آثار قدیمہ کے سائنس دان کئی برسوں تک نہیں جان سکے کہ بحر احمر کے ساحل پر واقع مصر کا قدیم شہر ‘برنیس’ کیوں ختم ہو گیا۔ تقریبا دو ہزار سال قبل یہاں کی آبادی اچانک ہجرت کر گئی۔

 

البتہ جمعے کے روز "کیمبرج” ویب سائٹ پر نشر ہونے والے ایک مضمون میں اس شہر کے جائے وقوع کے مقام پر 1994ء میں ہونے والی کھدائی پر ایک بار پھر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کھدائی سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ مذکورہ شہر 275 سے 260 قبل مسیح کے درمیان وجود میں آیا تھا۔

 

کچھ عرصہ قبل پولینڈ اور امریکا کے سائنس دانوں نے یہاں ایک عمارت کے اندر ایک کنواں دریافت کیا جس میں ابھی تک پانی موجود تھا۔ اگرچہ اس کا پانی کچھ نمکین تھا مگر ذائقہ اچھا تھا۔ آثار قدیمہ کے سائنس دانوں نے پانی کے ذریعے کی تلاش کے لیے کھدائی شروع کی تو انہیں کافی گہرائی میں جا کر ریت کی تہیں ملیں۔ ساتھ ہی دھات کی بنی کئی کرنسیاں بھی ملیں جو آج سے 200 سال قبل بنائی گئی تھیں۔