• 425
    Shares

کابل:ملا عبدالغنی برادر طالبان رہنماؤں اور دیگر سیاست دانوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے کابل پہنچے ہیں تاکہ ایک جامع حکومت تشکیل دی جا سکے۔ طالبان کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ طالبان اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گے اور وہ طالبان اراکین کی جانب سے کی جانے والی انتقامی کارروائیوں اور مظالم کی رپورٹس کی تحقیقات کریں گے۔

ایک سینئر طالبان عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ملا عبدالغنی برادر طالبان رہنماؤں اور دیگر سیاست دانوں کے ساتھ مذاکرات کریں گے تاکہ ایک جامع حکومت تشکیل دی جا سکے۔ملا عبدالغنی برادر امارت اسلامی افغانستان کے نائب امیر ہیں اور ان کے پاس طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے انچارج کا عہدہ بھی ہے۔ آج صبح ہی وہ قندھار سے کابل پہنچے ہیں۔

برادر طالبان کی افواج کے کابل میں داخل ہونے کے تین دن بعد گذشتہ منگل کو قندھار پہنچے تھے۔ملا عبدالغنی برادر طالبان کے چار بانیوں میں سے ایک ہیں۔ انھیں 2010 میں پاکستانی حکومت نے گرفتار کیا تھا اور تقریباً تین سال بعد رہا کیا گیا تاکہ امن عمل کو آسان بنایا جا سکے۔

طالبان کے پیروکار ملا برادر کو گروپ کے مفکرین میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے پاکستانی مدرسوں میں مذہب کی تعلیم حاصل کی اور ملا محمد عمر نے جب افغانستان میں طالبان تحریک کا آغاز کیا تو ملا برادر ان چند افراد میں شامل تھے جنھوں نے بندوق اٹھا کر طالبان سربراہ کا ہر لحاظ سے ساتھ دیا اور تحریک کی کامیابی تک وہ ان کے ساتھ ساتھ رہے۔افغانستان سے افغان اور دیگر شہریوں کو نکالنے کے لیے امریکی پروازیں سات گھنٹے کے وقفے کے بعد آج دوبارہ شروع ہوئیں۔

قطر میں کوئی امریکی اڈہ موجود نہیں تھا تاکہ دوسرے لوگوں کو ٹھہرایا جا سکے اور واشنگٹن ایسے ممالک کی تلاش میں تھا جہاں افغانستان سے لائے جانے والے لوگوں کو رکھا جا سکے۔پینٹاگون کے ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ امریکی فوج نے کابل ہوائی اڈے کے قریب ایک ہوٹل کا استعمال کیا جہاں امریکیوں کے ایک گروپ کو کابل سے نکالنے سے پہلے رکھا گیا۔طالبان کے ایک عہدیدار نے سنیچر کے روز خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ طالبان اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گے اور وہ طالبان اراکین کی جانب سے کی جانے والی انتقامی کارروائیوں اور مظالم کی رپورٹس کی تحقیقات کریں گے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عہدیدار نے مزید کہا کہ طالبان نے آئندہ چند ہفتوں کے اندر افغانستان پر حکمرانی کے لیے ایک نیا فریم ورک متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔طالبان عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا ’طالبان کے قانونی، مذہبی اور خارجہ پالیسی کے ماہرین اگلے چند ہفتوں میں ایک نیا حکومتی فریم ورک پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘طالبان نے افغانستان پر قبضے کے بعد سے ایک اعتدال پسند تاثر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

تب سے کچھ افغانوں اور بین الاقوامی امدادی اور وکالت گروپوں کے مطابق احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت جوابی کارروائی کی جا رہی ہے، اور ایسے لوگوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے جو حکومتی عہدوں پر فائز رہے ہیں، طالبان پر تنقید کرتے تھے یا امریکیوں کے ساتھ کام کرتے تھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔