تھانے(آفتاب شیخ)بیشتر مسلم بچیاں جن کا رابطہ کام ، تعلیم کے سلسلہ میں باہر مسلم یا غیر مسلم قسم کے لڑکوں یا مردوں سے ہوتا ہے انکے تبدیلی مذہب ، مرتد ہونے اور غیر مسلم لڑکوں سے شادیاں کرانے کا سلسلہ نہ صرف ممبئی یا کسی اور جگہ بلکہ پورے ملک میں دن بہ دن بڑھتا ہی جارہا ہے ایسے کئی معاملات ممبر امیں بھی پیش آچکے ہیں ۔ جس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ممبرا شیل پھاٹا پر واقع دارالعلوم مخدوم سمنانی ؒ کے بانی و ناظم علامہ جمال احمد صدیقی قادری اشرفی نےایک کتاب بنام’ مسلم لڑکیاں فتنہ ارتداد کے جال میں ، اسباب وحل‘ مرتب کی جس کا ممبر اکے سویرا فاؤنڈیشن کے دفتر میں انتہائی سادگی سے ائمہ مساجد و علمائے کرام و سماجی کارکنان کی موجودگی میں عمل میں آئی ۔

اسی طرح یہاں موجود حافظ سکندر اور مولانا اسرار برکاتی نے کہا کہ اسے ہندی و اردو میں کیا جائے تاکہ اردو سے نابلد بچیاں اور انکے والدین بھی اسے پڑھ سکیں ۔ اس دوران مولانا جمال احمد صدیقی نے کہا کہ آج خواتین اور لڑکیاں اسلام سے دوری کا سبب یہ ہے کہ مرد حضرات تو دینی جلسوں جلوس ، اجتماعات، مجالس، جماعت ، قافلوں میں یا پھر کہیں نہیں تو ہفتہ میں ایک دن جمعہ کو ہی صحیح مسجد جاتے ہیں جہاں وہ دینی باتوں کوچند منٹ ہی صحیح لیکن سنتے تو ہیں ۔ لیکن وہیں دوسری جانب ہماری اسلامی خواتین ، بچیوں کے لئے ایسا کوئی عام طور پر اہتمام نہیں ہے جب کہ آج کے حالات و اس کتاب کو دیکھتے ہوئے میرے خیال سے ضروری ہے کہ خواتین کے اجتماعت ، انکے لئے خصوصی دینی پروگرام جگہ جگہ ، محلہ محلہ سوسائٹیوں میں ، ہال میں منعقد کرائے جائیں جہاں مبلغائیں و عالمائیں پہنچ کر انھیں اسلام کی عظمت ، حالات حاضرہ میں کن کن طریقوں سے اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے اسکی جانکاری اسلام کی بنیادی باتیں بتا سکیں ۔

کتاب کے مصنف مولانا جمال احمد صدیقی قادری اشرفی نےبتایا کہ ملک بھر میں لو جہاد نام کا ایک شوشہ چھوڑ کر اسکی آڑ میں دشمنان اسلام تنظیمیں مسلمانوں کی بھولی بھالی بچیوں کو کالجوں میں ، آفسوں میں ، اس طرح کام کاج کی جگہوں پر اپنی فرضی محبت کے جال میں پھنساتے ہیں ان سے غیر عقد ہندو رسم و رواج کے تحت شادی کر رہے ہیں ان سے غیر اسلامی کام کرواکے انھیں مرتد(خارج اسلام) کرلیتے ہیں اور پھر ایک ڈیڑھ سال بعد جب ایکاد بچہ ہوجاتا ہے لڑکی کو چھوڑ دیتے ہیں اس طرح کے واقعات شہروں ، قصبوں ، دیہاتوں گرچہ ہر جگہ دیکھنے وسننے کو مل رہے ہیں اب یہ بچی جب واپس لوٹ کر اپنے والدین کے یہاں آتی ہے تو اسے کوئی اپنانے کو تیار نہیں ہوتا اور اپنائے بھی تو کیسے ؟ یابیشتر والدین اسے گھر میں لینے سے انکار کردیتے ہیں ۔ وہیں اگرچہ کوئی مسلم نوجوان کسی غیر مسلم لڑکی سے شادی کرتا ہے یا کسی دور میں کیا تھا تو آج اسکے خلاف کئی ریاستوں میں ایکٹ بنا دیئے گئے ہیں اور اسے قانونی سماجی اذیت دینے کا سلسلہ چل رہا ہے ۔ اس لئے امت کے ہر فرد کو اور ہر عالم دین اور تھوڑی سی بھی دین سے محبت رکھنے والے شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس پر کام کرے غور کرے اور اسی لئے میں نے یہ کتاب لکھی ہے ۔ اس رسم اجراءمیں بزرگ عالم دین مولانا ہدایت اللہ نے بتایا کہ یہ کتاب وقت کی ضرور ت ہے لیکن ضروری ہے کہ اسے انگریزی و ہندی میں لکھا جائے اور ہر اسکول کالج کی بچیوں تک پہنچایا جائے ساتھ ہی اسے لڑکیوں کے ہاتھوں تک بھیجا جائے اسکی مزید پرنٹ کرانے کی ضرورت ہے جو صرف مولانا جمال کے اکیلے کی بس کی بات نہیں ہے ۔