مظفرنگر فسادات: بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی وکرم سینی کی سزا پر روک لگانے کی عرضی الہ آباد ہائی کورٹ سے مسترد

90

الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے 2013 کے مظفرنگر فسادات معاملہ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم سینی کی سزا پر روک لگانے کی عرضی کو مسترد کر دیا ہے۔

جسٹس سمت گوپال نے اپنے حکم میں مشاہدہ کیا ہے کہ ’’اپیل کنندہ کی طرف سے جو دلائل پیش کئے گئے ہیں وہ عدالت میں کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ہیں۔ نااہلی کا باعث بننے والی مجرمانہ سرگرمیاں ملک کے مفاد میں، عام شہری کے مفاد میں ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی سے وابستہ ہیں۔

محض یہ دلیل دے کر کہ اپیل کنندہ قصوروار قرار دینے سے ناہل ہو جائے گا، سزا کو معطل کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔”

عدالت نے نوٹ کیا کہ، "عوامی نمائندگی قانون 1951 کی دفعہ 8 بعض جرائم میں سزا کے بعد نااہلی کا تعین کرتی ہے۔ قانون کے دائرے میں آنے والے جرائم تعزیرات ہند کے تحت ایسے جرائم ہیں جن سے بنیادی اقدار تباہ ہو سکتے ہیں،

مثلاً صحت مند جمہوریت، ریاست کی سلامتی، معاشی استحکام، قومی سلامتی اور شہریوں اور دیگر افراد کے درمیان امن اور ہم آہنگی کے فروغ دینے اور اسے برقرار رکھا۔”

خیال رہے کہ ہائی کورٹ نے 18 نومبر کو سینی کو فسادات کے معاملے میں ایم پی/ایم ایل اے عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا کو معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت دے دی تھی اور اسی معاملے میں سزا کو معطل کرنے کی درخواست کی سماعت کے لیے 22 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی۔

سینی کی پیروی کرنے والے وکیل نے استدلال کیا تھا کہ سیاسی انتقام کی وجہ سے سینی کو موجودہ کیس میں پھنسایا گیا تھا کیونکہ 2013 کے مظفر نگر