مسلم لڑکیوں کی بے راہ روی وارتداد۔ لمحہ فکر

912

ملک کے طول و عرض میں ارتداد کی لہر چل پڑی ہے ،دین و ایمان جو قیمتی متاع ہے وہ کہیں گم ہوگئی ہے ،ارتداد کے روح فرسا واقعات نے ملت کے ذمہ داروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ،پورے ملک میں اصلاح معاشرہ کی تنظیمیں کام کررہی ہیں مختلف دینی تحریکات اسلامی ادارے باطل کے آگے ڈھال بنے ہوئے ہیں،لیکن سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو شائد ان کی پہنچ ۲۵تا ۳۰فیصد مسلم آبادی تک ہی محدود ہے ، مسلمانوں کا بہت بڑا طبقہ دین سے ناآشنا اور دین کے تقاضوں سے غافل ہے ،اسلام دشمن طاقتیںاسلام دشمنی اور مسلمانوں سے انتقام کی روش اختیار کی ہوئی ہیں ،ہندوتوا کے نام سے پورے ملک میں نفرت و تعصب کی فضاء ہموار کرلی گئی ہے،

آر ایس ایس سے منسلک ایک تنظیم ہے جس کا نام ’’ہندوجاگرن منچ ‘‘ ہے اس تنظیم نے مسلم لڑکیوں کو اپنے خاندان کا حصہ بنانے کی مہم چھیڑ رکھی ہے،اس میں کامیابی کیلئے اس نے ہندو لڑکوں کی ذہن سازی کرکے نفرت و تعصب کو ان کے دل و دماغ میں بسادیا ہے اور انتقام کی آگ ان کے دلوں میں دہکائی ہے تاکہ وہ مسلم لڑکیوں کو رجھائیںاور ان کو اپنے دام فریب میں پھنسائیں ،اس کے لئے ہندو نوجوانوںکومالی پیشکش بھی کی جارہی ہے ،اس وقت ’’لو جہاد‘‘ Love Jihadکےنام سے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی مذموم سازشیں رچی جارہی ہیں،یہ اصطلاح ہندو انتہا پسندوں نے ایجاد کی ہے ان کاالزام یہ ہے کہ مسلم نوجوان ہندولڑکیوں کو پیار و محبت کے دام فریب میں پھنسا کر ان کو مذہب تبدیل کرنے اور اسلام قبول کرنے پرمجبورکررہے ہیں اس سلسلہ میں ملک کی کئی عدالتوں میں کیسس دائر کئے گئے ہیں لیکن اکثر عدالتوں کے فیصلوں سے کہیں بھی جبراًمذہب تبدیل کروانے کا کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہوسکا ہے ،

اس کے برعکس ایک سازش کے تحت غیر مسلم لڑکے جومسلم لڑکیوں کواپنے دام فریب کے خوشنماجال میں پھنسا کر رشتے بنارہے ہیںنہ صرف ان پرکوئی داروگیرنہیں ہے بلکہ ان کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے عملاً ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ’’لوجہاد ‘‘ کے قانون کاان پرکوئی نفاذ نہیں ہے ،ہاں جب بھی کوئی غیر مسلم لڑکی بلا کسی جبرو اکراہ اسلام کی سچائی و حقانیت سے متاثر ہوکر راضی خوشی اسلام قبول کرتی اور کسی مسلم لڑکے سے نکاح کرتی ہے تو اس پر ’’لوجہاد ‘‘ کا ٹھپہ چسپاں کردیا جاتاہےیہ ہے’’ لوجہاد ‘‘کی حقیقت۔ الغرض بھارت میں اس وقت جونئے قوانین بنائے جارہے ہیں ان میں سے اکثر اسلام دشمنی پر مبنی ہیں ’’لو جہاد ‘‘ کا قانون بھی مسلمانوں پر شکنجہ کسنے کی ایک سازش ہے غور طلب مسئلہ یہ ہے کہ بین مذاہب شادیاں کیوں انجام پارہی ہیں ،خاص طور پر مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کا نشانہ کیوں بن رہی ہیں ؟منادر میں ان سے رشتۂ ازواج میں کیوں منسلک ہورہی ہیں ، پوجاپاٹ میں شریک ہوکر اللہ سبحانہ کو ناراض کررہی ہیں اور کیوں ملت اسلامیہ و مسلم خاندانوں کیلئے رسوائی کا باعث بن رہی ہیں؟اس کی روک تھام کیلئے کیا کچھ منصوبہ بندی ہونی چاہئے ،اس پر سرجوڑ کر خصوصی غور و فکراور لائحہ عمل طئے کرنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔

 ظاہر ہے اسلام میں مسلم لڑکی و لڑکے کاغیر مسلم لڑکےو غیرمسلم لڑکی سے نکاح ناجائز وحرام ہے ’’مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں اور بے شک مسلمان باندی بہتر ہے مشرک عورت سے اگرچہ وہ تم کو پسند ہو اور نہ نکاح کرو اپنی عورتوں کا مشرکوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں اور بیشک مومن غلام کسی آزاد مشرک سے بہتر ہے اگرچہ کہ وہ تم کو کتنا ہی پسند کیوں نہ ہو دراصل یہ لوگ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ سبحانہ تم کو جنت و مغفرت کی طرف دعوت دیتے ہیں‘‘ (البقرہ: ۲۲۱) ۔کتابیہ عورتوں سے نکاح کی اجازت ضرور دی گئی ہے لیکن یہ بات تحقیقاً ثابت ہے کہ اب اہل کتاب اپنے منسوخ مذہب ہی پر کیوں نہ ہو ںعمل پیرا نہیں ہیںاس لئے سیدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد میمون میں اس پر پابندی عائدکردی گئی تھی ظاہر ہے غیر مسلمہ تو غیر مسلمہ ہے کتابیہ عورتوں سے بھی جب موجودہ حالات میں نکاح درست نہیں ہےتوپھرغیر مسلمہ لڑکیوں سے جب تک کہ وہ برضاورغبت اسلام کی حقانیت سے متاثرہوکر اسلام کی آغوش رحمت میں پناہ حاصل نہ کر لیں مسلم نوجوانوں کے لئےان سے نکاح کا کوئی جواز ہی نہیں ہے، خاص طورپرمسلم لڑکیوں کو اپناایمان عزیزرکھناضروری ہےیہ وہ قیمتی دولت ہےدنیاکی کوئی نعمت اس کامقابلہ نہیں کرسکتی،یہ ایمان و ایقان ہی مسلم لڑکیوں کوغیرمسلم لڑکوں کےجھانسےمیں پھنسنے سے بچا سکتا ہے۔

اللہ سبحانہ پر ایمان اور پیغمبر اسلام سیدنامحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آخرت پر ایمان اور ایمان سے متعلقہ ضروری عقائد واحکام پر ایمان و یقین سے ایک انسان مسلمان ہوجاتا ہے ،کوئی مسلمان جب اسلامی احکام کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا تو وہ باطل مذاہب کے پیروکاروں سے نکاح کرنا کیسے گوارہ کرسکتاہے ،اسلام ایک حساس مذہب ہے کفر و شرک، فسق وفجور کے ہر روزن پر بندباندھتاہے اس لئے وہ سارے ذرائع جو ناجائز راہ ورسم بڑھانےکےہوسکتے ہیں اسلام ان سے بھی سخت منع کرتا ہے (بنی اسرائیل؍۳۲)۔جب مسلمانوں کا غیر مسلموں سے نکاح ناجائز ہے توپھر اس نکاح کی بنیاد پر ہونے والی اولاد پر ضرور سوالیہ نشان لگے گا اور اس کو جائز اولاد کیسے مانا جاسکے گا؟ ظاہر ہے پھر وہ کفر و شرک کے ماحول میں پرورش پائے گی تو مندروں و گرجاگھروں کو آباد کرے گی یا مساجد کو؟ اس وقت ان عوامل پر نظر کرنے کی ضرورت ہے جو نوجوان نسل کو ارتداد کی راہ سے بچاسکیں،سب سے اہم اور بنیادی بات تو یہ ہے کہ مسلم خاندان اسلامی احکامات سے نابلد ہیں ،اسلامی تعلیم و تربیت کا بھی فقدان ہے، خاندان کے بڑے جب دین و ایمان سے بے بہرہ ہیں تو پھر ان کی سرپرستی میں پرورش پانے والی اولاد کیسے دیندار ہوسکتی ہے ؟

اردو،انگریزی اخبارات میں بکثرت ایسے واقعات شائع ہورہے ہیں جس میں مسلم لڑکیاں غیرمسلم لڑکوں کے عشق ومحبت میں گرفتارہوکرنہ صرف اپنے دین وایمان کا سودا کررہی ہیںبلکہ اپنی عفت وعصمت کا قیمتی جوہر لٹارہی ہیں ،آج سے پچیس تیس سال قبل کا مسلم سماج ایسےبے حیائی کےواقعات سے پاک تھا۔ لیکن مسلم سماج کی دین سے دوری نے الحادوبے دینی کوفروغ دینے میں بڑارول اداکیاہے،الکٹرانک میڈیا وپرنٹ میڈیاسے اکثریہ بات دہرائی جارہی ہے کہ انتہاء پسندکٹرہندوتواکے حامی لیڈرس غیرمسلم لڑکوں کوباضابطہ تربیت دے رہے ہیں کہ وہ مسلم لڑکیوں کواپنے دام فریب میں پھنسا ئیں اوراس سلسلہ میںان کوانعام واکرام سے نوازنےکالالچ بھی دیا جارہاہے،اکثرمسلم لڑکیاں جومخلوط نظام تعلیم یا مخلوط نظام ملازمت پرمبنی اداروں سے وابستہ ہیں وہ بہت جلدان کے جھانسے میں آتی جارہی ہیں۔ چنانچہ مولاناارشدمدنی مدظلہ نےاس بات کو تسلیم کیاہے کہ مخلوط نظام تعلیم کے باعث مسلم لڑکیاں مرتدہورہی ہیں،مولانانے مشورہ دیاہے کہ مسلمان اپنے لڑکوں اورلڑکیوں کےلئے علیحدہ علیحدہ تعلیمی ادارے قائم کریں (۱۰؍جنوری ۲۰۲۳ء روزنامہ منصف)۔

یہ بات بڑی خوش آئندہےکہ کرناٹک میں مسلم طالبات کوحجاب سے منع کرنے پرجہاں وہ حکومتی مخلوط تعلیمی اداروں سے کنارہ کش ہوکراقلیتی اداروں میں داخلہ لےرہی ہیں وہیں مسلم لڑکے بھی خانگی اداروں میں داخلہ حاصل کررہے ہیں۔ ۱۱؍جنوری ۲۰۲۳ء کی ایک اخباری اطلاع کے مطابق’’ حکومت کرناٹک کی جانب سے تعلیمی اداروں میں حجاب پرپابندی کے بعد بہت سے مسلمان طلباء بھی اپنی کمیونٹی کی اسٹوڈنٹس سے اظہاریگانگت کے طورپرسرکاری کالجوں سے پرائیوٹ کالجوں کو منتقل ہوگئے ہیں،ایک مؤقرروزنامہ کے ذریعہ حاصل کردہ اعداد و شمارسے پتہ چلتاہے کہ تعلیمی سال ۲۲۔۲۰۲۱ء کے دوران جملہ ۱۲۹۶ لڑکوں نے کلاس xi (جسے کرناٹک میں پری یونیورسٹی کالج یا پی یوسی بھی کہا جاتاہے)میں داخلہ لیا۔۲۳۔۲۰۲۲ء میں یہ تعداد 1,320درج ہوئی۔ تاہم سرکاری کالجوں میں ۲۲۲۔۲۰۲۱ء میں یہ ۳۸۸مسلم طالبات نے کلاس xiمیں داخلہ لیا تھا اوریہ تعداد۲۳۔۲۰۲۲ء میں گھٹ کر۱۸۶ ہوگئی ہے۔تحقیق کے مطابق اس تعلیمی سال صرف ۹۱ مسلم لڑکیوں نے سرکاری کالجوں میں داخلہ لیاجبکہ ۲۲۔۲۰۲۱ء میں یہ تعداد۱۷۸ تھی،سرکاری کالجوں میں داخلہ لینے والے مسلم لڑکوں کی تعداد ۲۱۰سے گھٹ کر۱۰۰رہ گئی ہے اس کے برعکس ضلع کے خانگی(یا غیر امدادی)پری یونیورسٹی کالجوں میں مسلم طلباء کے اندراج میں اضافہ ہواہے ۔۹۲۷ مسلم طلباء نے پی یوسی ایل میں ۲۳۔ ۲۰۲۲ء میں غیر امدادی کالجوں میں داخلہ لیا جبکہ ۲۲۔۲۰۲۱ء میں یہ تعداد ۶۶۲ تھی ۔مسلم لڑکوں کے داخلہ ۳۳۴ سے بڑھ کر ۴۴۰ اورمسلم لڑکیوں کے داخلہ ۳۲۸ سے بڑھ کر ۴۸۷ ہوگئے ہیں۔ضلع اڈوپی صالحیت پی یوکالج اس رجحان کی ایک مثال ہے،۲۲۔۲۰۲۱ءمیں پی یوسی آئی یا کلا س xi میں ۳۰ مسلم لڑکیاں زیر تعلیم تھیں جو ۲۳۔۲۰۲۲ء میں بڑھ کر۵۷ ہوگئی ہے۔ صالحیت گروپ آف ایجوکیشن کے اڈمنسٹریٹر اسلم ہیکاڈی نے بتایا کہ ان کے پی یوکالج میں مسلم لڑکیوں کا داخلہ پرہی بارتقریبا دوگناہوگیاہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حجاب کے مسئلہ نے حقیقت میں مسلم طالبات پرذاتی اورعلمی طور پر کس طرح اثرڈالاہے ،ریاست کے کئی دیگراضلاع کے پرائیوٹ کالجوں سے بھی اسی طرح کے رحجان کی اطلاع ہے‘‘۔ بسا اوقات شر سے خیرنکلتاہےیہ اس کی مثال ہے۔

مخلوط تعلیمی وملازمتی اداروں کے علاوہ ایسے ناخوشگوارکچھ واقعات مسلم وغیرمسلم ملی جلی بستیوں میں رہائش کی بنا ،کچھ واقعات اپنے گھرسے تعلیمی یا ملازمتی اداروں تک سفرکے دوران پیش آرہے ہیں۔مسلم سماج کے بعض مذہبی وسماجی رہنمائوں کا مانناہے کہ مسلم سماج میں گھوڑے،جوڑے،لین دین کا غیر اسلامی چلن بھی اس کی وجہ ہے،ظاہرہےکسی نہ کسی درجہ میں یہ بات قابل تسلیم ضرورہے لیکن اس کوارتدادکی تمام تر وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا،چونکہ گھوڑے جوڑے ، لین دین اور غیر اسلامی رسوم و رواجات بھی مسلم معاشرہ کی بے دینی کا تسلسل ہیں ،اس میں اور بھی بہت سے عوامل ہیں جن سے صرف نظرنہیں کیا جاسکتا،ان میں بنیادی وجہ اسلامی احکام سے انحراف ہے ،نئی نسل ایسے ماحول میں پرورش پارہی ہے جوبے دینی والحاد اور مادہ پرستی کی راہ پر گامزن ہے،تربیت کا انتظام ا یسی درسگاہوں میں ہے جوبالکلیہ غیراسلامی بلکہ اسلام دشمن ہیں،

مشنری اسکولس وکالجز میں عقیدئہ تثلیث (اللہ سبحانہ،حضرت عیسی اوربی بی مریم علیہما السلام کے خدا ہونے) کی تعلیم ہوتی ہے،اوراسی مشرکانہ عقیدہ پرنسل ِنو پروان چڑھ رہی ہے ،بعض ریاستوں میں ہندومذہبی اشلوک پڑھائے جانے، ’’وندے ماترم ‘‘جیساشرکیہ ترانہ اور’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ جیسے شرکیہ نعرہ لگانےپرجبرکئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ظاہر ہے گھریلودینی عدم تربیت و دینی شعورکے فقدان کی وجہ کچھ مسلم لڑکے ،لڑکیاں اسی غیر اسلامی فکرمیں ڈھل رہے ہیں ماں باپ بھی اس سےفکرمندنہیں ہیں۔ گھریلودینی ماحول اوربڑے بزرگوں کی صحبت کی وجہ دین وایمان کی حفاظت اوراس پراستقامت پہلے آسان تھی،اسلامی ماحول پرمبنی مدارس وجامعات اس کومزید جلا بخشتے تھے،لیکن موجودہ دورکا المیہ یہ ہے کہ بعض گھرانوں سے دینداری رخصت ہے،ماں باپ اورگھرکے بڑے بزرگوں کوہی دین وایمان اوراس کے تقاضوںسے کوئی شناسائی ہے نہ ہی اس کی کوئی پرواہ ،ایمان واسلام،اسلامی اخلاق وکردار،رواداری و شرافت، تہذیب وثقافت سے مسلم سماج ناآشنا ہوتاجارہا ہے۔ جب اس کے منفی نتائج سامنے آتے ہیں تب کہیں جاکر خواب غفلت سے بیدارہونےکی نوبت آتی ہے،اصلاح کی کوئی تدبیر کرنے کی توفیق اس وقت ملتی ہے جب پانی سرسے اونچاہوچکا ہوتاہے ،دین وایمان جیسی عظیم وقیمتی متاع کھوجانے ،عفت وعصمت جیسے قیمتی جوہرکے لٹ جانے کے بعد ہوش آئے تو اس کا کیا فائدہ ۔بقول شاعر ؎

سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے تو کیا کیا

مجموعی طورپرمسلم سماج نے مادی ترقی کی دوڑمیں آگے نکلتے نکلتے اسلام کے بنیادی احکام اور حیاء وحجاب کو خیربادکہدیا ہے ،شادی بیاہ کی تقاریب بھی بے حیائی کے مناظرپیش کررہی ہیں،جوان لڑکیوں کی تعلیم گاہوں کا لباس حیاء باختہ ہے،عام حالات میں بھی شارٹ اسکرٹس یاچست ٹی شٹ، جینس پینٹ اکثر لڑکیوں کا پسندیدہ لباس بن گیاہے،ڈوپٹہ، اوڑھنی اور سترپوش چادر وغیرہ توکبھی کے ہواہوچکے ہیں ،اسلام دشمن طاقتوں نے پردہ وحجاب کودقیانوسیت کی علامت قرار دیدیا ہے، آہستہ آہستہ مسلم سماج نے اس کے زیراثراس(پردہ وحجاب) کی اعلی قدروں کوفراموش کردیا ہے ۔ٹی وی،اسمارٹ فون وغیرہ کے غلط استعمال نے رہی سہی کسرپوری کردی ہے،ان سارے عوامل کو نظر انداز کرکے صرف گھوڑے جوڑے،لین دین وغیرہ جیسی سماجی خرافات ہی کو غیرمسلم لڑکوں سے مسلم لڑکیوں کے روابط کی وجہ قراردینا محل نظرہے۔اس کا ہرگزیہ مطلب نہیں ہے کہ شادی بیاہ کے عنوان سے مسلم سماج میں رائج غیر اسلامی رسوم ورواجات کی حوصلہ افزائی کی جائے،البتہ صرف اسی کومسلم لڑکیوں کے ارتداد کی وجہ قراردینا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے ۔جائزراہ سے صنفی تعلق انسان کی بنیادی ضرورت ہے،

اوراسلام نے نکاح کے باوقار ذریعہ انسان کی اس فطری ضرورت کا سامان کیا ہے، لڑکے ہوں یا لڑکیاں سن بلوغ کوپہنچ جائیں تو ان کے نکاح کرا دینے کی ذمہ داری والدین اور خاندان کے بزرگوں پرعائد ہوتی ہے،حدیث شریف میں وارد ہے ’’جب وہ(اولاد) بالغ ہوجائے اوران کا نکاح نہ کیا جائے جس کی وجہ وہ گناہ میں مبتلاء ہوںتو اس کا گناہ ان کے والد کو ہوگا‘‘ (بیہقی: ۸۶۶۶) اورفرمایا ’’تین چیزوں میں تاخیرمت کرو، نمازجب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ جب حاضر ہوجائے، اور غیرشادی شدہ کیلئے جب کفویعنی برابری کا رشتہ آجائے‘‘ (ترمذی: ۱۵۶) ’’جب تمہارے پاس ایسے لڑکے کا رشتہ آئے جس کے اخلاق اور دینداری پسند یدہ ہوں تو اس رشتہ کو قبول کرلوورنہ زمین میں فتنہ و فساد برپا ہوجائے گا‘‘ (ترمذی: ۱۰۸۴) اس لئے نکاح میں اعلی تعلیم یا مادی وسائل کی تحصیل وغیرہ جیسے امورکووجہ بناکر ہرگز تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ خاص طورپرجب لڑکیاں زیرتعلیم ہوں اور کوئی عمدہ ، دیندار اور کفووالا رشتہ آجائے تو اس کوقبول کرلیاجانا چاہیے اب رہاتعلیم وہ تونکاح کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہے،واقعہ یہ ہے کہ اعلی تعلیم اورمادی وسائل تعیش کی فکر گویا ایک طرح سے جنون کی شکل اختیار کرگئی ہے، لڑکیاں سن بلوغ کی حدکوپارکرکے دس پندرہ سال گزار دیتی ہیں پھرتعلیم ہویا ملازمت وہ بھی مخلوط اداروں میں، نتیجہ ظاہرہے جو اس وقت مسلم سماج لڑکیوں کے غیر مسلموں سے ناجائزروابط بڑھانےاوربعض واقعات میں ارتدارجیسے ناقابل معافی جرم وگناہ کے ارتکاب کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔

بلوغ کے فوری بعد نکاح کا انتظام جہاں عفت وعصمت کا ضامن ہے وہیں اس سے معاشرہ کی پاکیزگی برقراررہتی ہے، زمانہ جس برق رفتاری سے ترقی کی راہ پرگامزن ہے اور خیر القرون سے دوری بڑھتی جارہی ہے اتنی ہی تیزی سے اسلامی ماحول، دیندارانہ اوصاف، مذہبی شناخت اورملی تشخص رخصت ہوتے جارہے ہیں۔ سربراہان خاندان کی دین سے دوری ،مغربی تہذیب وکلچر سے لگائو اورغیر دیندارانہ حال وماحول نے نسل ِنو کومغربی تہذیب وثقافت کا دلدادہ بنادیاہے۔رشتہ نکاح کے سلسلہ میں اب دینداری قابل ترجیح نہیں رہی ہے بلکہ مادی تعیشات، راحت افزا اسباب حیات ،اعلی سہولیات پرمبنی رہائش گاہ، عمدہ سواری، بنک بیلنس،پرکشش مشاہرہ والی ملازمت یا منافع بخش تجارت و کاروبار اورسماجی مقام و مرتبہ (Status) وغیرہ قابل ترجیح قرار پاگئے ہیں۔اس کیلئے حلال اور حرام کی قید بھی غیر اہم ہوتی جارہی ہے ،لڑکی والے جب لڑکے میں ان مادی خوبیوں کی تلاش کرتے ہیں تو لڑکے والے بھی لڑکیوں اوران کے والدین سے ا یسی ہی کچھ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں،اول توہرکوئی حسن وجمال کا متلاشی ہے،حسنِ سیرت پیش نظرنہیںہے،بقول شاعر جبکہ ؎

حسن صورت چند روز، حسن سیرت مستقل

اِس سے خوش ہوتے ہیں لوگ اُس سے خوش ہوتے ہیں دل

پہلی بات تویہ کہ دینداری ،اعلی اخلاق ،اسلامی اقدار، امور خانہ داری وغیرہ میں مہارت جیسی باتیں قصہ پارینہ بنتی جارہی ہے۔ دوسرے گھوڑے ،جوڑے ،عمدہ وقیمتی سامان جہیز، اعلی شادی خانہ کا نظم،لوازمات سے بھرپورطعام کا انتظام،شادی خانہ واسٹیج کی خوبصورت ودیدہ زیب سجاوٹ وغیرہ جیسے مطالبات نے اسلامی سادگی کےواقعات کواسلاف تک محدود کردیا ہے یہی وجہ ہے لڑکی والے بھی لڑکے اورلڑکے والوں کی مالی پوزیشن و سماجی حیثیت سے مرعوب ہوکران کے ہرمطالبہ کوقبول کرنے تیار ہوجاتے ہیں اوربعض ایسے نادان بھی دیکھے گئے ہیں جوراضی خوشی ان کے مطالبات سے کہیں زیادہ دینے کو سماجی وجاہت سمجھتے ہیں اور یہ سب کچھ نام ونمود،شہرت ودکھاوا، فخرومباہات کے اظہار اور اپنی حیثیت وپوزیشن کواونچا دکھانے کی غرض سے ہوتا ہے۔ مصنوعی وعارضی و فانی تعیش اس قدرعزیزہوگیاہے کہ اسلامی احکام واقدارنگاہوں سے اوجھل ہوگئے ہیں،بروقت وبرمحل نکاح نہ ہونا بھی ایک وجہ ہے ،نتیجہ یہ ہے کہ بعض نوجوان لڑکے لڑکیوں کے گناہوں میں مبتلاء ہو نے کے خطرات بڑھ گئے ہیں یا رشتۂ نکاح کے قیام میں جائز و ناجائزکی پرواہ کئے بغیرباطل مذاہب کے پیروکاروں سے رشتے استوار ہوتےجارہے ہیں۔مغربی تہذیب کے پرورد گان کیلئے تویہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے،خلاف اسلام جدیدتہذیب وثقافت نے ان کے دل ودماغ پرقبضہ جمالیا ہے، اس کوذہنی وسعت فکرکا نام دیدیا گیاہے،

مسلم گھرانے میں ضرورپیداہوگئے ہیں لیکن اسلام سے ان کا صرف برائے نام تعلق رہ گیاہے،ہندوستان میں بعض ایسے نامی گرامی خاندان ہیں جہاں شوہر مسلم ہے توبیوی غیرمسلم ، کہیں بہوغیرمسلم ہے تو دامادمسلم۔ یہ توجمہوری ملکوں کا حال ہے ،مسلم ممالک بھی اس (ارتداد) کی زد سے محفوظ نہیں ہیں چنانچہ سعودی عربیہ جواسلام کا مبدأ ومرکزہے چند سال قبل وہاں کی ایک لڑکی ارتدادکی وجہ اس وقت اخبارات کی سرخیوں میں رہی ہے ، العیاذباللہ،دشمنان اسلام ہیں کہ اس کو تحفظ فراہم کرنے میں سبقت کا مظاہرہ کررہے تھے۔حضرت سیدناعلی کّرم اللہ وجہہ ورضی اللہ عنہ سے مروی ہے ’’اندیشہ ہے لوگوں پرایک زمانہ ایسا بھی آئے گا ،اسلام کے نام سے ان کے پاس نام کے سوا کچھ نہیں رہے گا،اورقرآن سے ان کے ہاں اس کے الفاظ وحروف کے سوا کچھ نہیں بچے گا‘‘(شعب الایمان: ۲۷۶) البتہ جن کوایمان عزیزہے خواہ وہ سماجی حیثیت سے کسی رتبہ ومرتبہ کے ہوں ان کیلئے لمحۂ فکرہے،

کیا اب بھی خواب ِغفلت سے بیدارہونے کا وقت نہیں آیا ہے؟دین وایمان اوراسکے تقاضوں کی تکمیل اورحیاء وحجاب،ساترانہ لباس کی پابندی اب بھی اختیارنہیں کی جانی چاہیے؟لڑکے اورخاص طورپرلڑکیوں کی اعلی تعلیم کی فکرکی وجہ ان کے نکاح کے بروقت انتظام سے کیا اب بھی غفلت برتی جانی چاہیے؟مخلوط نظام ِتعلیم اورمخلوط نظام ِملازمت سے کیا اب بھی کنارہ کشی اختیار نہیں کی جانی چاہیے؟ ارشاد باری ہے’’کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ اہل ایمان کے دل یاد ِالٰہی کیلئے جھک جائیں اور اس سچے کلام کیلئے جو نازل کیا گیا ہے ،اور ان لوگوں کی طرح نہ بنیں جنہیں اس سے قبل کتاب دی گئی اس پر دراز مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان کی ایک بڑی تعداد نافرمان بن گئی‘‘ (الحدید ؍۱۶)یادِ الٰہی سے مراد سراپا پیکر ِاسلام بننا بھی ہے اعضاء و جوارح اور حال و ماحول سے اسلام کا عملی پیغام دینا بھی ہے ،یاد ِحق سے دلوں کو تجلیاتِ الہی کی جلوہ گاہ بنانا بھی ہے اور اپنی زبانوں کو ذکر ِالہی سے تررکھنا بھی ہے ۔اس تناظر میں دلوں کی دنیا میں ایک ایسے انقلاب کی ضرورت ہے جس سے انسانی قلوب اسلامی احکام کے آگے جھکے رہیں اور وہ سرِتسلیم خم کئے ہوئے اسلامی احکامات پر عمل پیرا رہیں ظاہر ہے ایسے افراد ہی صالح انقلاب کے نقیب بن سکتے ہیں۔

مفتی حافظ سیدصادق محی الدین فہیمؔ
Cell No. 9848862786