مکہ مکرمہ : سعودی عرب، فلسطین، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور دیگر خلیجی مملکتوں کے علاوہ یورپ، امریکہ، کینیڈا، انڈونیشیا، جاپان اور افغانستان نیز دنیا کے دیگر خطوں میں آج بروز منگل عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی۔ ہندوستان، پاکستان اور دیگر ایشیائی ملکوں میں عیدالاضحی چہارشنبہ 21 جولائی کو منائی جائے گی۔ عید الاضحیٰ میں مسلمان سنت ابراہیمی علیہ السلام پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور اس کا گوشت، غربا و مساکین کے علاوہ عزیز و اقارب میں تقسیم کرتے ہیں۔گزشتہ برس کی طرح اس سال بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے کئی اہم مسلم ممالک بشمول پاکستان، متحدہ عرب امارات اور الجزائر نے عید کے اجتماعات کے سلسلہ میں خصوصی ہدایات جاری کیں۔ اسی طرح رواں برس بھی محدود پیمانے پر حج کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں سعودی عرب میں مقیم اُن 60 ہزار افراد کو حج ادا کرنے کی اجازت دی گئی جنہوں نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی تھی اور کسی دائمی بیماری کا شکار نہیں ہوئے تھے۔سعودی عرب میں حجاج آج شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد مکہ واپس ہورہے ہیں۔ حجاج کرام کو سعودی حکومت نے کورونا وائرس کے پیش نظر سینیٹائزڈ کنکریاں فراہم کی ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں عید الاضحیٰ کا آغاز عید کی دو رکعت نماز کی ادائیگی کے ساتھ ہوا جبکہ افغانستان کے صدارتی محل میں نماز عید کی ادائیگی کے دوران قریبی مقام پر راکٹ آگرے (خبر اندرونی صفحہ پر)۔ امریکی نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں کورونا وبا کے بدترین پھیلاؤ کے باعث بڑے اجتماعات پر پابندی ہونے کے باوجود مساجد کے باہر نماز عید ادا کی گئی اور جانور قربان کئے گئے۔سب سے زیادہ مسلم آبادی والا یہ ملک کورونا وائرس کی بدترین لپیٹ میں ہے اور گزشتہ روز یہاں وبا کے باعث 1,338 افراد فوت ہوگئے چنانچہ عید کے موقع پر عوام کو سفر سے روکنے کے لیے سڑکوں پر چیک پوسٹ قائم کئے گئے اور اندرون ملک پروازوں پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔دوسری جانب بنگلہ دیش نے کورونا کیسوں میں اضافہ کے باوجود وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لئے لگائے گئے لاک ڈاؤن میں عید الاضحیٰ کی وجہ
سے 8 روز کا وقفہ دیا تھا تا کہ لوگ خریداری کرسکیں اور اہلِ خانہ کے ساتھ عید منانے کے لیے گھروں کو سفر کریں۔ چین میں آج عید الاضحیٰ منائی گئی۔ بیجنگ میں پاکستان سفارت خانے کی مسجد میں نمازِ عید ادا کی گئی جس میں پاکستانی سفیر معین الحق، سینئر سفارتکاروں، عہدیداروں، بڑے تاجرین اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ نماز عید کے بعد جانوروں کی قربانی کی گئی اور ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دی گئی۔ چین میں 10 سے زائد مختلف نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 2 کروڑ مسلمان آباد ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں