اتر پردیش کے ضلع مہاراج گنج واقع کولہوئی تھانہ حلقہ میں ایک حیرت انگیز معاملہ سامنے آیا جہاں ایک ہندو نوجوان مسلم لڑکی سے نکاح کر رہا تھا، اور لڑکی کے گھر والے سمجھ رہے تھے کہ لڑکا مسلم ہے۔ واقعہ اتوار کا ہے جب نکاح کے دوران اس وقت ہنگامہ برپا ہو گیا جب نکاح پڑھانے والے مولانا کو شک ہوا ہے اور انھوں نے جب جانچ کی تو پتہ چلا کہ دولہا مسلم نہیں بلکہ ہندو ہے۔دراصل مولانا صاحب نکاح پڑھا رہے تھے تو دولہا کو عربی تلفظ میں کافی پریشانی ہو رہی تھی۔ وہ ٹھیک طرح سے عربی کلمات کا تلفظ نہیں کر پا رہا تھا اور اٹک اٹک کر پڑھ رہا تھا۔ اس عمل سے مولانا کے ساتھ ساتھ وہاں موجود کچھ لوگوں کو بھی شبہ ہوا۔

جب اس لڑکے کی تلاشی لی گئی تو جیب سے ایک پین کارڈ نکلا جس میں تصویر تو دولہے کی ہی تھی لیکن اس کا نام غیر مسلموں سے مشابہ تھا۔ یہ راز کھلتے ہی وہاں موجود لوگوں نے دولہے کی پٹائی شروع کر دی۔ دولہے کے ساتھ آئے اس کے باراتی دوستوں کو بھی لوگوں نے پکڑ لیا اور سبھی کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

واقعہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ کولہوئی علاقے کی ایک لڑکی سے سدھارتھ نگر کے ایک نوجوان کی تقریباً دو سال قبل سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی تھی۔ بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر لڑکا نے لڑکی کے گھر آنا جانا شروع کر دیا۔ لڑکی کے گھر والوں سے بھی اس کی بات چیت ہونے لگی اور پھر بات شادی تک پہنچ گئی۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق لڑکی کو اس لڑکے سے متعلق پوری جانکاری تھی اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ لڑکا غیر مسلم ہے، لیکن اسے ڈر تھا کہ اس شادی کے لیے گھر والے تیار نہیں ہوں گے، اس لیے اپنے گھر والوں کوسچائی نہیں بتائی۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے لڑکا صرف پانچ باراتیوں کے ساتھ شادی کے لیے لڑکی کے گھر پہنچا تھا اور سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا،

لیکن عربی کے غلط تلفظ نے سب کے سامنے سچائی کھول کر رکھ دی۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ معاملہ تھانہ پہنچنے کے بعد بھی لڑکی یہی چاہتی تھی کہ کسی طرح یہ شادی ہو جائے۔ لیکن اس کے گھر والوں اور مقامی لوگوں نے اس کے لیے رضامندی نہیں دی۔ پولیس نے دولہے اور بارات میں آئے لوگوں سے پوچھ تاچھ کرنے کی بات کہی ہے اور اس دوران دولہے کے اہل خانہ سے بھی بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس شادی کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے۔