مسلم لڑکی سے محبت ،سنیل کی نعش درخت سے لٹکی ہوئی پائی گئی

1,283

بریلی :(ایجنسیز)سنیل کو ایک مسلمان لڑکی سے محبت کرنے پر خطرناک سزا دی گئی۔ لڑکی کے والد اور رشتہ داروں نے  اسے مارا پیٹا، منہ میں کپڑا ڈالا، اس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور گلے میں پھندا ڈال کر درخت سے لٹکا دیا۔ ہفتہ کی صبح گاؤں والوں نے اسے دیکھا، تب تک وہ مر چکا تھا۔

جمعہ کی رات یرغمال بنائے گئے سنیل نے فرار ہونے کی ہر ممکن کوشش کی۔ جب ملزمان ہراساں کر رہے تھے تو انہوں نے گاؤں کے واٹس ایپ گروپ پر نو وائس میسیج وائرل کر دیے۔ جس میں وہ اپنی جان کی التجا کر رہا تھا۔ کیس میں چھ ملزمان کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

سنیل کمار، جو جیانگلا گاؤں میں رہتا تھا، مزدوری کرتا تھا۔ وہاں رہنے والی صبا سے اس کا عشق ہوا تو دونوں خاندانوں میں جھگڑا ہوگیا۔ اس کے والد آشرم نے بتایا کہ تین مہینے پہلے گاؤں میں پنچایت ہوئی تھی کہ سنیل اور صبا آپس میں بات نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود لڑکی کے والد اسرار اور رشتہ داروں کو دھمکیاں دیتے تھے۔جمعہ کی رات تقریباً 11 بجے بیٹا گھر میں سو رہا تھا۔ ہفتہ کی صبح تقریباً چھ بجے رام دھون اپنے کھیت کو سیراب کرنے گیا تو اس نے سنیل کی لاش باغ میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی دیکھی۔ سنیل کے ہاتھ پاؤں بندھے ہونے کی وجہ سے قتل ثابت کیا جا رہا تھا لیکن پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کو ٹال دیتی رہی۔
اس سے ناراض ہو کر گاؤں والوں نے دوپہر ایک بجے شیش گڑھ جانے والی سڑک کو بند کر دیا۔ دو گھنٹے کی ہنگامہ آرائی کے بعد لڑکی کے والد اسرار، اس کے بھائیوں گڈو، ابرار، سرفراز اور قطب پور میں رہنے والے رشتہ دار یاسین، فضل کے خلاف ایف آئی آر لکھوائی گئی۔