کولکتہ:18؍جنوری ۔(ایجنسیز)مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کو لے کر سیاسی ریلیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی بیان بازیاں بھی خوب دیکھنے سننے کو مل رہی ہیں۔ ایک طرف جہاں بی جے پی نے 200 سیٹیں حاصل کر بنگال کا قلع فتح کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، وہیں ترنمول کانگریس نے بھی پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کے باوجود 200 سیٹیں حاصل کرنے کا دعویٰ ٹھوک دیا ہے۔ اس درمیان 294 سیٹوں والی بنگال اسمبلی کے لیے اے بی پی-سی ووٹر نے ’اوپینین پول‘ کیا ہے جو بی جے پی کو زبردست جھٹکا دینے والا ہے۔اے بی پی نیوز-سی ووٹر نے جو اوپینین پول (عوام کی رائے) آج جاری کیا ہے.

اس کے مطابق ممتا بنرجی ایک بار پھر وزیر اعلیٰ بنتی ہوئی نظر آ رہی ہیں، گویا کہ مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کی ہی حکومت بننے کا اشارہ مل رہا ہے۔ سروے کے مطابق گزشتہ اسمبلی انتخاب کے مقابلے ترنمول کانگریس کی سیٹیں کم ضرور ہو رہی ہیں، لیکن وہ 154 سے 162 سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اس سے ظاہر ہے کہ حکومت سازی کے لیے ضروری جادوئی نمبر ترنمول کانگریس تن تنہا حاصل کر لے گی۔جہاں تک بی جے پی کی کارکردگی کا سوال ہے تو وہ اپنے ہدف سے آدھی سیٹ تک محدود ہوتی ہوئی معلوم پڑ رہی ہے۔

اے بی پی نیوز- سی ووٹر سروے کے مطابق بی جے پی کو 98 سے 106 سیٹیں حاصل ہو سکتی ہیں جو حکومت سازی کے لیے ضروری تعداد 148 سے بہت کم ہے۔ علاوہ ازیں کانگریس اور بایاں محاذ اتحاد تیسرے نمبر پر جاتی ہوئی نظر آ رہی ہے جسے 26 سے 34 سیٹیں ملتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ دیگر کو 2 سے 6 سیٹیں مل سکتی ہیں۔اگر ووٹ فیصد کی بات کریں تو بی جے پی کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب معلوم پڑ رہی ہے کیونکہ 37.5 فیصد لوگوں نے انھیں پسند کیا ہے۔

ترنمول کانگریس 43 فیصد لوگوں کی پسند کے ساتھ پہلے مقام پر ہے۔ کانگریس-بایاں محاذ اتحاد کو 12 فیصد ووٹ حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔جہاں تک گزشتہ اسمبلی انتخاب میں پارٹیوں کی کارکردگی کا سوال ہے، ترنمول کانگریس کو 211 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ یعنی آئندہ اسمبلی انتخاب سے متعلق اوپنن پول کے مطابق پارٹی کو 50 سے زائد سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ سب سے بڑا فائدہ بی جے پی کو ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے کیونکہ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں اسے محض تین سیٹوں پر کامیابی ملی تھی اور اس بار اسے تقریباً 100 سیٹوں کا فائدہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ 2016 میں ہوئے اسمبلی انتخاب میں کانگریس نے 44 سیٹیں اور سی پی آئی ایم نے 26 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اس مرتبہ یہ دونوں پارٹیاں مل کر انتخابی میدان میں ہیں اور پھر بھی نصف سیٹوں کا نقصان اٹھاتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔