• 425
    Shares

مصرکی ایک اعلیٰ اپیل عدالت نے کالعدم مذہبی وسیاسی جماعت الاخوان المسلمون کےمُرشدِعام سمیت 10 لیڈروں کے خلاف سزائے عمرقید کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔قاہرہ کی ایک فوجداری عدالت نے 2019ء میں الاخوان کے مرشدعام محمد بدیع سمیت دس لیڈروں کوپولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور جیل توڑنے کے مقدمے میں قصور وار قرار دے کرعمرقید کی سزائیں سنائی تھیں۔ان پر مصر کے سابق مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011ء کے اوائل میں احتجاجی تحریک کے دوران میں سکیورٹی فورسز پر حملوں اور جیلیں توڑنے کے الزامات میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔

 

فوجداری عدالت نے انھیں مصر میں اس عوامی احتجاجی تحریک کے دوران میں جیلوں سے قریباً 20 ہزار قیدیوں کو فرار کرانے اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور لبنانی حزب اللہ کے ساتھ مل کر مصر کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات میں قصور وار قرار دیا تھا۔مصر کی اعلیٰ اپیل عدالت نے اسی مقدمے میں ماخوذ اخوان کے درمیانی درجے کے آٹھ رہ نماؤں کو بری کردیا ہے۔انھیں پندرہ ، پندرہ سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔عدالت کا یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف مزید اپیل دائر نہیں کی جاسکتی۔

 

واضح رہے کہ مصر کی سکیورٹی فورسز نے ملک کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی 2013ء میں معزولی کے ردعمل میں احتجاجی تحریک برپا کرنے والےالاخوان المسلمون کے لیڈروں اور کارکنوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا تھا۔مصری فورسز کی کارروائیوں میں اخوان کے سیکڑوں کارکنان ہلاک ہوگئے تھے اور ہزاروں کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ اس جماعت کے متعدد اعلیٰ قائدین بیرون ملک فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

مصری فورسز نے ڈاکٹر محمد مرسی کو بھی معزولی کےبعد گرفتار کر لیا گیا تھا اور ان کے خلاف مختلف الزامات میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔وہ 2019ء میں اپنے خلاف ایک مقدمے کی سماعت کے دوران میں عدالت میں نڈھال ہوکر گر پڑے تھے اورعدالتی کمرے ہی میں دم توڑ گئے تھے۔قاہرہ کی فوجداری عدالت کے جج نے بعد میں ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کو ختم کردیا تھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔