ملعون راجہ سنگھ کی گرفتاری کے خلاف حیدرآباد میں بند

989

حیدرآباد: محسن انسانیت حضور اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے آج گوشہ محل اسمبلی حلقہ میں بند کا اہتمام کیا گیا۔

راجہ سنگھ جو اس حلقہ کی اسمبلی میں نمائندگی کرتا ہے، فی الحال چرلہ پلی جیل میں محروس ہے۔ اس جیل میں اس کی سیکوریٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور اس کے بیریک کو بھی سیکورٹی وجوہات کی بنا پر بدل دیا گیا ہے۔

زعفرانی جماعت سے معطل رکن اسمبلی کے حامیوں نے اس کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے گوشہ محل اسمبلی حلقہ میں بند کا اہتمام کیا جس کے پیش نظر دکانات اور تجارتی ادارے بند رہے اور پولیس نے سختی چوکسی اختیار کرتے ہوئے سیکورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک اور تنظیم سری رام سینا نے بھی اس بند کی اپیل کی تھی اور اس کے خلاف پی ڈی ایکٹ لگائے جانے کی مذمت کی تھی۔ پولیس نے اس کو گستاخانہ ریمارکس پر 23 اگست کو گرفتار کیا تھا اور ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نامپلی کریمنل کورٹ کے سامنے پیش کیا تھا۔ تاہم جج نے اس کی ریمانڈ کی پولیس کی عرضی کو مسترد کر دیا تھا اور گرفتاری کے سلسلہ میں درکار مناسب طریقہ کار اختیار نہ کرنے پر اس کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

پولیس نے تاہم 25 اگست کو دو دیگر زیر التوا معاملات میں اس کو نوٹس دیا اور پھر گرفتار کیا تھا۔ پولیس نے اس کے خلاف پی ڈی ایکٹ بھی لگایا تھا۔ اس کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اس کے حامیوں اور سری رام سینا کے بند کے پیش نظر گوشہ محل، منگل ہاٹ اور اطراف کے علاقوں میں دکانات اور تجارتی ادارے بند رہے۔ پولیس نے بند کے پیش نظر ان علاقوں میں سیکورٹی سخت کردی ہے۔ ساتھ ہی پولیس نے انتباہ دیا کہ زبردستی طور پر دکانات بند کروانے پر کارروائی کی جائے گی۔ پولیس نے گنیش فیسٹیول کو دیکھتے ہوئے پہلے ہی شہر کے مختلف مقامات بالخصوص حساس مقامات پر سیکورٹی میں اضافہ کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ راجہ سنگھ کے خلاف 101 فوجداری معاملات زیر التوا ہیں۔