بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان اور اُن کی اہلیہ کرن راؤ نے اپنی طلاق کے اعلان کے ایک دن بعد کہا ہے کہ وہ دونوں بہت خوش ہیں اور مل کر کام کرتے رہے گے۔لیکن سوشل میڈیا پر چند صارفین ’بہت خوش‘ نظر نہیں آ رہے ہیں اور اس حوالے سے آرا منقسم ہیں۔ عامر خان اور کرن راؤ کی جانب سے طلاق کے اعلان کے بعد سے ہی یہ معاملہ سوشل میڈیا صارفین میں زیر بحث رہا ہے۔ مگر گذشتہ روز عامر خان کی جانب سے اس حوالے سے کی گئی بات چیت کے بعد سے انڈیا میں دو ٹرینڈز ’وی سٹینڈ ود عامر خان‘ اور ’بائیکاٹ عامر خان‘ ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہیں۔

لوگ کی آرا جاننے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ عامر خان اور ان کی سابقہ اہلیہ نے اس معاملے پر کیا ردعمل دیا ہے۔عامر خان اور کرن راؤ اتوار کو ’پانی فاؤنڈیشن‘ کے ہفتہ وار آن لائن پروگرام میں اکھٹے شریک ہوئے ہیں۔

عامر خان نے کہا کہ ’آپ لوگوں نے ہمارا اعلان تو ضرور سُنا ہو گا۔ آپ لوگوں کو دکھ بھی ہوا ہو گا۔ آپ کو (ہمارا فیصلہ) اچھا نہیں لگا ہو گا۔ لیکن ہم دونوں بہت خوش ہیں۔ ہم ایک کنبہ ہیں۔ ہمارے تعلقات میں تبدیلی آئی ہے لیکن ہم ساتھ ہیں۔ آپ ہمارے لیے دعا کیجیے کہ ہم خوش رہیں۔‘جبکہ کرن راؤ نے کہا کہ ’ہم آپ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم مل کر کام کرتے رہیں گے۔‘

واضح رہے کہ ’پانی فاؤنڈیشن‘ کووڈ 19 کی وبا کے دوران نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے وقت سے ہی اس طرح کے ہفتہ وار بحث و مباحثے کے پروگراموں کا اہتمام کرتا رہا ہے، اور عامر خان اور کرن راؤ اس میں ماضی قریب میں بھی شامل ہوتے رہے ہیں۔

اس سے قبل دونوں نے سنیچر کے روز مشترکہ بیان جاری کر کے اپنی علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ عامر خان اور کرن راؤ نے 15 سال قبل شادی کی تھی اور ان کا ایک بیٹا ہے۔عامر اور کرن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ان 15 خوبصورت سالوں میں ایک ساتھ ہم نے زندگی بھر کے تجربات، مسرت اور خوشی کو شیئر کیا ہے اور ہمارا رشتہ اعتماد، احترام اور محبت کے طور پر پروان چڑھا ہے۔ اب ہم ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں۔ ہم اپنی زندگی شوہر اور بیوی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ بچے کے والدین اور ایک خاندان کے طور پر شروع کرنا چاہیں گے۔‘

سوشل میڈیا پر سنیچر کے روز سے ہی کسی نہ کسی طرح عامر خان اور کرن راؤ کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں جبکہ گذشتہ رات دو نمایاں ہیش ٹیگز نظر آئے جو کئی گھنٹوں تک ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہیں۔

جو لوگ ’وی سٹینڈ ود عامر خان‘ کے تحت ٹویٹ کر رہے ہیں وہ عامر خان کی اداکاری کی تعریف کر رہے ہیں اور بالی وڈ میں ان کی اہمیت کو اجاگر کر رہے ہیں اور جو لوگ ’بائیکاٹ عامر خان‘ کے تحت ٹویٹ کر رہے ہیں ان میں سے بیشتر انھیں مسلمان ہونے، ہندو خواتین سے شادی کرنے اور بچے پیدا کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔پرساد نامی ایک صارف نے عامر خان کی کئی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا ’ہم ان دو وجوہات کے سبب ان کا احترام کرتے ہیں۔ ایک انھوں نے پانی فاؤنڈیشن کے ذریعے مہاراشٹر کے دیہی علاقوں میں بہت تعاون کیا اور دوسرے یہ کہ وہ فر فر مراٹھی بولتے ہیں۔‘

مون سلمینک نامی ایک صارف نے لکھا ’آپ لوگ کب ہندو مسلم کے خانے سے باہر آؤ گے۔ کچھ بے دماغ لوگ عامر خان کے خلاف باتیں کر رہے ہیں اور ٹرینڈ چلا رہے ہیں کیونکہ وہ ایک مسلمان ہیں۔ اس ذہنیت کے لوگ اس ملک کو بدتر بنا رہے ہیں۔ بھائی بناؤ اور ساتھ ساتھ رہو دوستو۔‘

بہت سے لوگوں نے لکھا کہ یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اس سے کسی کا کیا لینا دینا۔جبکہ جو لوگ بائیکاٹ عامر خان کے ہیش ٹیگ کے تحت ٹویٹ کر رہے ہیں ان میں سے ایک نے لکھا: ’عامر خان لو جہاد ذہنیت والی شخصیت ہیں۔۔۔ مسٹر پرفیکشنسٹ سے مسٹر لو جہادی!‘

اور اپنے اس ٹویٹ کے ساتھ ستیم یادو نے عامر خان کی پاکستانی مبلغ مولانا طارق جمیل کے ساتھ تصویر، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کی اہلیہ کے ساتھ ان کی تصویر اور پھر ایک فلم سے ان کی تصویر بھی شیئر کی ہے جس پر لکھا ہے ’دھوکہ سو بھاؤ ہے میرا‘ یعنی دھوکہ دینا میری فطرت ہے۔

انڈیا میں ایک حلقہ ایک عرصے سے ’لو جہاد‘ کی باتیں کرتا ہے جس کے تحت وہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ مسلمان دانستہ طور پر ہندو لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔ چنانچہ اس کے خلاف کئی ریاستوں میں چند جوڑوں کو نشانہ بھی بنایا گیا اور چند کے خلاف قانونی چارہ جوئی بھی کی گئی۔ یہاں تک کہ تبدیلی مذہب کے قانون میں سختی بھی لائی گئی ہے۔ لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی ٹھوس شواہد نہیں پیش کیے جا سکے ہیں۔

کئی صارفین نے عامر خان کی پہلی شادی کا بھی ذکر کیا ہے جو کہ 15 سال بعد ٹوٹ گئی تھی اور پھر دوسری شادی بھی 15 سال چلی۔

لوکیش بینسلا نامی ایک صارف نے دونوں شادیوں کی تصویر ڈال کر لکھا کہ ’عامر خان کسی خاص سبب ہی مسٹر پرفیکشنسٹ ہیں۔‘

این ای راکس نامی صارف نے لکھا کہ ’عامر خان، سیف علی خان اور شاہ رخ خان یہ سب لو جہاد کے برینڈ ایمبیسڈر ہیں۔ کرن راؤ اور عامر خان کے درمیان طلاق کے بعد یہ بات ثابت ہو گئی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تبدیلی مذہب مخالف قانون بنایا جائے اور بالی وڈ اور عامر خان کا بائیکاٹ کیا جائے۔‘

خیال رہے کہ جب بھی ’لو جہاد‘ یا ہندو مسلمان کی بات آتی ہے تو عامر خان، سیف علی خان اور شاہ رخ خان کو معاشرے کے ایک حلقے سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ ان لوگوں نے ہندو لڑکیوں سے شادی کی ہے۔

سیف علی خان کی پہلی بیوی امریتا سنگھ اور دوسری بیوی کرینہ کپور دونوں ہندو گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ شاہ رخ خان کی اہلیہ گوری خان بھی ہندو گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ بہر حال بالی وڈ میں بین المذاہب شادی کا رواج عام ہے اور وہاں اس طرح کی ذہنیت نہیں پائی جاتی ہے۔