مسلم شخص نے ہندو بچہ کوخون دے کر جان بچائی

304

چھترپور: مدھیہ پردیش کے ضلع چھترپور میں بے لوث خدمت میں ایک مسلم شخص نے انیمیا(خون کی کمی) سے دوچار 60 دن کے ہندو بچہ کی جان بچانے کیلئے خون کا عطیہ دیا۔ ہفتہ کے دن بچہ کے بارے میں فون آنے پر36 سالہ رفعت خان نے ایک سکنڈ کے لئے بھی نہیں سوچا اور موٹرسیکل دوڑا کر ضلع ہسپتال پہنچ گیا۔رفعت خان نماز کے لئے گھر سے نکلنے ہی والا تھا کہ اسے وکاس گپتا کے تعلق سے فون کال آئی کہ اسے اے پازیٹیو خون کی شدید ضرورت ہے۔ رفعت خان نے آج پی ٹی آئی کو بتایاکہ اس نے ایک سکنڈ بھی نہیں سوچا‘ اپنی موٹرسیکل نکالی اور بیماربچہ کو خون دینے سیدھا ضلع ہسپتال پہنچ گیا۔

لڑکے کے باپ جتیندر نے جو موضع منوریہ کا رہنے والا ہے خون نہ ملنے اور ایک بروکر سے دھوکہ کھانے کے بعد رفعت خان کو فون کیاتھا۔ بروکر نے 750 روپئے لئے لیکن خون کا انتظام نہیں کیا۔ جتیندر نے پی ٹی آئی سے کہا کہ اب میرے بیٹے کی صحت بہتر ہے۔

رفعت خان‘ فرشتہ کی طرح آیا اور اس نے مسکراہٹ کے ساتھ خون کا عطیہ دیا جس کی میرے بچہ کو شدید ضرورت تھی۔ پیڈیاٹریشن (ماہرامراض اطفال) ڈاکٹرکیش پرجاپتی نے جو ڈسٹرکٹ ہاسپٹل میں انچارج اسپیشل نیوبارن کیریونٹ ہیں بتایاکہ خون ملنے کے بعد بچہ کی حالت مستحکم ہے۔ رفعت خان نے خون کا عطیہ پہلی بار نہیں دیا ہے۔ وہ ایک سال میں کم ازکم 13 مرتبہ عطیہ دے چکا ہے۔