رات قریب ایک بجے کا وقت تھا جب اچانک یوکرین میں پاکستانی ٹور آپریٹر معظم خان کو انڈین طلبا کی کال آتی ہے جو ان سے کہتے ہیں کہ ’اگر مزید کچھ گھنٹے ہماری مدد نہ کی گئی تو بھیا ہم سردی سے مر جائیں گے۔‘یوکرین میں روسی مداخلت اور فوجی پیش قدمی کے دوران سماجی تنظیم ایس او ایس انڈیا نے وہاں سے ہزاروں طلبا کو نکالنا چاہا تو ان کے سامنے سب سے پہلا مسئلہ جنگ زدہ علاقوں سے پولینڈ اور رومانیہ کی سرحد تک ٹرانسپورٹ کا تھا۔ان کے مطابق یوکرین میں بس ڈرائیور اور نجی گاڑیوں کے مالکان فی طالبعلم 250 سے 500 ڈالر تک کرایہ لے رہے تھے۔جنگ چھڑنے کے بعد ایس او ایس انڈیا کے بانی نتیش سنگھ انڈین طلبا کو جنگ زدہ علاقوں سے نکال کر سرحد تک لے جانے کے لیے بسیں ڈھونڈ رہے تھے۔ انھیں یوکرینی زبان آتی تھی نہ ہی وہ یوکرین میں موجود تھے کیونکہ وہ یہ آپریشن انڈیا میں اپنے گھر میں بیٹھے آن لائن چلا رہے تھے۔

جنگ اور پیٹرول کی قلت کے باعث بسوں کے کرائے بھی آسمان سے باتیں کرنے لگے تو انھوں نے بہت سے ٹور آپریٹرز اور بس کمپنیوں سے رابطہ کیا۔مگر بات نہیں بن رہی تھی کیونکہ اول تو بسوں کے ساتھ ساتھ پیٹرول نہیں مل رہا تھا۔ دوسرا، جو ڈرائیور ملتے وہ فی طالبعلم 500 ڈالر تک کرایہ مانگ رہے تھے۔نتیش سنگھ بتاتے ہیں کہ ’پھر ہمیں پاکستان سے تعلق رکھنے والے خان بھائی (معظم خان) ملے۔‘اور جیسے نتیش کی ساری پریشانی ختم ہو گئی۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نتیش نے بتایا کہ معظم نے نہ صرف جنگ زدہ علاقوں (لیویو، ترنوپل وغیرہ) سے دو ہزار سے زیادہ طلبہ کو نکالنے کے لیے بسوں اور گاڑیوں کا انتظام کیا بلکہ سرحد تک فی طالبعلم معمول کے کرائے 25-30 ڈالر سے زیادہ نہیں لیا۔وہ کہتے ہیں کہ ’جن حالات میں باقی سب کمانا چاہتے تھے، معظم خان نے کمانے کی پرواہ نہیں کی بلکہ انڈین طلبا کی مدد کی۔’’کچھ معاملوں میں اگر بچوں کے پاس پیسے ختم ہو گئے تھے اور وہ کرایہ ادا کرنے سے قاصر تھے تو اس صورت میں معظم نے کرایہ معاف کر دیا اور ان طلبہ سے ایک پیسہ نہیں لیا۔‘اور ایسا نہیں ہے کہ معظم نے صرف انڈین طلبا کی مدد کی ہو، نتیش بتاتے ہیں کہ ’انھوں نے تقریباً 2500 انڈین طلبا کے علاوہ باقی ملکوں کے طلبا کی بھی کافی مدد کے، معظم نے سب کی مدد کی۔ وہ بہت اچھے انسان ہیں۔‘نتیش کی ابھی تک معظم سے ملاقات نہیں ہوئی مگر پھر بھی وہ ان کے بارے میں ایسی رائے رکھتے ہیں۔ نتیش کہتے ہیں کہ ان کی بس ایک خواہش ہے کہ ایک بار معظم سے ملاقات ہو جائے۔

’جو مدد کے لیے کال کرتا تھا، میں نے اس سے قومیت نہیں پوچھی‘:پاکستان میں تربیلا غازی سے تعلق رکھنے والے معظم 11 سال سے یوکرین میں مقیم ہیں۔ان کے بڑے بھائی نے یوکرین میں ہی شادی کر رکھی ہے لہذا جب وہ بھائی سے ملنے گئے تو انھیں یوکرین بہت پسند آیا اور انھوں نے وہیں تعلیم حاصل کرنے کی ٹھانی۔یوکرین کے شہر ترنوپل سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے معظم خان نے بتایا کہ انھوں نے سول انجینیئرنگ کی ہے۔چونکہ معظم عربی، روسی، یوکرینی، انگریزی، اردو، پنجابی اور ہندی سمیت سات زبانیں باآسانی بول لیتے ہیں لہذا چار سال قبل انھوں نے اپنی ٹورازم کمپنی کھولنے کا فیصلہ کیا۔وہ اندرونِ ملک رہنے والے غیر ملکیوں سے لے کر بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کو یوکرین کی سیر و سیاحت کرواتے ہیں۔نتیش کون ہیں، کیسے دکھتے ہیں اور کہاں رہتے ہیں، یہ سب معظم نہیں جانتے۔ انھوں نے تو بس ’اپنے جیسے دکھنے والے ایک انسان کی مدد کی پکار پر لبیک کہا‘۔معظم خان کے مطابق یوکرین میں بہت سے طلبا انھیں جانتے ہیں۔ ’جب تنازع شروع ہوا تو اس رات یہاں گولہ باری ہو رہی تھی اور ہر طرف سائرن بج رہے تھے۔۔۔ ان طلبا نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ کسی طرح ہمیں یہاں سے نکال کر بارڈر تک لے جائیں۔‘وہ بتاتے ہیں کہ جب انھوں نے 70 سے 80 طلبا کو نکال کر سرحد تک پہنچایا تو ان کے ذریعے ’انڈینز کے گروپوں میں میرا نمبر وائرل ہو گیا۔‘ اور اسی دوران انھیں نتیش کی کال آئی۔معظم بتاتے ہیں کہ تین دن مسلسل ان کا فون بجتا رہا۔ ’مجھے جس شہر سے بھی کال آتی تھی کہ ہم منفی چار میں سردی میں بنکر میں یا باہر بیٹھے ہیں خان بھائی ہماری مدد کریں۔۔۔ رہائش، کھانے سے لے کر سواری تک، مجھ سے جتنا ہو سکتا تھا میں ان کی مدد کرتا تھا۔۔۔ جو مدد کے لیے کال کرتا، میں نے کسی سے ان کی نیشنیلٹی (قومیت) نہیں پوچھی۔‘وہ بتاتے ہیں کہ انھوں نے پاکستانی، انڈین، عرب اور افریقیوں سمیت مختلف قوموں کے تقریباً 3000 سے 3500 طلبا کو جنگ زدہ علاقوں سے نکال کر سرحد تک پہنچایا ہے جن میں زیادہ انڈینز تھے کیونکہ معظم کے مطابق وہاں کی یونیورسٹیوں میں 70 فیصد انڈین شہری زیرِ تعلیم ہیں۔

’پیسے تو اللہ دیتا ہے۔۔۔ طلبا کی والدین کی دعائیں زیادہ اہم‘:یہ وہ وقت تھا جب یوکرین میں روسی افواج کے حملے شروع ہوئے تھے جس سے انخلا کا عمل کافی حد تک متاثر ہوا۔دارالحکومت کیئو کی طرف روسی فوجی قافلے کی پیش قدمی، ٹی وی ٹاور پر حملے اور شہریوں کی اموات کی اطلاعات گردش کر رہی تھیں اور جن افراد نے یوکرین سے نکلنے کے فیصلے میں ذرا سی دیر کر دی تھی انھیں ٹرین سٹیشنز اور سرحد کے راستوں پر اپنے جیسے خوفزدہ شہری مل رہے تھے۔ایسے میں پاکستان اور انڈیا جیسے ممالک سے آئے طلبا پریشان تھے کہ وہ اس صورتحال میں اپنے گھروں تک کیسے پہنچ سکیں گے۔

معظم خان بتاتے ہیں کہ جب سب طلبا لیویو سے نکال لیے گئے اور ایک بندہ پیچھے رہ گیا تو انھوں نے کئی بس کمپنیوں اور ٹیکسیوں کو کال کی کہ ’ہمارا بندہ پیچھے رہ گیا ہے۔ براہِ مہربانی اسے بارڈر تک پہنچا دیں۔۔۔ مگر کوئی نہ مانا۔۔۔ کوئی مجھ سے 250 ڈالر مانگ رہا تھا اور کوئی 500 ڈالر سے کم پر بات نہیں کر رہا تھا۔’کیونکہ یہاں پیٹرول کی قلت ہوگئی ہے۔ سارا سارا دن لائنوں میں لگنا پڑتا ہے اور پھر جا کر صرف 10 سے 15 لیٹر پیٹرول ملتا ہے۔‘میں نے معظم سے پوچھا کہ جن دنوں پیٹرول بمشکل مل رہا تھا اور باقی کمپنیوں اور بسوں والے فی سواری پانچ، پانچ سو ڈالر تک کرایہ مانگ رہے تھے، آپ کے دل میں خیال نہیں آیا کہ ’میں بھی تھوڑے پیسے بنا لوں؟‘ حتیٰ کہ انھوں نے تو کچھ طلبا کا کرایہ بھی معاف کر دیا تھا۔اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں ’ان حالات میں پیسے بنانے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا کیونکہ پیسے تو اللہ دیتا ہے۔ اور پیسے تو بعد میں بھی بن سکتے ہیں۔ طلبا اور ان کے والدین مجھے جو دعائیں دے رہے ہیں، میرے لیے وہ زیادہ اہم ہیں۔‘وہ مزید بتاتے ہیں کہ پہلے بھی ٹورازم کے کاروبار سے وہ اچھا کما لیتے تھے اور ان کا خیال ہے کہ ان حالات میں پیسے بنانے کو ترجیح نہیں دی جاسکتی۔معظم کہتے ہیں کہ ’اگر سو میں سے کسی بندے کی مدد کا ایک فیصد بھی چانس ہوتا تو میں اپنی پوری کوشش کرتا تھا اور باقی اللہ نے مدد کی ہے۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘وہ بتاتے ہیں کہ ان انڈین طلبا کے والدین مسلسل انھیں کالز اور پیغامات بھیج کر دعائیں دے رہے ہیں کہ ’ہماری بیٹی، ہمارا بیٹا آپ کی وجہ سے زندہ سلامت واپس آ گیا ہے۔‘

’بھیا! ہم سردی سے مر جائیں گے‘:انٹرویو کے دوران میں نے معظم سے پیش آنے والے کسی ایسے واقعے کے بارے میں پوچھا جو انھیں اب تک نہیں بھولتا۔معظم بتاتے ہیں کہ جس دن جنگ شروع ہوئی اور ایئر پورٹ بند ہو گیا تو اس روز ترنوپل میں رہنے والے کچھ طلبا کی کیئو سے پرواز تھی اور منفی چار میں وہ طلبا بنا کسی سویٹنر، جیکٹ کے انتہائی پتلے کپڑوں میں جیسے تیسے ایئرپورٹ کے لیے نکل گئے اور جو بھی ٹرین ملی اس میں بیٹھ کر کول سٹیشن پر اتر گئے۔’رات کے ایک بجے مجھے کال آئی۔۔۔ وہ طلبا کانپ رہے تھے۔۔۔ ان کی آواز تک نہیں نکل رہی تھی۔۔۔ نحیف سی آواز میں وہ کہہ رہے تھے کہ اگر مزید کچھ گھنٹے ہماری مدد نہ کی گئی تو بھیا ہم سردی سے مر جائیں گے۔‘

معظم بتاتے ہیں کہ اگرچہ وہ اس سٹیشن سے 300 سے 400 کلومیٹر دور تھے مگر ’اس چھوٹے شہر میں مجھے گوگل سے یا کسی اور ذرائع سے جس بندے کا بھی نمبر ملتا تھا میں انھیں اٹھا کر منت کرتا تھا۔۔۔ بس پھر اللہ نے مدد کی اور ایک شخص کا نمبر ملا جو رات کو اٹھ کر ان طلبا کی مدد کو پہنچا۔‘وہ شخص معظم کی درخواست پر ان انڈین طلبا کو لے کر انھیں گرم کمرے میں لے گیا اور بعد میں انھیں بارڈر تک پہنچایا۔وہ کہتے ہیں کہ کافی بچے بڑے مشکل حالات دیکھ کر آئے تھے اور وہ جب آکر گلے لگاتے تھے تو ’بہت اچھا لگتا تھا کہ شکر ہے! اللہ نے مجھے کسی کی مدد کے قابل بنایا ہے۔‘معظم نے مجھے وہ ویڈیوز اور پیغامات بھی دکھائے جو انڈین طلبا نے انھیں بھیجے ہیں۔ ایسی ہی ایک ویڈیو میں ایک انڈین طالب علم سبھم شرما بتا رہے ہیں کہ کیسے جب ان کی یونیورسٹی انتظامیہ اور سفارت خانے نے یہ کہہ کر مدد سے ہاتھ اٹھا لیا کہ ’ہم کچھ نہیں کر سکتے، اپنے طور پر سرحد تک پہنچیں‘ تو انھوں نے خان بھائی کو کال کی اور وہ ان کی مدد کو آئے اور اب وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ رومانیہ پہنچ چکے ہیں ہیں۔معظم بتاتے ہیں کہ اب تک یوکرین سے تقریباً 90 فیصد غیر ملکی طلبا نکال لیے گئے ہیں۔ اور انھوں نے سرحد تک پہنچانے کے علاوہ کئی پاکستانی اور انڈین خاندانوں کو فلیٹس وغیرہ میں رکھنے کا انتظام بھی کیا ہے۔معظم خان اس وقت ترنوپل میں ہیں جہاں رات کو 10 سے صبح 6 تک کرفیو لگا دیا جاتا ہے۔مگر وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے تو اِدھر اُدھر جہاں سے مدد مانگی جائے، جانا پڑتا ہے۔ رات کو بھی میں لیویو میں تھا کیونکہ وہاں ایک ہاکستانی کی فیملی نے پہنچنا تھا، چھوٹے چھوٹے بچے تھے اور وہ بندہ خود نہیں تھا۔ لہذا مجھے جا کر انھیں ریسیو کر کے انتظامات کرنے تھے۔‘وہ بتاتے ہیں کہ جو افراد دوسروں کی مدد کر رہے ہیں، انھیں کرفیو میں بھی جانے دیا جاتا ہے۔تو کیا معظم خان کا بھی پاکستان واپسی کا کوئی ارادہ ہے، اس سوال پر وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ ان کے والدین 30 سال سے سعودی عرب میں مقیم ہیں مگر وہ خود ہر سال پاکستان ضرور جاتے ہیں کیونکہ ’پاکستان کے بغیر تو میں رہ ہی نہیں سکتا۔’میری زندگی میں پاکستان کے بغیر کچھ مکمل نہیں۔‘