مسلم ریزرویشن کے معاملے میں ہماری نیت صاف ہے :شرد پوار

ممبئی 11؍مارچ (یو این آئی )مسلمانوں کو مہاراشٹر میں تعلیمی معاملات اور سرکاری نوکریوں کے معاملے میں پانچ فیصد ریزرویشن دیئے جانے کے معاملے میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کی نیت بالکل صاف ہے اور اس کا اعلان گزشتہ دنوں اقلیتی امور وزیر نواب ملک نے ریاستی اسمبلی کےجاری بجٹ اجلاس کے دوران قانون ساز کونسل میں کیا ہے ۔
راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد آج یہاں ودھان بھون میںاخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے شردپوار نے کہا کہ مہاراشٹر کی حکومت مستحکم ہےاور مدھیہ پردیش کی طرح یہاں پر کسی بھی قسم کا سیاسی ڈرامہ نہ ہی رچا جائے گا اور نہ اس قسم کی کوشش کو برداشت کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر جیودتی رادتیہ سندھیا نے لوک سبھا انتخابات میں شکست حاصل کرنے کے بعد بازآبادکاری کیلئے بی جے پی میں شامل ہونے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ زیادہ دنوں تک برقرار نہیں رہے گا نیز مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی کمل ناتھ ایک سلجھے ذہن کے سیاستداں ہیں اور کرشماتی طور پر وہ اپنی حکومت بچا لینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ ایک دو دن میں کمل ناتھ کے اس کرشمہ سے پورے ملک کو واقفیت ہو جائے گی ۔
یس بینک کے گھپلے کے تعلق سے شردپوار نے کہا کہ ایک دو دنوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ملک کے اقتصادی حالات ایک تشویش ناک صورت حال اختیار کر رہی ہے اس پر فوری طور پر قابو پایا جانا ضروری ہے ۔شردپوار نے مزید کہا کہ ممتا بنرجی ، ایچ ڈی دیو گوڑا ، سیتارام یچوری اور یشونت سنہا نے ان کے ہمراہ ایک خط پر دستخط کیئے ہیں جس میں وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلی فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو فوری طورپر رہا کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ آخر ان وزرائے اعلی کا کیا قصور ہے اور عوام کے جذبات سے کھیلنے کا حکومت کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔