ملعون رشدی پر 20 سیکنڈ میں حملہ کرنے والا ملزم ہادی مطر کون ہے؟

4,510

نیویارک پولیس نے متنازع مصنف سلمان رشدی پر قاتلانہ حملہ کرنے والے نوجوان کو جمعہ ہی کے روز گرفتار کر لیا تھا۔ ملزم نے سلمان رشدی پر ایک تقریب کے دوران چاقو سے کئی وار کیے تھے جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔شاتاقوا انسٹی ٹیوٹ میں ایک شخص کو پوڈیم کی طرف دوڑتے دیکھا گیا جو بعد میں رشدی پر پل پڑا۔ حملہ آور سامعین میں موجود تھا اور اس نے وہاں سے اٹھ کر رشدی پر حملہ کر دیا۔

سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ کرنے والہ مشتبہ شخص کون ہے؟

برطانوی مصنف سلمان رشدی پر جمعہ کو ہونے والے حملے کے الزام میں گرفتار شخص کا نام ہادی مطر بتایا گیا ہے۔مشتبہ شخص کی عمر 24 سال ہے اور وہ نیو جرسی کے شہر فیئر ویو کا رہائیشی ہے۔ نیو یارک سٹیٹ پولیس کے ترجمان یوجین جے سٹینزیوسکی نے حملے کے چند گھنٹے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ تفصیل شیئر کی ہے۔امریکا کے شہرنیویارک میں توہین رسالت کے مرتکب ناول نگار سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے شخص کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ابتدائی جائزے سے پتا چلتاہے کہ اسے ’’شیعہ انتہا پسندی‘‘اورایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب سے ہمدردی ہے۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق واقعہ کی تحقیقات کرنے والے قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک عہدہ دار نے کہا کہ ماتر اور پاسداران انقلاب کے درمیان کوئی ’’حتمی روابط‘‘ نہیں ہیں لیکن مطر سے تعلق رکھنے والی سیل فون میسجنگ ایپ میں پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی اور’’ایرانی حکومت سے ہمدردی رکھنے والے عراقی انتہا پسند‘‘کی تصاویر شامل ہیں۔
ملزم ہادی مطرکا آبائی تعلق لبنان کے جنوب میں واقع گاؤں یارون سے ہے۔لبنان کے روزنامہ النہار نے ہفتے کے روز خبردی ہے کہ نوجوان ملزم لبنانی نژاد ہے۔یارون کی بلدیہ کے سربراہ علی قاسم طحفی نے اخبارکو بتایا کہ مطر کے والد اور والدہ دونوں کا تعلق ان کے گاؤں سے ہے۔البتہ احمد مطرامریکا میں پیدا ہوااور وہ کبھی یارون نہیں آیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت، یہ فرض کیا جاتا ہے کہ مشتبہ شخص ’اکیلا کام کر رہا تھا‘ لیکن وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تفتیش کر رہے ہیں۔پولیس حکام ماتر کی قومیت اور اس کے مجرمانہ ریکارڈ کی بھی تلاش کر رہے ہیں،

اگرچہ مطر اور آئی آر جی سی کے درمیان کوئی براہ راست روابط نہیں ہیں، تاہم تفتیش کاروں کی اطلاعات کے مطابق مطر کے سیل فون میسجنگ ایپ میں۔ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی تصاویر ملی ہیں، جنہیں 2020 میں قتل کر دیا گیا تھا،
پولیس کا کہنا ہے کہ سلمان رشدی کی گردن پر چاقو سے وار کیا گیا ہے۔ اور حملہ آور اب پولیس کی حراست میں ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے مقصد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے اور حملے کی وجہ جاننے کے لیے ایف بی آئی سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

ملزم ہادی کے پاس رشدی کے پروگرام کا پاس تھا اور وہ تنہا ہی وہاں پہنچا تھا۔ پولیس نے مطر کے خلاف ابھی تک الزامات طے نہیں کیے ہیں۔مشتبہ ہادی مطر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ چھلانگ لگا کر سٹیج پر پہنچا اور سلمان رشدی کی گردن پر کم از کم ایک بار اور پیٹ میں ایک بار چاقو مارا۔
امریکی میڈیا میں نیوریارک پولیس کے حوالے ساتھ زیر گردش اطلاعات کے مطابق ہادی مطر کی عمر ۲۴ سال ہے اور کلیفورنیا میں پیدا ہوا تاہم حال ہی میں نیوجرسی منتقل ہوا ہے۔ اس کے گھر کا آخری پتہ بر نیوجرسی کے شہر برگن کے علاقے فائرویو میں ہے۔ ایف بی آئی کی تحقیقاتی ٹیم نے حادثے کے بعد ہادی مطر کے گھر چھاپہ مار کر تلاشی لی۔ نیوریارک پولیس کے مطابق ہادی مطر کے پاس ایک جعلی ڈرائیونگ لائسنس بھی موجود تھا۔

شیطان پر ۲۰ سیکنڈ میں حملہ

امریکی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ دی ہے کہ سلمان رشدی کو گذشتہ روز 12 اگست2022ء جمعہ کے دن گیارہ بجے اس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہ مغربی نیویارک میں "چوٹاکوا” میں تقریر کرنے والا تھا۔ سلمان رشدی 1988ء میں متنازعہ کتاب شائع کرنے کے بعد مسلمانوں میں اشتعال انگیزی کا سبب بنا۔ اپنے اسی اقدام کی وجہ سے وہ اپنی بقیہ زندگی چھپ کر گزارنے پر مجبور ہوا، جبکہ بانی انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید روح اللہ خمینی نے اس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی اس متنازعہ اور توہین آمیز تصنیف کی اشاعت اور اس کے مذہب مخالف نظریات کے خلاف مسلمانوں میں غم و غصے کے اضافے بعد سلمان رشدی کو ایک ماہ میں پندرہ مرتبہ اپنی رہائش تبدیل کرنا پڑی۔سلمان رشدی اس حملے سے پہلے امریکہ میں مقیم تھا اور کافی عرصے تک سکیورٹی اداروں کی نگرانی میں تھا۔ 2007ء میں انگلینڈ نے سلمان رشدی کو ایوارڈ سے نوازا، جس نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے احتجاج کو جنم دیا۔ شام کے وقت شائع ہونے والے ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا کہ رشدی کو 10 یا 15 بار چاقو مارا گیا، جبکہ دیگر انگریزی ذرائع نے اس حوالے سے لکھا ہے کہ رشدی پر 10 سے 15 بار چاقو سے حملہ کیا گیا ہے۔ نیویارک پولیس نے ہفتے کی صبح اپنے بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سلمان رشدی کو کم از کم ایک بار گردن اور ایک بار پیٹ میں وار کیا گیا ہے۔