معاملہ منور فاروقی کا اور جمہوریت کی ہار ✒️ شکیل رشید (ایڈیٹر، ممبئی اردو نیوز)

4

منور فاروقی کا ایک ’ اسٹینڈ اَپ کامیڈین‘ کی حیثیت سے اپنے فن کے مظاہرے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کا اعلان ہمارے ملک ہندوستان میں ’ جمہوریت‘ کی ناکامی کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے ۔

۲۹ سالہ منور فاروقی اور اسے نشانہ بنانے والے عناصر اس ملک کی دو ایسی سمتوں کی علامت بن گئے ہیں جن میں سے ایک جمہوری حقوق کے لیے ہر حالت میں جدوجہد کرنے والوں کی طرف جاتی ہے ، اور دوسری جمہوری حقوق کو لوگوں سے زور اور جبر سے چھین لینے کے لیے ہر طرح کی قبیح حرکتوں ، حتیٰ کہ تشدد کرنے کی جانب جاتی ہے ۔

گذشتہ دنوں منور فاروقی کا ایک ٹوئٹ آیا تھا جس میں اس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ’ اسٹینڈاَپ کامیڈی‘ کو چھوڑ دینے کا اعلان کیا تھا۔ اتوار کے روز بنگلورو کے ’ گڈشیفرڈ آڈیٹوریم‘ میں ’کرٹن کال ‘ نامی ایک گروپ نے منور فاروقی کا ایک پروگرام رکھا تھا جسے ’ڈونگری ٹونووہیر‘ کا نام دیا گیا تھا۔ اتوار کو ، جب پروگرام ہونا تھا ، منتظمین کو اشوک نگر علاقہ کی پولس کی طرف سے یہ ’ مشورہ ‘ دیا گیا کہ وہ پروگرام کو ملتوی کردیں کیونکہ انہیں یہ اطلاع ملی ہے کہ منور فاروقی کے شو کے خلاف کچھ تنظیمیں بڑے پیمانے پر احتجاج کرسکتی ہیں ۔

یہ ’ مشورہ ‘ ایک طرح سے پولس کا ’حکم‘ ہی تھا۔ منتظمین کو ’ مشورے ‘ یا ’ حکم‘ پر عمل کرتے ہوئے منور فاروقی کے شو کو ملتوی کرنا پڑا ۔ شوملتوی ہونے کے بعد منور فاروقی کا سوشل میڈیا پر اعلان آیا کہ ’اب بہت ہوگیا ، وہ اب اسٹینڈ اَپ کامیڈین کی حیثیت سے کسی بھی شو میں شرکت نہیں کرے گا ۔ ‘ یہ اعلان کوئی ایک پروگرام کے ملتوی کیے جانے کا نتیجہ نہیں تھا ، ادھر چند مہینوں کے دوران منور فاروقی مسلسل ’ ہندوتوادیوں ‘ کے نشانے پر رہاہے ۔ یہ وہی منور فاروقی ہے جسے اس الزام میں کہ اس نے ہندودیوی دیوتاؤں کی ’توہین‘ کی ہے اندور میں ایک مہینے تک جیل میں رہنا پڑا تھا، حالانکہ اس پر لگا ’توہین‘ کا الزام ثابت نہیں ہوسکا تھا۔

ممبئی ،رائے پور ، سورت ، ودودرا اور احمد آباد میں ’ ہندوتوادیوں‘ نے منور فاروقی کے شو نہیں ہونے دیئے ، بار بار اسے نشانہ بنایا ۔ بنگلورو میں جو پروگرام تھا وہ ایک پرائیویٹ پروگرام تھا ، اس کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت کے عین مطابق ، کسی بھی طرح کے پولس کی اجازت لینا لازمی نہیں تھا۔ لیکن امن وامان کو خطرہ بتا کر پولس نے منتظمین کو اس پروگرام کو ملتوی کرنے پر مجبور کردیا ۔ ایک کٹر وادی تنظیم ’ ہندو جن جاگرتی سمیتی‘ نے بنگلورو کے پولس کمشنر کمل پنت کو خط لکھ کر منور فاروقی کے پروگرام کو ملتوی کرنے پر زور ڈالا تھا۔ اس خط کو دھمکی بھرا خط بھی کہا جاسکتا ہے ۔

خط میں یہ الزام ، جو کہ ثابت نہیں ہوسکا ہے ، لگایا گیا ہے کہ منور فاروقی ہندودیوی دیوتاؤں کی توہین کامرتکب ہوتا ہے ۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ شہریت ترمیمی قانون مجریہ ۲۰۲۰ ء کے خلاف باتیں کرتا ہے اور گودھرا فسادات کا تذکرہ بھی اس کے شومیں ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہیکہ کیا کسی جمہوری ملک میں کوئی کسی کو روک سکتا ہے کہ وہ اپنی زبان پر تالا ڈال کر رکھے اور حق بات بھی نہ بولے ؟ گودھرا فساد یا این آر سی اور سی اے اے کے بارے میں باتیں کرنا کب سے جرم ہوگیا ہے ؟ سچ یہ ہیکہ منور فاروقی کی ایک ’ مسلمان‘ کی حیثیت ہندوتوادیوں کو ہضم نہیں ہورہی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ کوئی مسلمان کیسے سی اے اے اور فسادات کے خلاف بول سکتا ہے ؟ خود منور فاروقی کا کہنا ہے کہ اسے اس لیے پروگرام کرنے سے روکا جارہا ہے کہ اس کا نام منور فاروقی ہے ۔ منور فاروقی کے ’ اسٹینڈ اَپ کامیڈی‘ چھوڑدینے کو اس ملک میں جحمہوریت کی ہار اور فرقہ پرستی کی جیت کہا جائے گا ۔

راہل گاندھی نے ایک ٹوئٹ کرکے منور فاروقی سے گذارش کی ہے کہ وہ فرقہ پرستی کو کامیاب نہ ہونے دے اور اپنے فن کا مظاہرہ کرتا رہے ۔ مزید آوازیں منور فاروقی کے حق میں اٹھ رہی ہیں ۔ ضروری ہے کہ ہر کوئی فرقہ پرستی کے خلاف کھڑا ہوتا کہ اس ملک کے جمہوریت دشمن اظہار آزادی کے حق پرڈاکہ نہ ڈال سکیں ۔ ضروری ہیکہ بنگلورو پولس کے خلاف بھی کارروائی کی جائے کہ اس نے گوری لنکیش اور کلبرگی جیسے عقلیت پسندوں کو راہ سے ہٹانے والی ’ ہندوجن جاگرتی سمیتی‘ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے اور اپنے فرض سے کوتاہی کی ہے ۔