مشہور ادبی رسالہ ‘شاعر’نے ۹۲سال کی عمر میں دم توڑ دیا،اردو حلقہ میں۔ صف ماتم بچھ گئی

312
ممبئی۱۳نومبر(ایجنسیز)عروس البلاد ممبئی سے  شائع ہونے والا قدیم ترین اردو کے ادبی رسالہ شاعر کو مالی دشواری اور وسائل کی کمی کی وجہ سے  مالکان نے بند۔کردیا ہے جوکہ تقریباً ۹۲ سال سے مسلسل شائع ہورہا تھا ،لیکن مدیر افتخار امام کی رحلت کے بعد اشاعت کو لیکر مالی مسائل نے سراٹھا نا شروع کردیا اور رسالہ کو بند۔کردیا گیاہے۔
اپنے ردعمل میں بچوں کے بند ہوئے رسالہ گل بو ٹےکے مدیر فاروق سید نے اسے اردو داں طبقہ کی بے حسی قرار دیا ہے،اور کہاکہ اردو فروغ اور ترویج کے لیے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے تاکہ اردو اور ادب کو بچایا جاسکے۔اس تعلق سے معروف شاعر اور صحافی ندیم۔صدیقی نے بھی کہاکہ یہ افسوسناک امر ہے ،لیکن افتخار امام کے انتقال کے بعد اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھاجوکہ درست ثابت ہواہے۔
رسالہ شاعر کے مدیر اور معاون نعمان امام نے شاعر کے بند کیے جانے کی تصدیق کی پے،انہوں نے مطلع کیا کہ رسالہ شاعر  کا آغاز آگرہ میں مشہور شاعر سیماب اکبرآبادی نے کیا تھا،جن کا ۱۹۵۱ء کو کراچی پاکستان میں انتقال ہوگیا،لیکن ان کے بیٹے  مصنف اور صحافی افتخار امام صدیقی ہیں اور نائب مدیران ان کے دو بھائی نعمان صدیقی اور حامد اقبال صدیقی تھے۔
نعمان امام یعنی مانی بھائی  نے مزید کہاکہ شاعر کا اجراء 14 فروری، 1930ء کوہندوستان کے تاریخی شہر آگرہ، میں ہوا تھا ، ان کے دادا سیماب اکبرآبادی کی جانب شروعات ہوئی تھی  دراصل رسالے کا مقصد اردو داں طبقے کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا ،جہاں ابھرتے ہوئے شعرا،مصنف اور ادباء اپنا کلام اور تخلیق چھپوا سکیں۔لیکن تقسیم ہند کے بعد سیماب اکبر آبادی پاکستان  ہجرت کر گئے اور کبھی واپس نہیں لوٹے۔غالبا ۱۹۵۱ میں ان کا انتقال ہوگیا۔
اتفاق سےاعجاز صدیقی نے  سیماب اکبر آبادی کے دوسرے فرزند اور افتخار امام کے ہمراہ  اس رسالے کی ادارت اپنے ہاتھوں میں لےلی۔ 1951ء میں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ ممبئی منتقل ہوئے، جہاں سے شاعر کی اشاعت جاری رکھی گئی۔ اعجاز صدیق کے انتقال کے بعد افتخار امام صدیقی مدیر بنے۔ وہ خود ایک اچھے شاعر تھے اور متصلًا ادارت اور لکھاری میں مہارت رکھتے تھے۔شاعر ایک بھاری بھرکم ادبی رسالہ بن گیا اس نے کئی نئے شعرا اور لکھاریوں کو متعارف کرایا۔ شاعر کے ادبی معاونین اردو ادب میں عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھے گئے ہیں۔
 آگرہ کے استاد شاعر سیماب اکبرآباد کے پوتے اور اعجاز صدیقی کے فرزند افتخار امام صدیقی کا گزشتہ سال  74 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ آزادی کے بعد سیماب اکبرآبادی ملک کی تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کر گئے۔ان  کے بیٹے اعجاز صدیقی نے پاکستان جانے سے انکار کردیا اور جنوبی ممبئی میں واقع پلے ہاؤس علاقے کی سیتارام بلڈنگ میں مقیم ہوئے تین چار نسلوں نے یہاں زندگی گزاردی،اور مرحوم افتخار صدیقی نے بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ماہنامہ’شاعر’ کی اشاعت بلا روک ٹوک جاری رکھی۔ان کے انتقال کے بعد تقریباً 9 دہائیوں سے شائع ہونے والا ماہنامہ شاعر کا مستقبل متاثر ہونے کا اندیشہ کیا جارہا تھا۔اور جنوری ۲۰۲۰ء کورسالہ۔کو بند کردیا گیا۔