صیہونی فورسز کا فلسطین میں ظلم جاری، نابلس میں 34سالہ نوجوان شہید

غزہ: اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تین فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے ۔ یہ اطلاع فلسطین کی وزارت صحت نے دی ہے ۔وزارت نے گزشتہ روز دیر گئے ایک بیان میں کہاکہ مشرقی یروشلم کے ضلع سلوان میں اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں ایک 20 سالہ فلسطینی ہلاک اور دس دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیلی فوج کے چھاپے کے نتیجے میں زخمی ہونے والا ایک اور فلسطینی دم توڑ گیا ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور 17 سالہ فلسطینی بھی بیت لحم کے قریب واقع شہر حسینی میں مارا گیا ہے۔اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں سے کشیدہ ہیں کیونکہ فلسطینیوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم کے ساتھ مغربی کنارہ بھی حوالے کیا جائے تاکہ وہ ایک آزاد فلسطینی ریاست تشکیل دے سکیں۔جبکہ اسرائیلی حکومت نے اقوام متحدہ کے اعتراضات کے باوجود فلسطین کو ایک آزاد سیاسی اور سفارتی ادارے کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں بستیاں تعمیر کر رکھی ہیں۔دریں اثناء صیہونی فورسزکی جانب سے فلسطین میں ظلم و بربریت کا سلسلہ تھم نہیں رہاہے اور کل ایک اور 34 سالہ فلسطینی نوجوان کو سینے میں گولی مار کر شہید کر دیاگیا۔صیہونی فوج نے نابلس شہر میں آج ایک اور فلسطینی شہری کی جان لے لی۔ غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 34 سالہ جوان کی شناخت محمد حسن کے نام سے ہوئی ہے جسے سینے پر گولی مارکر شہید کیا گیا۔صیہونی فورسز کی جانب سے نام نہاد آپریشن کا سلسلہ پانچ روز سے جاری ہے ۔میں جملہ 5فلسطینی شہیدہوگئے۔