پرویز نادر
کرناٹک کے شہر اڑوپی سے شروع ہونے والے حجاب تنازعہ نے اس وقت ساری دنیا کی توجہ حاصل کرلی جب ایک کالج میں داخل ہوتے وقت مسکان خان کو سنگھی غنڈوں نے گھیرلیا اور خوف ذدہ کرنے کی کوشش کی ایسے میں مسکان خان کے ایمان نے انگڑائی لی اور برملا اس کی زبان سے اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوا جس نے ہندوستانی مسلمانوں کو حوصلہ عطا کیا اور ساری دنیا کے لیے ظالموں کے آگے ایمان کی طاقت کے مظاہرے کا استعارہ بن گیا،دینی حلقوں، عام نوجوانوں میں یہ واقعہ کئی دن تک موضوع بحث بنا رہا ملت کے الگ الگ حلقوں سے مسکان خان کی ستائش اور ملاقات کا سلسلہ شروع ہوا،جمیعت (محمودمدنی صاحب) کی طرف سے پانچ لاکھ کے انعام کے اعلان کے ساتھ ہی ہم نے ایک مضمون تحریر کیا "انعام نہیں حق دلوادو”اور آج بھی ہم یہی کہتے ہیں کہ مسکان خان کے اللہ اکبر کے نعرے نے عقیدے اور شناخت کی جو جنگ کالیجیس اور کیمپس میں چھڑ گئی ہے اس کو تقویت بخشی، جو طالبات پہلے سے ہی حجاب کی لڑائی لڑرہی ہیں اس پورے اسٹوری کا مسکان خان ایک دمکتا کردار ہے۔جو سیاسی اور سیکیولر یا نیشنلسٹ جماعتیں مسکان خان یا حجاب کیس کے مدعی طالبات کو اپنے اسٹیج پر بلاکر اعزاز دینا چاہتی ہیں، یا ان کی غرض کچھ اور ہے ان کو یہ بات صاف طور پر سمجھ لینی یا مسلم طالبات نے سمجھادینی چاہیے کہ شروع دن سے حجاب کا مسئلہ صرف اور صرف عقیدے اور شناخت کا ہے جس میں دیگر لوگ ان کی حقوق کی لڑائی میں معاون تو بن سکتے ہیں

لیکن کسی بھی صورت یہ معاونت میدان سے ہٹ کر سوشل میڈیا یا اسٹیج پر نہیں ہوگی جس سے یہ شبہات پیدا ہوجائیں کہ سیکیولرزم کے تحفظ یا صرف تعلیم و ترقی اور اپنی بقا کی لڑائی لڑی جارہی ہے،بھارت میں تاریخ آزادی ہند سے لیکر ملک کی آزادی کے بعد سے اب تک یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ چاہے وہ تحریک خلافت ہو یا آزادی کے بعد سیکیولر پارٹیوں کے دم چھلے بن کر اپنی ترقی کا خواب دیکھنا ہو یا پھر بابری مسجد اور مسلم پرسنل لاء کے معاملات ، غیروں کی آمد ہمارے دینی حلقوں میں صرف اور صرف منافقت ثابت ہوئی ہے اور ان کی مکرو فریب پر مبنی ہمدردانہ کوشش نے مسلمانوں کو ہمیشہ دین اور اپنی شناخت کی گرتی ہوئی ہر دیوار پر مطمئن ہی کیا ہے اسی لیے ہم نے اس واقعے کے چلتے اور ایک مضمون "عقیدے اور شناخت کی جنگ” لکھا جس میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ حجاب اسلامی تہذیب و روایات کا حصہ ہے جس میں کسی صورت سمجھوتہ ممکن ہی نہیں ہے اگرچہ کہ عدالت کا فیصلہ ہمارے خلاف آجائے لیکن مسلم طالبات کو اپنی شناخت سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے، زیادہ دور نا جاتے ہوئے حالیہ این آر سی اور سی اے اے مخالف بل پروٹیسٹ کو دیکھ لیجیے جو شروع ہوا مسلمانوں کی بھارت سے بے دخلی کے خلاف جس کی ابتدا قرآن پاک کی تلاوت اور پنڈال میں نماز سے ہوئی لیکن پھر سیکیولر، اور اپنے آپ کو مسلمانوں کے مسیحا قرار دینے والوں نے سارے احتجاج کا رخ ہی بدل دیا جس میں  مشرکانہ افعال اور نا جانے کتنے ہی دین بیزاری پر مبنی کیا کیا اعمال انجام دیے گئے ،

مسکان خان کی مہارشٹر کے شہر اورنگ آباد آمد پر ایک اطلاع یہ  بھی ہے کہ بی جے پی نے سخت مخالفت اور احتجاج کی بھی دھمکی دی ہے،ایسے میں سوال یہ ہیکہ کسی سیکولر یا نیشنلسٹ پارٹی کے پروگرام کے انعقاد سے روکنے اور اس میں مدعو ایک مخصوص مہمان کی آمد پر احتجاج آخر کیوں،تو سمجھ یہی آتا ہے کہ احتجاج کرنے والے لوگ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ جس کو بلایا جارہا ہے وہ کس واقعہ کا کردار ہے اور کس بنا پر شہرت کی اتنی بلندیوں پر پہنچی ہے،تو اس کا جواب آپ بھی یہی دینگے کہ وہ وجہ صرف اور صرف اسلام ہے،اگر میری یہ بات مسکان خان تک پہنچ سکے تو ان سے بڑے مخلصانہ انداز میں یہ گزارش ہے کہ اللہ نے آپ سے جو کام لیا وہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے جس نے کتنے ہی دلوں کو ایمان کی حرارت عطا کی ہے،آپ انفرادی طور پر کسی جماعت کا حصہ بننا چاہتی ہے بالکل بنیے لیکن جب ایک اسلامی شناخت کے محاذ پر آپ کو لوگ ایک استعارے کے طور پر دیکھیں تو اپنی مفاد پرستانہ پالیسیوں کو لیکر جو آپ تک پہنچے ان سے معذرت کر لیجیے جو آپ کا تعاون کرنا چاہے انہیں میدان کا راستہ دکھائیے جہاں آپ اپنی لڑائی لڑرہی ہیں،باقی آپ کا اجر اور آپ کی اس ہمت و جرأت کا بدلہ تو اللہ کے پاس محفوظ ہے