نئی دہلی : گزشتہ کچھ دنوں سے گردے کی بیماری میں مبتلا مشہور شاعر منور رانا کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی ، جس کے بعد انہیں دہلی کے ایمس میں بھرتی کرایا گیا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ سنگین حالت ہونے کی وجہ سے ان کا علاج مسلسل ڈاکٹروں کی دیکھ ریکھ میں چل رہا ہے ۔ فی الحال کیسی حالت ہے ، اس سلسلہ میں کوئی جانکاری ایمس انتظامیہ یا ڈاکٹروں کی طرف سے نہیں دی گئی ہے ۔

منور رانا کی بیٹی سومیا نے بتایا کہ یورین میں انفیکشن کی وجہ سے ان کے والد کی طبیعت گزشتہ دنوں زیادہ خراب ہوگئی تھی ، جس کے بعد انہیں پہلے لکھنو کے میدانتا اسپتال میں بھرتی کرایا گیا تھا اور حالت نہیں سدھرنے پر انہیں منگل کو دہلی کے ایمس لایا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ اب ان کے والد کی طبیعت میں کچھ سدھار ہے اور ابھی انہیں کچھ دنوں تک مزید اسپتال میں بھرتی رکھا جائے گا ۔ ڈاکٹرس ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کررہے ہیں ۔ غور طلب ہے کہ 68 سالہ منور رانا گلے کے کینسر سے بھی متاثر ہیں ۔

 

غور طلب ہے کہ منور رانا کی طبیعت اس سے پہلے بھی کافی خراب ہوچکی ہے ۔ رانا کو 2017 میں سینے میں درد کی شکایت ہوئی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی لنگس اور گلے کا انفیکشن بھی ہوا تھا ، جس کے بعد انہیں لکھنو میں بھرتی کرایا گیا تھا ۔ وہیں گزشتہ کچھ سالوں سے ان کو گھٹنے میں بھی پریشانی ہے ، جس کو لے کر آپریشن بھی کیا جاچکا ہے ۔ ان کے دونوں ہی گھٹنے بدلے جاچکے ہیں ۔

قابل ذکر ہے کہ منور رانا 2014 میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ سے نوازے جاچکے ہیں ، لیکن اس کے ایک سال بعد ہی انہوں نے ملک میں عدم برداشت بڑھنے کی بات کہتے ہوئے احتجاج کے طور پر اس کو لوٹا دیا تھا ۔