مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی کاسانحہ ارتحال

555

کراچی :صدر جامعہ دارالعلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی86 سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔مرحوم مفتی رفیع عثمانی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست بھی تھے۔مرحوم رفیع عثمانی مفتی اعظم پاکستان تھے۔مرحوم مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی کے بیٹے اور مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے۔

مفتی رفیع عثمانی 21جولائی 1936 کو دیوبند میں پیدا ہوئے۔جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مفتی محمد رفیع عثمانی کی وفات سے پاکستان ایک متوازن افکار و نظریات کے حامل، معتدل، بلند پایہ فقیہ اور مفتی سے محروم ہوگیا۔

 

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ان کی گراں قدر علمی خدمات کو یاد رکھا جائے گا، انہوں نے اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔پاکستان علماء كونسل نے مفتى رفيع عثمانى كےانتقال پر تعزيت كا اظہار کیا ہے۔حافظ محمد طاہر محمود اشرفى کا کہنا ہے کہ مفتى رفيع عثمانى عالم اسلام كے عظيم علمى روحانى شخصيت تھے، متعلقين، محبين اور اہل خانہ سے تعزيت كا اظہار كرتے ہیں۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے معروف عالم دین مفتی محمد رفیع عثمانی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کیلئے عظیم نقصان ہے۔مولانا طارق جمیل نے مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع کے اتنقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

https://twitter.com/TariqJamilOFCL/status/1593658672881709056?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1593658672881709056%7Ctwgr%5E7295b7f87c16c4df79c4bc0e2a85eda938033fec%7Ctwcon%5Es1_c10&ref_url=https%3A%2F%2Fjang.com.pk%2Fnews%2F1160731
گورنر سندھ نے کہا کہ دینی تعلیمات کے فروغ کیلئے مفتی صاحب کی خدمات بے مثال ہیں، رفیع عثمانی کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلاء ایک عرصہ تک پر نہیں ہو سکے گا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ممتاز عالم دین مفتی محمد رفیع عثمانی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مفتی صاحب کا انتقال اسلام کیلئے عظیم سانحہ ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ مفتی صاحب کی دینی خدمات لازوال ہیں، اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مفتی رفیع عثمانی کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔