مصر کی ریت تلے حال ہی میں ایک تین ہزار سال پُرانا شہر ’لوسٹ گولڈن سٹی‘ دریافت ہوا ہے۔ اسے ملک میں سنہ 1922 کے دوران طوطن خامن کے مقبرے کی کھوج کے بعد سے سب سے اہم آثار قدیمہ کی دریافت سمجھا جا رہا ہے۔

آثار قدیمہ کے معروف محقق زاہی حواس‎ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ انھوں نے الاقصر کے قریب ’لوسٹ گولڈن سٹی‘ کو ڈھونڈ نکالا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدیم مصر سے دریافت ہونے والا سب سے بڑا شہر ہے۔

ستمبر 2020 میں شروع ہونے والی کھدائی کے کچھ ہی ہفتوں بعد اس کا سراغ لگا لیا گیا تھا۔

اس شہر کی تاریخ 1391 سے 1353 قبل مسیح سے ملتی ہے جب اس خطے میں امین ہاٹپ تہم کی حکمرانی تھی، جو مصر کے سب سے طاقتور فرعونوں میں سے ایک تھے.اس کے بعد اس شہر کو ان کے بعد آنے والے فرعونوں نے بھی استعمال کیا جن میں طوطن خامن اور آيی شامل ہیں۔ ان دونوں کے مقبرے قریب ہی اپنی صحیح حالت میں آثار قدیمہ کے برطانوی ماہر ہاورڈ کارٹر نے 1922 میں دریافت کیے تھے۔ اس کو ویلی آف دی کنگز یعنی بادشاہوں کی وادی کہا جاتا ہے۔

امریکہ کے شہر بالٹیمور میں قائم جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں مصر کے آثار قدیمہ کی ماہر بیٹسی برائن کا کہنا ہے کہ ’کھوئے ہوئے شہر کی یہ دریافت اپنی نوعیت کی دوسری سب سے اہم دریافت ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ اس شہر پر تحقیق سے ہم یہ پتا لگا سکتے ہیں کہ قدیم مصر میں لوگوں کی زندگی کیسی تھی۔ اس وقت یہ سلطنت اپنے دیگر ادوار کے مقابلے میں سب سے امیر تھی۔

اس دریافت کے دوران کھدائی سے زیورات، رنگین مٹی کے برتن اور قدیم مصریوں کے متبرک بھونرے سے بنے تعویذ جیسی قیمتی اشیا ملی ہیں۔ ان میں ایسی مٹی کی اینٹیں بھی شامل ہیں جن پر امین ہاٹپ تہم کی مہر لگی ہوئی ہے۔

اس ٹیم نے الاقصر کے مغربی ساحل کے قریب ویلی آف دی کنگز کے قریب کھدائی شروع کی تھی۔ یہ علاقہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ سے تقریباً 500 کلو میٹر دور ہے۔صرف کچھ ہی ہفتوں میں ماہرین کی ٹیم کو اس وقت حیرت ہوئی جب انھوں نے مٹی سے بنی اینٹیں دریافت کرنا شروع کیں۔ ڈاکٹر حواس کے مطابق یہ اینٹیں ’ہر طرف سے نکل رہی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بڑے شہر کا یہ مقام زمین کے نیچے محفوظ حالت میں موجود ہے۔ اس کے قریب دیواریں دیکھی جاسکتی ہیں اور ایسے کمرے موجود ہیں جن میں روزمرہ کی اشیا رکھی گئی ہیں۔اب کھدائی کے سات ماہ بعد اس شہر کے کئی علاقوں کی کھوج ہو چکی ہے۔ یہاں ایک رہائشی علاقہ، انتظامی ضلع اور حتٰکہ ایک بیکری بھی دریافت ہوئی ہے۔

ڈاکٹر حواس کا، جو ماضی میں نوادرات کے وزیر رہ چکے ہیں، کہنا ہے کہ کئی غیر ملکی ٹیموں نے اپنے مشنز میں یہ شہر ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی مگر وہ ایسا نہیں کر سکے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس مقام پر ابھی مزید تحقیق اور کھدائی ہونا باقی ہے اور امکان ہے کہ یہاں ایسے مقبرے اپنی اصل حالت میں دریافت ہوں جن کے اندر خزانے ہو سکتے ہیں۔مصر اپنے قدیم ثقافتی ورثے کو فروغ دے کر سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے۔ کئی برسوں تک جاری سیاسی تناؤ اور کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث سیاحوں کی آمد میں کمی دیکھی گئی ہے۔کچھ عرصہ قبل مصر کے ایک تاریخی جلوس میں ملک کے قدیم رہنماؤں کی باقیات کو قاہرہ لایا گیا تھا۔

18 بادشاہوں اور چار ملکاؤں پر مشتمل اس جلوس میں 22 ممیاں موجود تھیں۔ اسے مصر کے ایک نئے نیشنل میوزیم میں لے جایا گیا جو پرانے میوزیم سے پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ان میں امین ہاٹپ تہم اور ان کی اہلیہ ملکہ تيی کی ممی شامل تھیں جنھیں اب باقاعدہ طور پر نئی جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔