مشہور عالم دین کمسن لڑکی کیساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار

5,981

پٹنہ : بہار کے گیا میں واقع مدرسہ کے ناظم اعلیٰ کی جانب سے نابالغ طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا معاملہ ان دنوں سرخیوں میں ہے۔اطلاعات کے مطابق متاثرہ لڑکی جس مدرسہ میں زیر تعلیم تھی،اس مدرسہ کے ناظم اعلیٰ نے اسے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔ یہ ناظم اعلیٰ مفتی بھی ہے علاقے کے معروف عالم دین ہیں انہوں نے پہلے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی اور متاثرہ خاندان و کچھ دیگر افراد کے روبرو اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی اسی مدرسہ میں زیر تعلیم تھی۔ناظم اعلی کا نام مفتی روشن قاسمی بتایا جارہا ہے، مفتی روشن قاسمی شہر کے معروف عالم دین میں ایک ہیں چونکہ شہر میں مسلمانوں کے درمیان ان کی پکڑ مضبوط ہے۔ اس لئے پہلے معاملے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیکن لڑکی کے والدین نے ویمن پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرادی۔ایس ایس پی ہرپریت کور کی ہدایت پر معاملہ درج کرتے ہوئے مفتی قاسمی کو گرفتار کرلیا گیا۔وہیں متاثرہ لڑکی کے والدین نے کہا کہ مدرسہ میں مولانا نابالغ لڑکی کے ساتھ بری حرکتیں کرتا تھا جس کے اس نے اعتراف کیا ہے۔ پولیس نے بھی بتایا کہ پوچھ تاچھ کے دوران مولانا نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے۔

ایس ایس پی نے کہا کہ اگر کوئی اس معاملہ میں دبانے کی کوشش کرتا ہے یا متاثرہ خاندان پر دباؤ ڈالتا ہے تو اس پر سخت کاروائی کی جائے گی۔

شہر کے چند افراد نے ایک ہوٹل میں لڑکی کے والد اور مولانا کے درمیان میٹنگ کروا کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مفتی روشن قاسمی نے اس میٹنگ میں اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کیا اور کہاکہ ان سے یہ گناہ ہوا ہے لیکن معاملہ حل نہیں ہوسکا اور بچی کے والدین نے اس کی شکایت مہیلا تھانہ (Women Police Station) میں درج کرایا۔
اس کے بعد ایس ایس پی ہرپریت کور کی ہدایت پر پورے معاملے کی تفتیش کی گئی۔اس میں واقعہ کی تصدیق ہوگئی۔

مہیلا تھانہ میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد مفتی روشن قاسمی کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ایس ایس پی ہرپریت کور نے اس معاملے کے تعلق سے ای ٹی وی بھارت کے نمائندہ کو بتایاکہ بچی اور اس کے والد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کے ساتھ مدرسہ کے مولانا نے بری نیت سے پرائیوٹ پارٹ میں ہاتھ دینے کی کوشش کی ہے۔ پولیس کی پوچھ گچھ میں بھی مولانا نے غلطیوں کا اعتراف کیا ہے۔

حالانکہ اس دوران مولانا اور ان کے کچھ معتقدین نے معاملے کو دبانے کے لئے لڑکی کے گھروالوں پر دباو بھی بنایا ہے۔ابھی بھی کوشش کرنے کی اطلاع ہے۔
ایس ایس پی نے کہاکہ اگر دباو بنانے کی کوشش کوئی کرتا ہے تو اس کے خلاف بھی کاروائی ہوگی کیونکہ یہ ایک جرم ہے چونکہ تہواروں کی وجہ سے عدالت بند ہے۔

اس لئے ابھی 164 کا بیان کورٹ میں درج نہیں کرایا گیا ہے۔ تاہم عدالت کے کھلتے ہی بیان درج کرادیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مفتی روشن قاسمی بوائز اینڈ گرلس دونوں کا مدرسہ چلاتے ہیں۔ لڑکیوں کا مدرسہ گزشتہ برس ہی کھولا گیا تھا۔ای ٹی وی کے انپٹ کیساتھ

Mufti Maulana Roshan Qasmi Arrest In Molestation Case In Gaya