جموں و کشمیر میں ہی مسلمان اقلیتی فوائد حاصل کر رہے ہیں، مرکزسے سپریم کورٹ کی وضاحت طلبی
نئی دہلی : سپریم کورٹ نے آج مودی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ مسلمانوں کے بشمول دیگر چار طبقات کے اکثریتی علاقوں کو اقلیت قرار دینے مرکز کے اعلامیہ کے خلاف مختلف ہائی کورٹس میں داخل کردہ درخواستوں کی منتقلی کیلئے کی گئی اپیل پر سپریم کورٹ نے مرکز سے وضاحت طلب کی ہے۔ حکومت نے پانچ طبقات مسلمانوں ، عیسائیوں ، سکھوں ، بدھسٹوں اور پارسیوں کو جن ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں جہاں وہ اکثریت میں ہیں، انہیں اقلیتوں کے زمرہ میں لایا ہے۔

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس اے ایس بوپنا اور وی راما سبرامنین پر مشتمل بنچ نے وزارت داخلی امور ، وزارت قانون و انصاف اور وزارت اقلیتی امور کو نوٹس جاری کی ہیں۔ دہلی ، میگھالیہ اور گوہاٹی کی ہائی کورٹس میں قومی کمیشن برائے اقلیتی قانون 1992 کے شق 2(C) کی دستوری افادیت کو چیلنج کیا گیا ہے۔ مرکز کے اس اعلامیہ میں اس پانچ طبقات کو ملک بھر میں اقلیتی طبقات قرار دیا گیا ہے ۔ اس سے ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے کہ پنجاب میں سکھوں کی آبادی زیادہ ہے۔ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی ہے۔ یہ دونوں طبقات اقلیتوں کو ملنے والے فوائد سے استفادہ کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے بی جے پی لیڈر اور اشونی اوپادھیائے کی جانب سے جاری کردہ درخواست پر سماعت ہورہی ہے۔

اس درخواست میں سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس مسئلہ پر تمام ہائی کورٹس سے ان کیسوں کو سپریم کورٹ منتقل کریں تاکہ سماعت ہوسکے ۔ اوپادھیائے کی طرف سے سی ایس ودیاناتھن سینئر ایڈوکیٹ نے پیروی کی ۔ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ مسلمان جن علاقوں میں اکثریتی موقف رکھتے ہیں ، وہ اقلیتوں کو ملنے والے فوائد سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ اس عمل کو روکنے کیلئے حکومت کے اعلامیہ کو چیلنج کیا گیا ہے۔ قومی کمیشن برائے اقلیتی طبقات قانون کے تحت کئی علاقوں میں ہندوؤں کو اقلیت قرار نہیں دیا گیا اس لئے ہندو اقلیتی موقف نہیں رکھتے اور انہیں اقلیتوں کو ملنے والے فوائد بھی حاصل نہیں ہورہے ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں