مظفر نگر کے مشہور میناکشی چوک سے جب آپ شاملی بس اڈے کی طرف چلتے ہیں تو تاریخی شہید چوک سے تقریباً 100 میٹر آگے یہاں دوسری سب سے مقبول جگہ ’بشیر طاہری‘ ہے۔ کھالاپار کے اس خاص پوائنٹ کے سامنے ایک کپڑے کی درجنوں دکانوں والی گلی کے اندر کی ایک اور تنگ گلی میں ایک ستارا جم کر چمک رہا ہے۔ اسمارٹ سے نظر آنے والے یہاں ظہیب قریشی کے چہرہ پر گہری طمانیت اور زبردست نور جھلک رہا ہے۔ ظہیب کے گھر میں جشن کا ماحول ہے۔ ان کی امی شاہین باگ کرتے وقت بھول جاتی ہیں کہ وہ کیا کہہ رہی تھیں۔ والد بات کم کرتے ہیں اور آنکھیں زیادہ گیلی کرتے ہیں۔ ان سب کی وجہ ہندوستان کی انجینئرنگ کی سب سے بڑی سروس آئی ای ایس میں اس گھر کے لڑکے کا چھٹی رینک حاصل کرنا ہے۔

پورے گھر میں جشن کا ماحول ہے۔ اتفاق سے وہ مظفر نگر کے جس محلے میں رہتے ہیں، اس کا نام کھالاپار ہے اور میڈیا نے اس علاقے کی بے حد خراب شبیہ بنا دی ہے۔ عام سوچ ہے کہ اس علاقے میں جرائم پیشوں کی کثرت ہے۔ گئوکشی کا بول بالا ہے اور یہ بے حد حساس علاقہ ہے، جب کہ یہاں دیکھ کر ایسا نہیں لگتا۔ ظہیب کی کامیاب سے پورا محلہ خوش ہے۔ گلی کے باہر کھڑے راشد خان اپنے بھتیجے کو ظہیب جیسا بننے کے لیے ترغیب دے رہے ہیں۔ ظہیب کی امی شاہین کے لیے رمضان کے پہلے دن ہی عید ہو گئی۔ ظہیب کے بھائی انگریزی میں بات کرتے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے والدین نے ان کی پرورش بالکل مختلف انداز میں کی ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ظہیب قریشی کے والد کباڑ کے کاروبار سے جڑے ہیں۔ یہاں آس پاس کے بیشتر قریشی گوشت کا کاروبار کرتے ہیں اور ان میں بہت زیادہ پیسے والے بھی ہیں۔ لیکن ظہیب جیسا رتبہ اب تک کسی کا نہیں نظر آتا۔ ظہیب سے ملنے گئے مقامی کونسلر عبدالستار بے حد زندہ دلی کے ساتھ کہتے ہیں کہ ’’کامیابی تو اسے کہتے ہیں، لڑکا ستارا بن گیا ہے۔ وہ خاموشی سے پڑھتا رہا اور ایک ریزلٹ نے شور مچا دیا۔‘‘


ظہیب نے جس آئی ای ایس کے امتحان میں چھٹی رینک حاصل کی ہے، اس میں تقریباً 10 لاکھ امتحان دہندگان نے شرکت کی تھی اور وہ منتخب 40 امیدواروں میں شامل ہے۔ حال کے دنوں میں مظفر نگر اور بجنور سے ہندوستان کی اعلیٰ سروسز میں کچھ بے حد خوش کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ مثلاً بجنور کے شاد میاں خان 2018 میں سول سروس میں 25ویں رینک پر آئے تھے، تو نگینہ کے جنید نے آئی اے ایس میں تیسری رینک حاصل کی تھی۔ حال ہی میں مظفر نگر کے محمد تابش نے بھی ایمس میں تیسری اور پی جی آئی چنڈی گڑھ میں دوسری رینک پا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔بہر حال، ظہیب اپنی کامیابی سے بہت خوش ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ’’مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ میرے اندر کوئی سائنٹفک ٹمپرامنٹ ہے اور اب اس کا پورا استعمال وہ ملک کو مضبوط بنانے میں کریں گے۔‘‘ ظہیب کو یہ کامیابی پہلی ہی کوشش میں ملی ہے۔ وہ ہنڈی میڈیم کے طالب علم رہے ہیں، لیکن کافی محنت کر کے انھوں نے انگریزی میڈیم کی راہ اختیار کی۔ ظہیب اپنی منصوبہ سازی کے تعلق سے کہتے ہیں کہ انھوں نے خود سے ہی پورا پلان بنایا۔ وہ جانتے تھے کہ اس امتحان میں 8 سے 10 لاکھ لوگ بیٹھتے ہیں اور صرف 41 سیٹ (میکینیکل) ہے، تو انھوں نے ریسرچ کیا کہ تمام ہارڈ ورک کے بعد بھی امتحان دہندگان کو کامیابی کیوں نہیں مل پاتی۔ اس سے ان کی سمجھ میں آیا کہ ان کے ساتھی مشکل سوالوں میں الجھ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک سبجیکٹ ہے ’میکرونکس‘ جو کافی مشکلیں پیدا کرتا ہے۔ میں نے سب سے زیادہ مہارت میکرونکس میں ہی حاصل کی۔ میں نے اسٹریٹجی بنائی کہ سب سے مشکل کو سب سے پہلے حل کرو۔ اس سے مجھے کئی فائدے ہوئے۔
ظہیب کی امی شاہین چاہتی ہیں کہ بیٹا اپنی قابلیت سے ملک کی ترقی میں تعاون کرے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں نے اللہ سے بہت دعائیں مانگی ہے۔ ریزلٹ والے دن یہ بہت مایوس تھا۔ خاموش بیٹھا ہوا فون دیکھ رہا تھا۔ میں نے اس سے فون چھین لیا، اور پھر تبھی یہ چیخا کہ امی میری آل انڈیا چھٹی رینک آئی ہے۔ میں رو پڑی۔ اس دن سے ہماری دنیا بدل گئی۔ اب ہم اسپیشل ہو گئے ہیں۔ بڑے لوگ مبارکباد دے رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ظہیب نے اس سے پہلے بھی کئی بڑے امتحانات پاس کیے ہیں، لیکن اسے آئی ای ایس کی ہی ضد تھی، جو اس نے پوری کر لی ہے۔ اللہ اس پر مہربان ہو۔‘‘

ظہیب کی کامیابی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اہم تعاون رہا ہے۔ ظہیب نے اپنی انجینئرنگ کی پڑھائی وہیں سے کی ہے۔ مظفر نگر کے سماجی کارکن گوہر صدیقی کہتے ہیں کہ ظہیب جس علاقے اور طبقہ سے آتے ہیں، وہاں پڑھائی کو لے کر دلچسپی کم ہے اور ظاہر ہے کہ ان کی یہ کامیابی بہت بڑی ہے اور اس سے نوجوانوں کو کافی ترغیب ملے گی۔