• 425
    Shares

اتر پردیش حکومت نے 2013 میں ہوئے مظفر نگر فسادات سے متعلق 77 مقدمات بغیر کوئی وجہ بتائے واپس لے لیے ہیں۔ یہ جانکاری حکومت کے وکیل نے سپریم کورٹ میں دی ہے۔ جن معاملوں کے کیس واپس لیے گئے ہیں ان میں زیادہ سے زیادہ سزا تاحیات جیل ہے۔ اراکین پارلیمنٹ و اراکین اسمبلی کے خلاف مجرمانہ معاملوں کے جلد ٹرائل کے معاملے میں ایمائکس کیوری وکیل وجے ہنساریا نے یہ اسٹیٹس رپورٹ داخل کی ہے۔

2013 میں ہوئے مظفر نگر فسادات کے معاملے میں کل 510 کیس درج کیے گئے تھے۔ ان 510 معاملوں میں سے 175 معاملوں میں فرد جرم داخل کیا گیا ہے، 165 معاملوں میں آخری رپورٹ جمع کی گئی ہے اور 170 معاملوں کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اب یو پی حکومت نے سی آر پی سی کی دفعہ 321 کے تحت 77 مقدمے واپس لیے ہیں۔ یو پی حکومت نے 24 اگست کو سپریم کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کر اس بات کی جانکاری دی ہے۔

رپورٹ میں سرکاری حکم میں معاملہ واپس لینے کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ انتظامیہ نے پوری طرح سے غور کرنے کے بعد خصوصی معاملوں کو واپس لینے کا فیصلہ لیا ہے۔ ایمائکس کیوری وکیل وجے ہنساریا نے رپورٹ میں یہ بھی جانکاری دی ہے کہ مظفر نگر فسادات سے متعلق جن معاملوں کو واپس لیا گیا ہے ان پر ہائی کورٹ سی آر پی سی کی دفعہ 402 کے تحت جانچ کر سکتا ہے۔

دراصل سپریم کورٹ میں ان دنوں اراکین پارلیمنٹ/اراکین اسمبلی کے خلاف زیر التوا مجرمانہ مقدمہ کے تیزی سے نمٹارے کے لیے خصوصی عدالتوں کی تشکیل پر سماعت چل رہی ہے۔ عدالت نے سبھی ریاستوں میں زیر التوا اس طرح کے مقدمات کی جانکاری مانگی تھی۔ اس سے قبل ہوئی سماعت میں عدالت نے یہ ہدایت بھی دی تھی کہ بغیر ہائی کورٹ کی اجازت لیے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کے خلاف زیر التوا مقدمے ریاستی حکومت واپس نہیں لے سکتی۔

اس معاملے میں ایمائکس کیوری تقرر کیے گئے سینئر وکیل وجے ہنساریا نے عدالت کو گزشتہ سماعت میں جانکاری دی تھی کہ یو پی حکومت کئی موجودہ اور سابق عوامی نمائندوں کے اوپر مظفر نگر فسادات میں زیر التوا مقدمات کو واپس لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اب عدالت کو سونپی گئی نئی رپورٹ میں ایمائکس کیوری نے بتایا ہے کہ اتر پردیش حکومت نے مظفر نگر فسادات سے جڑے 77 معاملے واپس لینے کا حکم جاری کیا ہے جس میں سے کئی معاملے اراکین پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی سے جڑے ہیں۔

داخل رپورٹ میں سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ریاستی حکومت کو سبھی معاملوں کے لیے الگ الگ وجہ بتاتے ہوئے حکم جاری کرنے کو کہیں۔ حکومت سے یہ بھی کہا جائے کہ وہ یہ بتائے کہ کیا یہ مقدمہ بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے، غلط روش کے تحت درج کرایا گیا تھا۔ رپورٹ میں عدالت کو دوسری ریاستوں کے بارے میں بھی جانکاری دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سماجوادی پارٹی کی حکومت میں سال 2013 میں مظفر نگر میں فسادات ہوئے تھے۔ فسادات میں تقریباً 62 لوگوں کی موت بھی ہوئی تھی اور ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے تھے۔ اس معاملے میں پولیس نے خود ہی نوٹس لے کر سنگیت سوم، کپل دیو اگروال، سریش رانا، سادھوی پراچی وغیرہ لوگوں پر اشتعال انگیز بیان دینے اور ایک خاص طبقہ کے خلاف اکسانے کے الزامات میں کیس درج کرایا تھا۔

بہر حلا، مظفر نگر میں سماجوادی پارٹی کے لیڈر ساجد حسن نے اس پورے معاملے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ یوگی حکومت نے بغیر کوئی وجہ بتائے 77 مقدمات واپس لے لیے ہیں۔ اسمبلی انتخابات نزدیک ہونے کی وجہ سے سماج کے درمیان پرانے جھگڑوں کے زخموں کو تازہ کرنے کی خراب سیاست کی جا رہی ہے جو انتہائی قابل اعتراض ہے۔ اگر یہ لوگ بے قصور تھے تو عدالت اپنے آپ بری کرتی، یا جو لوگ متاثر ہیں کم از کم ان کو تو سنا جانا چاہیے تھا۔ حکومت کی نیت سماج میں بھائی چارہ قائم کرنے کی ہونی چاہیے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔