لکھنو : مظفر نگر کے ظہیب قریشی کو آئی ای ایس میں چھٹا رینک حاصل ہوا ہے جس کیلئے ہر طرف سے ان کی ستائش کی جارہی ہے ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ظہیب قریشی کے والد کباڑ کے کاروبار سے جڑے ہیں۔ یہاں آس پاس کے بیشتر قریشی گوشت کا کاروبار کرتے ہیں اور ان میں بہت زیادہ پیسے والے بھی ہیں۔ لیکن ظہیب جیسا رتبہ اب تک کسی نے حاصل نہیں کیا ہے۔ ظہیب نے جس آئی ای ایس کے امتحان میں چھٹی رینک حاصل کی ہے، اس امتحان میں تقریباً 10 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی اور وہ منتخب 40 امیدواروں میں شامل ہیں۔ حال کے دنوں میں مظفر نگر اور بجنور سے ہندوستان کی اعلیٰ سروسز میں کچھ بے حد خوش کن نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ مثلاً بجنور کے شاد میاں خان 2018 میں سول سروس میں 25ویں رینک پر آئے تھے، تو نگینہ کے جنید نے آئی اے ایس میں تیسری رینک حاصل کی تھی۔ حال ہی میں مظفر نگر کے محمد تابش نے بھی ایمس میں تیسری اور پی جی آئی چنڈی گڑھ میں دوسری رینک پا کر سب کو حیران کر دیا تھا۔بہر حال، ظہیب اپنی کامیابی سے بہت خوش ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ’’مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ میرے اندر کوئی سائنٹفک ٹمپرامنٹ ہے اور اب اس کا پورا استعمال وہ ملک کو مضبوط بنانے میں کریں گے۔‘‘ ظہیب کو یہ کامیابی پہلی ہی کوشش میں ملی ہے۔ وہ ہنڈی میڈیم کے طالب علم رہے ہیں، لیکن کافی محنت کر کے انھوں نے انگریزی میڈیم کی راہ اختیار کی۔ ظہیب اپنی منصوبہ سازی کے تعلق سے کہتے ہیں کہ انھوں نے خود سے ہی پورا پلان بنایا۔ ظہیب کی امی شاہین چاہتی ہیں کہ بیٹا اپنی قابلیت سے ملک کی ترقی میں تعاون کرے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں نے اللہ سے بہت دعائیں مانگی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ظہیب نے اس سے پہلے بھی کئی بڑے امتحانات پاس کیے ہیں، لیکن اسے ا?ئی ای ایس کی ہی ضد تھی، جو اس نے پوری کر لی ہے۔ اللہ اس پر مہربان ہو۔‘‘


اپنی رائے یہاں لکھیں