مقابلہ ‘اذان ‘ پر شیوسینا اور بی جے پی میں لفظی جنگ چھڑی ؛ سینا نے ’اذان‘ کا موازنہ ’مہا آرتی‘ سے کیا

16

ممبئی ، 30 نومبر (یو این آئ) حکمراں مہا وکاس اگھاڑی اور اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی ایک بار پھراسوقت محاذ آرائی کا شکار ہوگئی جب شیوسینا نے مھاراشٹرا میں مقابلہ اذان کی ستائش کی اور اذان‘ کا موازنہ ’مہا آرتی‘ سے کیا جس پر بی جے پی نے جم کر تنقید کی اور اسے سینا کی دوہری چال قرار دیا-شیوسینا جنوبی ممبئی کے وِبھاگ پرمکھ پانڈورنگ سکپال نے ، ’اذان‘ کے لئے تعریفی کلمات ادا کیےاور دعویٰ کیا کہ ’’ بھاگوت گیتا مقابلوں ‘‘ کے طرز پر ، ایک ’آذان تلاوت مقابلہ‘ ہونا چاہئے۔

آج یہاں اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوےانہوں کہا کہ انہوں نے ممبئی سے تعلق رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم این جی او ، میری فاؤنڈیشن کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس طرح کے ایک "اذان” مقابلے کے انعقاد پر غور کریں تاکہ مسلم بچوں کو نماز و تلاوت کی ترغیب مل سکیں جس کی ادائگی و روزانہ پنج وقتہ مساجد میں جاکر کرتے ہے

"سکپال نے کہا کہ وہ میرین لائنز علاقے میں واقع مسلمانوں کے ایک قبرستان بنام بڑا قبرستان کے قریب ہی رہائش پزیر ہے نیز انھیں روزانہ’ اذان ‘ کی آواز سنائ دیتی ہے جو مسحور کن ہوتی ہے خوشگوار لگتی ہے اور جو بھی اسے ایک بار یہ سنتا ہے ، وہ ’اذان‘ کے اگلے دور کا بے تابی سے انتظار کرتا ہے۔اسی بات کو لیکر انھیں مقابلہ اذان کے انعقاد کا خیال آیا انہوں نے کہا کہ ’اذان‘ بمشکل پانچ منٹ تک جاری رہنے والا عمل۔ہے اور یہ اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ ’’ مہا آرتی ‘‘ ، جو کہ امن اور محبت کی علامت ہے اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے ۔

ممبئی سے تعلق رکھنے والے بی جے پی لیڈر اتل بھٹکلکر نے شیوسینا کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا کہ ہندو سمراٹ بال ٹھاکرے کی تشکیل کردہ شیوسینا جو خالص ہنرو نظریات کے حامل ہونے کا دعوی کرتی ہے اچانک ہی وہ اذان کی اس طرح کب سے خواہاں ہوگئ ، خاص طور پر جب اس نے ماضی میں ہمیشہ سڑکوں پر مسلمانوں کی جانب سے ‘نماز ’ کی ادئگی کی مخالفت کی تھی۔

بھٹکلکر نےمزید کہا کہ یہ وہ ہی شیوسیناہے جو ماضی میں انتخابات کےدوران کانگریس کو ووٹ دینا ‘دہشت گردی’ یا ‘قصاب’ کو ووٹ دینے کا مترادف قرار دیتی تھی آج اسکے رویہ میں اتنی تبدیلی کیسے آگئ- بی۔جے پی لیڑر نے کہا کہ معاملہ ۔ ‘اذان’ کی مخالفت کرنے کا نہیں ، بلکہ مذہبی سیاست کا سینا گندہ کھیل کر رہی ہے –

ہے اور یہ اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ ’’ مہا آرتی ‘‘ ، جو کہ امن اور محبت کی علامت ہے اور اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش نہیں کرنا چاہیے ۔

ممبئی سے تعلق رکھنے والے بی جے پی لیڈر اتل بھٹکلکر نے شیوسینا کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا کہ ہندو سمراٹ بال ٹھاکرے کی تشکیل کردہ شیوسینا جو خالص ہنرو نظریات کے حامل ہونے کا دعوی کرتی ہے اچانک ہی وہ اذان کی اس طرح کب سے خواہاں ہوگئ ، خاص طور پر جب اس نے ماضی میں ہمیشہ سڑکوں پر مسلمانوں کی جانب سے ‘نماز ’ کی ادئگی کی مخالفت کی تھی۔

بھٹکلکر نےمزید کہا کہ یہ وہ ہی شیوسیناہے جو ماضی میں انتخابات کےدوران کانگریس کو ووٹ دینا ‘دہشت گردی’ یا ‘قصاب’ کو ووٹ دینے کا مترادف قرار دیتی تھی آج اسکے رویہ میں اتنی تبدیلی کیسے آگئ- بی۔جے پی لیڑر نے کہا کہ معاملہ ۔ ‘اذان’ کی مخالفت کرنے کا نہیں ، بلکہ مذہبی سیاست کا سینا گندہ کھیل کر رہی ہے –