ناسک: مہاراشٹر کے ناسک میں ایک خاندان اپنی معذور بیٹی کی شادی مسلم نوجوان سے کرا رہا تھا، لیکن جب شادی کا کارڈ چھپا اور وہ وائرل ہونے لگا تو قدمت پسندوں نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا۔ رضا مندی سے ہونے والی اس شادی کو لوجہاد کا نام دیا جانے لگا اور مجبوراً لڑکی کے والدین کو شادی کی تقریب کو منسوخ کرنا پڑا۔ تاہم، لڑکے اور لڑکی کی شادی عدالت سے پہلے ہی رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔

آج تک پر شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، ناسک میں 28 سال کی ایک معذور لڑکی کی شادی اس کے ساتھ پڑھنے والے مسلم نوجواان سے دونوں کنبوں کی رضامند سے عدالت میں رجسٹرڈ ہو چکی ہے اور اب اس کی تقریب کی تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ اس کے لئے کارڈ بھی چھپ گئے تھے۔ ریسیپشن کا یہ کارڈ وائرل ہو گیا اور وبال کیا جانے لگا۔ خیال رہے کہ دنوں کی شادی کی تقریب 18 جولائی 2021 کو منعقد ہونا تھی۔

 

اطلاعات کے مطابق مئی کے مہینے میں اپنی شادی کو عدالت میں رجسٹرڈ کرا چکے ہیں اور اب دونوں کنبے روایتی طور پر شادی کی تقریب منعقد کرنا چاہتے تھے لیکن ہندو تنظیموں سے وابستہ لوگ اسے لو جہاد قرار دینے لگے اور ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔

حالانکہ تنازعہ کے باوجود اہل خانہ اپنی بیٹی کی پسند کے ساتھ کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ جبریہ تبدیلی مذہب کا معاملہ نہیں ہے۔ لڑکی کے والد پرساد آڈگاویکر نے کہا کہ ’’معذور ہونے کی وجہ سے میری بیٹی کو بہتر شریک حیات نہیں مل پا رہا تھا۔ میرے طبقہ کو یہ بات پتا تھی لیکن کسی نے مدد نہیں کی۔ آخر میں میری بیٹی نے اپنے ہی ایک دوست سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔‘‘ شادی عدالت کے ذریعے رجسٹرڈ کی جا چکی ہے اب لڑکی والے اپنی بیٹی کو ہندو رسم و رواج کے مطابق رخصت کرنا چاہتے تھے۔
لڑکی کی رخصتی کے حوالہ سے کارڈ بھی چھاپے جا چکے تھے لیکن کارڈ واٹس ایپ گروپ پر وائرل ہونے لگا اور انجان لوگ بھی کال کرکے لڑکی کے والدین کو دھمکیاں دینے لگے۔ کئی ہندو تنظیموں نے اس شادی پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان تمام پریشانیوں کے بعد کنبہ نے اپنی لڑکی رسیکا اور آصف کی شادی کی تقریب کو منسوخ کر دیا۔