہ…. ”عورتوں کے احترام کو ٹھیس پہنچانے والی رسموں کو چھوڑ دیا جائے“ -(المرجع السابق) ایسے دستور والے ملک میں عورتوں کی آواز ضرور سنی جائے گا لہٰذا عورتوں کا سنبھیدان بچانے، جمہوریت قائم رکھنے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاجی مظاہرہ کرنا، ریلیاں نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے –
*🔊شرعی رو سے خواتین کا احتجاج کے لیے نکلنا کیسا ہے؟؟*
     یہاں تک جو واضح کیا گیا یہ ملکی و آئینی تعلیمات و قوانین کی روشنی میں تھا مگر ہم چوں کہ مسلمان ہیں اور ہمارے نزدیک ملکی و آئینی قوانین کے ساتھ ساتھ اسلامی و شرعی احکام کی بھی رعایت بے حد ضروری ہے لہٰذا اب یہ واضح ہو جائے کہ خواتین کا اپنے حقوق کی حفاظت اور اپنی بلکہ اسلام کی بقا کے لیے سڑکوں پر نکلنا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں؟؟
*تو دیکھیے!!* اسلام ہر معاملے میں افراط و تفریط سے پاک مذہب ہے اس نے کبھی یہ نہیں کہا کہ عورتوں کو سڑکوں اور بازاروں کی زینت بنا دیا جائے اور نہ ہی کبھی اس کا قائل ہے کہ عورتیں ایک قیدی کی مانند ہر حال میں بس چار دیواری حجرے ہی میں مسدود رہے بلکہ بلا حاجت گھروں کو ویران کر کے بازاروں میں پھرنے سے منع کیا ہے اور بوقت حاجت شدیدہ دینی و دنیوی مکمل شرعی پردے میں مستور ہو کر خاتون کو گھر سے نکلنے کی اجازت بھی دی ہے –
   *اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا وہ حالات نہیں آئے جن میں عورتوں کو نکلنے کی اجازت ہے؟* تو ضرور وہ وقت آن پڑا ہے کہ صرف مردوں کے احتجاج سے حکومت بیدار ہونے والی نہیں بلکہ عورتوں کی چینخوں سے پایہ سلطنت کو ہلانے کی ضرورت ہے ورنہ ہم تو مریں گے ہی ساتھ ہی ساتھ ہماری خاموشیوں کے سبب ہماری بچی کھچی آنے والی نسلیں ایمان کی دولت سے محروم رہ جائیں گی اور بالخصوص مذہب اسلام سرزمین ہند سے نست و نابود ہو جائے گا چناں چہ ثابت ہو گیا کہ اب صرف جان بچانے کی نہیں بلکہ اسلام کے بچانے کی بات ہے لہذا اس اہم ضرورت کے پیش نظر عورتوں کے نکلنے کی بھی شریعت ویسے ہی اجازت دیتی ہے جیسے ہمارے آقا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کے ساتھ ازواج مطہرات کو میدان جنگ میں جانے اجازت تھی، جس طرح حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو جنگ کے موقع پر زخمیوں کو پانی پلانے کی اجازت تھی، یہ ویسی ہی اجازت ہے جیسے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو میدان بدر میں جانے کی اجازت تھی، جس طرح غزوہ خندق میں تمام صحابہ کے ساتھ حضرت ام عمارہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کو قتل دشمنانِ اسلام کی اجازت تھی اور عورتوں کو ویسے ہی گھروں سے نکلنے کی اجازت ہے جیسے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ فاطمہ ثانی حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا کے نکلنے اور میدان کربلا تک جانے کی اجازت تھی الغرض دینی و مذہبی ضرورت شدیدہ کے پیش نظر اسلام نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی تحفظ و بقا کے لیے مکمل احتیاط کے ساتھ نکلنے کی اجازت دی ہے حتی کہ فقہا نے انھیں دلائل سے یہ فقہی مسئلہ مستنبط کیا ”لا يعجبنا أن يقاتل النساء مع الرجال في الحرب“ –
    *الآخر* ان تمام تفصیلات کے بعد عرض یہ ہے کہ جہاں جہاں سے علما اور دانشوروں کی رہنمائی و مشورے کے مطابق خواتین کے احتجاجات نکل رہے ہیں ان پر قطعی طعن و تشنیع نہ کیا جائے بلکہ انھیں سراہا جائے اور ان کی تقلید کرتے ہوئے اپنے شہروں، علاقوں اور صوبوں میں عورتوں کی ریلیاں اور دھرنے کا جلد از جلد انتظام کیا جائے اور ہر جگہ سے خواتین کی ظلم کے خلاف یوں آواز بلند ہو……
سنا عائؔشہ ظالموں کو صدا یہ     بلا جرم ہم کو ستایا نہ جائے