• 425
    Shares

آثار قدیمہ کے سائنس دان کئی برسوں تک نہیں جان سکے کہ بحر احمر کے ساحل پر واقع مصر کا قدیم شہر ‘برنیس’ کیوں ختم ہو گیا۔ تقریبا دو ہزار سال قبل یہاں کی آبادی اچانک ہجرت کر گئی۔

 

البتہ جمعے کے روز "کیمبرج” ویب سائٹ پر نشر ہونے والے ایک مضمون میں اس شہر کے جائے وقوع کے مقام پر 1994ء میں ہونے والی کھدائی پر ایک بار پھر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کھدائی سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ مذکورہ شہر 275 سے 260 قبل مسیح کے درمیان وجود میں آیا تھا۔

 

کچھ عرصہ قبل پولینڈ اور امریکا کے سائنس دانوں نے یہاں ایک عمارت کے اندر ایک کنواں دریافت کیا جس میں ابھی تک پانی موجود تھا۔ اگرچہ اس کا پانی کچھ نمکین تھا مگر ذائقہ اچھا تھا۔ آثار قدیمہ کے سائنس دانوں نے پانی کے ذریعے کی تلاش کے لیے کھدائی شروع کی تو انہیں کافی گہرائی میں جا کر ریت کی تہیں ملیں۔ ساتھ ہی دھات کی بنی کئی کرنسیاں بھی ملیں جو آج سے 200 سال قبل بنائی گئی تھیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔