ملکہ الزبتھ کی وفات: برطانیہ کے سکوں، ڈاک ٹکٹوں اور پاسپورٹس میں کیا تبدیلی آئے گی؟

220

شاہی تخت پر 70 سال مسلسل براجمان رہنے کی وجہ سے ملکہ الزبتھ دوم برطانوی لوگوں کی روز مرّہ کی زندگی کا ایک اہم حصہ بن گئی تھیں۔برطانیہ میں ان کی تصویر، پروفائل اور شاہی مہریں خطوط پر، شاہی اعزازات سے لے کر سیریل ڈبوں پر نظر آتی تھی – تو اب کیا فرق ہو گا؟

برطانیہ میں زیر گردش تمام 29 ارب سکوں پر ملکہ کا چہرہ کندہ ہے۔ تازہ ترین ڈیزائن سنہ 2015 کا ہے جب وہ 88 سال کی تھیں۔ یہ سکوں کا پانچواں پورٹریٹ تھا جو ان کے دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔

رائل منٹ (شاہی ٹکسال) نے فی الحال یہ نہیں بتایا ہے کہ وہ شاہ چارلس سوم کے چہرے والے سکے کیسے اور کب جاری کرے گا، لیکن امکان ہے کہ ملکہ کے سکے کئی سالوں تک گردش میں رہیں گے اور ان کو تبدیل کرنے کا عمل بتدریج ہو گا۔

ملکہ کی پہلی تصویر برطانیہ کے ایک پاؤنڈ کے نوٹ پر سنہ 1960 میں شائع ہوئی تھی۔سنہ 1971 میں تمام برطانوی سکوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے سے پہلے سکوں پر متعدد بادشاہوں کے چہروں کا نظر آنا معمول تھا۔

اگرچہ ہم نہیں جانتے کہ نئے بادشاہ کے سکے کی تصویر کیسی ہو گی لیکن رائل منٹ کی جانب سے سنہ 2018 میں ان کی 70 ویں سالگرہ کی یاد میں جاری کیے گئے ایک سکے نے ہمیں اس کے بارے میں ایک اشارہ دیا۔

اور ایک چیز جو یقینی معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے بائیں طرف کا رخ دوسری طرف یعنی دائیں جانب دیکھتے ہوئے دکھایا جائے گا۔ شاہی روایت یہ بتاتی ہے کہ سکوں پر بادشاہ کے چہرے کا رخ ہر نئے بادشاہ کے لیے بدل دیا جاتا ہے۔

حکومت کی طرف سے دستخط کیے جانے کے بعد نئے ڈیزائن جنوبی ویلز کے لانٹرِسنٹ میں واقع رائل منٹ میں تیار کیے جائیں گے۔سنہ 1960 کے بعد سے تمام بینک آف انگلینڈ کے نوٹوں پر ملکہ کی تصویر شائع ہوتی رہی ہے (سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے بینکوں کے جاری کردہ نوٹ بادشاہ کی تصویر شائع نہیں کرتے)۔

اس وقت تقریباً بینک آف انگلینڈ کے جاری کردہ 4.5 ارب کرنسی نوٹ زیرِ گردش ہیں جن کی مالیت تقریباً 80 ارب پاؤنڈ بنتی ہے اور سکوں کی طرح یہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہو جائیں گے۔

تمام نوٹ اور سکوں کی قانونی حیثیت برقرار رہے گی۔ اگر اسے تبدیل کرنا ہے تو بینک آف انگلینڈ بہت طویل نوٹس دے گا۔

ڈاک ٹکٹ اور پوسٹ بکس
سنہ 1967 کے بعد سے رائل میل کی طرف سے جاری کردہ تمام ڈاک ٹکٹوں میں ملکہ الزبتھ دوم کی چہرے کے ایک جانب کا عکس نمایاں طور پر ابھرا ہوا ملتا ہے۔

رائل میل اب ملکہ الزبتھ دوم کے ڈاک ٹکٹوں کی تیاری بند کر دے گا — حالانکہ وہ اب بھی خطوط اور پارسل پر استعمال کیے جا سکتے ہیں — اور نئے ٹکٹ نئے بادشاہ کی تصویر کے ساتھ بنانے کا عمل شروع کر دے گا۔

نئے بادشاہ کی تصویر اس سے پہلے بھی ٹکٹوں پر شائع ہو چکی ہے۔اس سے پہلے نئے بادشاہ کے چہرے والی ڈاک ٹکٹیں شائع ہو چکی ہیں، لیکن رائل میل ابھی یہ نہیں بتائے گا کہ ان کی تصویر کے ساتھ نیا ڈیزائن کیسا نظر آئے گا۔ڈاک ٹکٹوں پر بادشاہ کی تصویر کے ساتھ ساتھ رائل میل بہت سے پوسٹ باکسز پر شاہی نشان لگاتا ہے۔

برطانیہ کے 115,000 پوسٹ باکسز میں سے 60 فیصد سے زیادہ پر ملکہ الزبتھ دوم کا ‘EIIR’ نشان ہے – E الزبتھ کے لیے اور R ریجینا یعنی ملکہ کے لیے۔ سکاٹ لینڈ میں اس کی جگہ ملکہ کے تاج کو نمایاں کیا جاتا ہے۔

سکاٹ لینڈ سے باہر اب کوئی بھی نیا پوسٹ باکس بادشاہ کے نشان کو نمایاں کرے گا، لیکن چونکہ نئے باکسز اب کم ہی تعداد میں لگتے ہیں اس لیے آپ کو ان میں سے کسی ایک کو بھی تلاش کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

منظوری کی شاہی مہر
ٹماٹو کیچپ سے لے کر سیریل کے پیکٹ سے لے کر پرفیوم تک اس بات کے امکانات ہیں کہ آپ نے اپنے گھر کے کچھ گروسری یا دیگر اشیاء پر ’بائی اپائنٹمنٹ ٹو ہر میجسٹی دی کوئین‘ (ملکہِ معظمہ کے شاہی حکمنامے کی منظوری) کے الفاظ کے ساتھ شاہی مہر بھی دیکھی ہو گی۔ یہ وہ مصنوعات ہیں جن کو شاہی منظوری دی گئی ہے، یعنی جو کمپنی اُنھیں بناتی ہے وہ شاہی گھرانوں کو مستقل بنیادوں پر اپنی مصنوعات سپلائی کرتی ہیں۔.پچھلی صدی یا اس سے زیادہ پرانے بادشاہ، ان کی کونسورٹ اور وارثوں نے انفرادی طور پر اپنے اپنے شاہی منظوری کے حکمنامے جاری کیے ہیں جس سے وہ گرانٹر بن جاتے ہیں۔ فی الحال 800 کمپنیوں کے پاس تقریباً 900 شاہی منظوریاں موجود ہیں۔

جب گرانٹر وفات پا جاتا ہے تو اس کے جاری کردہ کوئی بھی رائل وارنٹ کالعدم ہو جاتے ہیں اور کمپنی کے پاس شاہی مہر کا استعمال روکنے کے لیے دو سال ہوتے ہیں۔ (غیر معمولی طور پر مادر ملکہ کی طرف سے جاری ہونے والی منظوریاں ان کی موت کے بعد پانچ سال تک قائم رہی تھیں۔)

پرنس آف ویلز کے طور پر چارلس نے جو منظوریوں کے پروانے جاری کیے ہیں وہ اب جاری رہیں گے کیونکہ وہ اب بادشاہ بن گئے ہیں اور یہ پروانے خاندان کے ساتھ جاتے ہیں، عنوان کے ساتھ نہیں۔

ایک توقع ہے کہ نئے بادشاہ اب اپنے بیٹے اور وارث شہزادہ ولیم کو اپنے وارنٹ جاری کرنے کی اہلیت عطا کریں گے۔

لیکن یہ صرف سکے، کرنسی نوٹ، ڈاک ٹکٹ اور شاہی مہروں والے نشانات نہیں ہیں جنھیں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ تمام برطانوی پاسپورٹ جو ملکہ کے نام سے جاری کیے جاتے ہیں وہ سفر کے لیے اب بھی کارآمد ہیں، لیکن نئے پاسپورٹس میں سامنے کے کور کے اندر موجود الفاظ کو ہز میجسٹی سے بدل دیا جائے گا۔انگلینڈ اور ویلز میں پولیس فورس کو اپنی ہیلمٹ پلیٹوں کے بیچ میں ملکہ الزبتھ دوم کے شاہی نشان کو تبدیل کرنا ہو گا۔

بیرسٹرز اور وکلا جنھیں کوئینز کونسل یعنی ملکہ کے شاہی وکیل کہلاتے ہیں، اب فوری طور پر بادشاہ کے وکیل کے طور پر پہچانے جائیں گے۔ اور آخر میں قومی ترانے کے الفاظ کو ’گاڈ سیو دی کوئین‘ (خدا ملکہ کو سلامت رکھے) کی جگہ ’گاڈ سیو دی کنگ‘ سے بدل دیا جائے گا۔

چارلس کو ایک رسمی تقریب میں باضابطہ طور پر بادشاہ بنانے کے اعلان کرنے کے بعد، سینٹ جیمز پیلس کی بالکونی سے ایک عوامی اعلان کیا جائے گا، جس میں یہ پکار بھی شامل ہے: ’خدا بادشاہ کو سلامت رکھے۔‘اس کے بعد قومی ترانہ ان الفاظ کے ساتھ بجایا جائے گا جو سنہ 1952 کے بعد پہلی بار گایا جائے گا۔(بہ شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)